شاعری

~ میں پھر اُٹھوں گی ~ تم جو چاہو تو ایسی تاریخ لکھو جو صرف جھوٹ اور فریب ہو اور مِرے وجود کو خاک آلود کردو لیکن خاک کی مانند، میں پھر اٹھوں گی! کیا میری شوخیاں تمھیں مایوس کر گئی ہیں؟ اور سیاہ بادلوں نے تم پہ اُداس اندھیرا ...

مزید پڑھیں »

****

  مدد چاہتی ہے یہ حوّا کی بیٹی مدد چاہتی ہے یہ حوّا کی بیٹی یشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی پیمبر کی امت، زلیخا کی بیٹی ثنا خوانِ تقدیس مشرق کہاں ہیں؟ یہ کوچے یہ نیلام گھر دلکشی کے یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے کہاں ہیں کہاں ...

مزید پڑھیں »

دستور سازی کے گونگے لفظ

متروک بولیاں سمجھنے کے الزام میں مجھے جلاوطنی کے تپتے صحرا میں لا پٹختی غلافی آنکھیں سر بریدہ …..نوک مژگاں, سوئیوں کے بوجھ تلے نیم وا مگر ان الزامات نے بدن کے مساموں سے پھوٹتے پسینے سے کئ بھید کھولے متروک بولیاں, نافہم لفظ آوازوں کے جنگل میں اب رائج ...

مزید پڑھیں »

گیت اُس کے نام کا

کھنکتی چوڑی، چھنکتی پائل ہونٹوں کی لالی، آنکھوں کا کاجل ہتھیلی پہ مہندی شگن کی لیئے ہاتھوں میں پہنے چمپا کے کنگن ایک ہی نام کا وِرد کرتی رہے ایسی دھڑکن او میرے ساحر تو پڑھ ایسا منتر کوئی اسمِ اعظم کہ کُن کی صدا گونج اُٹھے برکھا ہو ایسی ...

مزید پڑھیں »

کانفرنس برائے انسانی حقوق

کانفرنس کا موضوع تھا ’’انسانی حقوق’’ ’’ میرا شوق ہاتھ تھام کے لے اڑا ’’ انسانی حقوق ’’ کی محفل میں معززین کا ہجوم تھا مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پچھلی نشستوں پر بیٹھی میں اور میری نادانی ہر تقریر ہر مقالے میں ا نہیں ڈھونڈتی رہی جو انسان کی شکل کے تو ہوتے ...

مزید پڑھیں »

بلقیس

  بلقیس۔۔ اے شہزادی! جلتی ہوئی ، قبائلی جنگوں میں گھری اپنی ملکہ کی رخصتی پہ میں کیا لکھوں؟ بیشک،لفظ مُجھے الجھائے جاتے ہیں ۔۔۔ زخمیوں کے ایسے یہاں انبار دیکھوں ٹوٹے ہوئے تاروں کے جیسے جسم ٹوٹے ہوئے شیشے کے ٹکڑوں کے جیسے جسم یہاں میں پوچھتا ہوں، اے ...

مزید پڑھیں »

ضرورت!!!

مجھے افسانوی باتیں کرنی نہیں آتیں پر میرا تمہارا کنکشن افسانوی ہے ہاتھ وہ نہیں لکھتا جو ذہن سوچتا ہے ذہن اور قلم کا درمیانی راستہ آساں نہیں ہوتا مصلحتوں کے پہاڑ اور تحفظات کے سمندر عبور کرنے پڑتے ہیں تُم کتاب کا کور دیکھ کر مضمون بھانپ لیتے ہو ...

مزید پڑھیں »

غزل

  مکیں ادھر کے ہیں لیکن ادھر کی سوچتے ہیں جب آگ گھر میں لگی ہو تو گھر کی سوچتے ہیں کہ جب زمین ہی سیلِ بلا کی زد میں ہو تو پھر ثمر کی نہیں پھر شجر کی سوچتے ہیں اُڑے تو طے ہی نہ کی حدِ آشیاں بندی ...

مزید پڑھیں »

اعلانِ وفا

  مُجھے تو یہ لگتا تھا کہ تم بے قیمت ہو کہ ترے مہر و وفا کے کوئی نہ دام بھر سکتا معلوم نہ تھا کہ کھنکھناتے سِکوں کے دو ٹکوں میں بِک جاو گی رُخساروں کی سُرخی مدہوش جوانی لبوں کی لالی زلفوں کا سایہ باہوں کا قاتل گھیرا ...

مزید پڑھیں »