شاعری

تعریف کا خراج فہمیدہ ریاض کو

تاریخ کی خونی گلی تھی، اور فہمیدہ ریاض ٹارچر سیلوں میں تھے کڑیل جوان گمشدہ جن کی جوانی گمشدہ تاریخ کی خونی گلی تھی اور فہمہدہ ریاض عورتیں سنگسار تھیں اورُگناہگارُمحبت آدمی اورانکاری جبیں انسان کی وقت کے سارے خدائوں کے قہر کے سامنے سینہ سپر ایک فہمیدہ ریا ض۔ ...

مزید پڑھیں »

سندھ دا جوگی

کل راھ تے ویندے ھوئیں میکوں ہک جوگی ٹکرے آکھن لگا ،میڈا بچڑا میں سندھ دریا دی من جمیاں میڈی ساری عمراں سندھ دے کٹھے ھنڈ گئی ھن میں بڈھا تھی گئیاں کہیں ڈیہاڑے واہندے وگدے اگلے پندھ تے ٹر پوساں میڈے مرن پچھوں میڈی ہک اکشا پوری کریں میڈیاں ...

مزید پڑھیں »

تماشا گاہ دنیا میں

اڑیں مہکی ہوئی زلفیں جھکیں بے باک سی نظریں بہکنے کو چلیں سانسیں الجھنے کو کہیں باہیں مگر دل میں دبے یہ کاغذی جزبے ضرورت سے بندھے بے نام دھوکے ہیں نہ صبحیں سورجوں کے رنگ پہنے ہیں نہ راتوں کے لئے چندا کے گہنے ہیں نگاہوں نے گھڑی کی ...

مزید پڑھیں »

دعا

آئیے عرض گزاریں کہ نگارِ ہستی زہرِ امروز میں شیرینیِ فردا بھردے وہ جنہیں تاب گراں باریِ ایام نہیں اُن کی پلکوں پہ شب وروز کو ہلکا کردے جن کی آنکھوں کو رُخِ صبح کا یارا بھی نہیں اُن کی راتوں میں کوئی شمع منور کردے جن کی قدموں کو ...

مزید پڑھیں »

سرمدی آگ

سرمدی آگ تھی یا ابد کاکوئی استعارہ تھی، چکھی تھی جو کیسی لوتھی!۔ خنک سی تپک تھی تذبذب کے جتنے بھی چھینٹے دئے اوربڑھتی گئی دھڑکنوں میں دھڑکتی ہوئی سانس میں راگ اورسرْ سی بہتی ہوئی پھول سے جیسے جلتے توے پرہنسیں ننھے ننھے ستاروں کے وہ گل کھلا تی ...

مزید پڑھیں »

ہم ہیں ۔۔۔۔۔۔ حالانکہ نہیں ہیں ۔۔

ہم نے ایک دوسرے کو ایک دوسرے سے چرایا اوراس کنویں میں چھپا دیا جسے بلیک ہول کہتے ہیں ہم تھے۔۔۔۔۔۔۔۔مگرنہیں تھے پھر۔۔۔۔۔ وقت کے ہیرپھیرنے، اتھل پتھل نے کا ئنات کا سارا لکھا مٹا دیا سارا بنا بگاڑ دیا مشرق سے مغرب تک شمال سے جنوب تک زمیں پرنقطوں ...

مزید پڑھیں »

راج کرے سردار

بچے رو رو نین گنوائیں بوڑھے در در ٹھوکر کھائیں چُھپ چُھپ مائیں نیر بہائیں بھیک ملے نہ ادھار، رے بھیا راج کرے سردار بلک بلک کر بچے روئیں بھوکے پیٹ سجنوا سوئیں سجنی گھر کی لاج ڈبوئیں توند بھرے زردار، رے بھیا راج کرے سردار بھوکی، ننگی قوم بچاری ...

مزید پڑھیں »

آزادی کی آزردگی

تم اپنے آنکھوں کی بینائی گنواتے ہو اپنے دمکتے ہاتھوں کو مزدور بناتے ہو اُن درجنوں روٹیوں کا آٹا گوندھتے ہو جن میں سے ایک نوالا بھی نہ چَکھ پاو تُم آزاد ہو ، دوسروں کے غلام بننے کو امُراء کو اور امیر کرنے کو، تُم آزاد ہو وہ جس ...

مزید پڑھیں »

محبت کا سر کاری ملازم

سانپ سیڑھی کھیل نے زہریلے سانپوں سے رنگوں کی کاشت کچھ یوں کی محبت سرکاری ملازم ہو گئی جووقت پہ سوتی جاگتی ، کھاتی پیتی تو ہے لیکن کنڈلی مارے بیٹھی رہتی ہے زہریلے ناگ رنگین ہوتے جاتے ہیں اور محبت اور بهی خفتہ محبت کا سرکاری ملازم زپر باد ...

مزید پڑھیں »