شاعری

پو

میں گروی رکھی گئی آنکھوں میں بسا خواب ہوں لا محدود سمندر میں تیرتے جزیروں کا جہاں مہاجر پرندے گھڑی بھر بسیرا کرتے ہیں نیلگوں پانیوں کا ساحلوں کے کنارے چمکتی رہت کا وہ خواب جو بہہ نکلتا ہے نمکین قطرے کی صورت میں وہ آزاد روح ہوں جو غلام ...

مزید پڑھیں »

دیواروں کے پیچھے

پھرکل رات مری آنکھیں بے خواب رہیں کمرے کی ساکت دیواروں کے اس پار وہی گرجتا وحشی لہجہ گھٹی گھٹی سسکی کو کتنی بے رحمی سے نوچ رہا تھا ڈوبتی رات کے سنا ٹے میں اس کی مد د کو کسے پکاروں کون آئے گا ؟ اکثرمیری بے چینی نے ...

مزید پڑھیں »

آخری سدھارتھ (پروفیسر یوسف حسن کے لیے) مرا یوسف

مرا یوسف حسن الفاظ سے غزلیں بناتا ہے بدلنے کی نئی راہیں سُجھاتا اور بستر کے تلے سب پھینک دیتا ہے کہیں بیٹھا ہوا سگریٹ کے لمبے کش لگا لیتا ہے ٹھنڈی چائے سے حلقوم کڑوا کررہا ہے رضائی اوڑھ کر نیندوں میں جاتا ہڑبڑا کر جاگ اٹھتا دیکھتا ہے ...

مزید پڑھیں »

پرندے کچھ تو کہتے ہیں

پرندے اُجلے دن کی پہلی ساعت سے بھی پہلے جاگ جاتے ہیں رسیلی ، میٹھی تانیں چھیڑتے ، کھڑکی بجاتے ہیں پرندے نیند کی گاگر الٹ کر مسکراتے ہیں مرے گھر سے نکل کر دور جاتے راستے پر پھیلی تنہائی کی شاخیں توڑتے ہیں ۔۔۔ کھلکھلاتے ہیں ہوائوں کو جھُلاتے ...

مزید پڑھیں »

ہم اپنی اپنی خصلتوں پر جی رہے ہیں

تم خوف ایجاد کرتے ہو پھر پناہ گاہیں تعمیر کرتے ہو تم موت بانٹتے ہو پھر کفن بیچتے ہو زمین کی پر تیں ادھیڑ کے بارودی سرنگیں بچھا دیں شہر تاراج کرکے بی بیوں کی بیوگی اور بچوں کی یتیمی کے لئے طیاروں سے ہمدردی کے منا ظر کمبل اور ...

مزید پڑھیں »

محراب

دیوتابپھرے چنگھاڑتے پھرتے ہیں کالی جبینیں،ناتریشیدا بال اپنے اپنے شبدوں کی تسبیحاں کرتے دندناتے چوڑی چھاتیاں لیے تکبر کے خمیر میں گندھے فتووں کی تلاش میں کوشاں ادھر تو جبیں موحد ہے دل جھکتا نہیں روح تڑپتی نہیں قدم مستقیم ہیں ہتھیلیاں سلی ہوئی۔ مگر وہ دیوتا اپنی بدبوگار غلیظ ...

مزید پڑھیں »

ایک نثری نظم

کیسی لگے گی یہ دُنیا کرونا کے بعد ، یہ عقدہ کون کھولے گا ؟ پھیلتی جارہی ہے وبا کی دہشت صدی کی سب سے بڑی آفت نے اچانک ہی ہمیں آلیا قدموں تلے زمین سرکتی جارہی ہے ہوائیں مغرب سے مشرق کی طرف چل پڑیں دیکھو! عظیم قومیں ،کس ...

مزید پڑھیں »

نظم

بے پر کی تیتری کی بوڑھی آنکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انتظار کی دہلیز پر پڑی یہ بوڑھی آنکھیں برسوں سے انتظار میں ہیں انتظار! جو خود بھی بوڑھا ہو چُکا ہے اِک ایسی کل کے انتظار میں جو اب تک نہیں آئی! اور اسی کل کے انتظار نے بچپن کے ہاتھوں سے ...

مزید پڑھیں »

اک پھل موتیے دا

تانی تنی ہے وسیب اپنے کی، دل میں رونق جمی ہے ماہیوں کی،ٹپوں کی لے ہے دوہڑوں کی،ہاڑوں کی تانیں روحیں پگھلتی ہیں،کھنچتی ہیں جانیں "بازار( دے وچ) وکاندی نیں چھریاں” "(ماہی وے)عشقے دی چوٹاں نیں بریاں” "بازار( دے وچ)وکاندی اے لوئی” "ترے باجھ( ماہی او) دردی نہ کوئی” میں ...

مزید پڑھیں »