شاعری

ہمر کاب

  اس گھڑی کو سلام!۔ تجھ سے جو جوڑتی ہے ہمیں!۔ شعر کی اس کڑی کو سلام!۔ اشک پیتے ہوئے ، گنگناتے ہوئے زخم کھاتے ہوئے مسکراتے ہوئے کچھ سنبھتے ہوئے لڑکھڑا تے ہوئے پیش پا قافلے!۔ ہم ترے ہمر کاب  

مزید پڑھیں »

کانفرنس برائے انسانی حقوق

کانفرنس کا موضوع تھا ’’انسانی حقوق’’ ’’ میرا شوق ہاتھ تھام کے لے اڑا ’’ انسانی حقوق ’’ کی محفل میں معززین کا ہجوم تھا مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پچھلی نشستوں پر بیٹھی میں اور میری نادانی ہر تقریر ہر مقالے میں ا نہیں ڈھونڈتی رہی جو انسان کی شکل کے تو ہوتے ...

مزید پڑھیں »

60/ ڈگری پر اٹکی زندگی…

آدھی موت آدھی خوشیاں آدھے غم ادھورے پل تشنہ لمحے آدھی نیند نا آسودہ خواب تشنہ ملن ادھوری جدائیاں تقسیم کا عمل ضرب کے عمل سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہگ ترازو کا پلڑا 60/ ڈگری پر اٹکا ادھورے لمحوں کی صلیب پہ لرزتا رہتا ہے ہماری قبریں تازہ پانی ...

مزید پڑھیں »

اے بھٹائی

اے بھٹائی پیر و مرشد! اے اسیرِ حُسنِ ذات بےنیازِ رنگ و بُوئے کائنات اے ثباتِ بےثبات میں کہ ہوں محوِ صفات اِس طلسمِ ہاٶ ہُو میں روز و شب بےسبب اور بےادب کائناتِ بےکراں کو مسترد کرتا تھا میں رد و کد کرتا تھا میں آج پھر میں تیرے ...

مزید پڑھیں »

دانیال طریر کی کچھ نظمیں

  من تو شدم۔۔ کتنے دن سے ہونٹ صحرا کی سلگتی ریت کے اوپر پڑے ہیں جل رہے ہیں اب انہیں جھرنے پہ رکھ دو کھردری بوری پہ دیکھو جسم کب سے چھل رہا ہے روئی لے کر برف کی اک نرم سا بستر بنادو کتنی مدت سے نہیں سویا ...

مزید پڑھیں »

کھویا ہوا دن

  ہمیں کیا پڑی تھی ۔۔۔۔ درختوں پہ بیٹھی ہوا کو اڑایا سویرے سے پہلے چمکتا ستارا بجھایا ۔۔۔۔ مدھر نیند میں کھوئے بادل پلٹ کر گلابی خراشیں جمائیں۔۔۔ اجالے کے رستے پہ بیٹھے ہوئے پھول مسلے ۔۔۔۔ لرزتی ہوئی اوس کی نرم بوندوں میں سرخی بھری اورکھڑکی پہ انگارا ...

مزید پڑھیں »

سچ بولو گے؟۔۔۔۔

  انسانوں کے بھیس میں بیٹھے وحشی کو وحشی بولو گے۔۔۔۔ کٹ جاؤ گے مر جاؤ گے دیواروں میں چنواؤ گے زندانوں میں جل جاؤ گے سچ بولو گے؟ مر جاؤ گے بیچ سڑک میں آ کر کوئی چند پیسوں کی اک گولی سے چھین کے سانسیں لے جائے گا ...

مزید پڑھیں »

انسانیت

  میرے چاروں طرف میں ہوں!۔ مگر کچھ اجنبی ٹوٹے ہوئے چہرے، پرانے لوگ ، اور انجان، ان دیکھے سے سایے مجھ کو پیار میں نجانے کیوں؟ عزیزوں،خون کے رشتوں سے زیادہ آج کل مجھ کو بھکاری ، اور وہ مزدور مجھ کو اپنے لگتے ہیں!۔ میں جب بھی اُن ...

مزید پڑھیں »

خواب

  دھمم دھمام ڈھول پر وہ دلنواز موگری برس پڑی تو خلق کے ہجوم ناچنے لگے فضائیں ناچنے لگیں ہوائیں ناچنے لگیں وہ جوش ، وہ خروش رونما ہوا کہ عرش سے زمیں کو جھانکتے ہوئے نجوم ناچنے لگے مگر یہ خواب دیر تک چلا نہیں (سراب جوئے آب میں ...

مزید پڑھیں »

PARASITE CLASS

  بستی بستی نام ہے جن کا جن کے چرچے قریہ قریہ جن کے گرد بنے ہیں ہالے تیز سنہرے رنگوں والے جن کے پاس ہیں جال نرالے مقناطیسی دھاگوں والے جن کے پاس طلسم ہیں ایسے جو بھی ان کی جانب دیکھے بس وہ ان کی جانب دیکھے جو ...

مزید پڑھیں »