شاعری

ساحر لدھیانوی

  منہدم فصیلوں میں زندگی سے آویزش ابتدا سخن کی ہے خواب ہیںخمیدہ سر سوچ پر گرفتِ سخت بے بسی ہے صد پایہ بے کنار محرومی بستیوں میں پھیلی ہے اک طرف ہیںجاگیریں اور دوسری جانب ایک مادرِ بے کس تار تار چادر سے جس نے ڈھانپ رکھا ہے مضمحل ...

مزید پڑھیں »

*

مِیہنہ دا مَلُوک پانڑیں تَلی تیں تَل بنڑیے ہِن مُونجھیں دے بَند بَندوڑے ہِجریں دے ہَل بنڑیے ہِن جُھمر دی کھیڈ کھیڈوں پیریں تیں گھنگھرو بَدھ کیں اللہ دے گھر ٹَھکوریاں سُریں دے ٹَل بنڑیے ہِن سِتراں تیں دُھوڑ اج دی ویڑھا بُہار پاگل چانݨ دے ہِیٹھ تارے اجاں تاں ...

مزید پڑھیں »

پارچہ باف

  بوسیدگی کی دیواروں سے بنا گھر ہے۔ جس کی چھت سے کبھی موہوم تو کبھی مفلسی کے جالے لگے رہتے ہیں۔ اسی چھت کی منڈیر پر ببرا دن بھر کی تھکن دور کرنے کیلئے سرِ شام وشرام کرنے آتا ہے۔ اس کی نظریں شفیق جولاہے پر پڑتی ہیں۔ جو ...

مزید پڑھیں »

*

میں تینوں فیر ملاں گی کِتھے؟ کس طرح؟ پتا نہیں شاید تیرے تخیل دی چھنک بن کے تیرے کینوس تے اتراں گی یا ہورے تیرے کینوس دے اُتے اک رہسمئی لکیر بن کے خاموش تینوں تکدی رواں گی یا ہورے سورج دی لو بن کے تیرے رنگاں اچ گھُلا گی ...

مزید پڑھیں »

*

راستہ ایسا بچھایا گر پڑے ہم گر پڑے منزلوں نے یوں اٹھایا گر پڑے ہم گر پڑے وقت کے زینوں سے اٹھے تھے ہمارے تو قدم اس نے کیا چکّر چلایا گر پڑے ہم گر پڑے مست بے خود جھومتے ہی جا رہے تھے رقص میں جوں جوں ہم کو ...

مزید پڑھیں »

درد

درد کی کوئی شکل مُرتّب ہو پاتی تو درد کوئی آہو ہی ہوتا درد کوئی قطرہ ہوتا تو ممکن تھا آنسو ہی ہوتا درد کی کوئی شکل مُرتّب ہو پاتی تو درد دِیا یا مندر ہوتا درد مسیت یا کوئی گرجا یا پِھر شاید منبر ہوتا درد کوئی موسم ہوتا ...

مزید پڑھیں »

تخلیق

  بہت سی ادھوری کہانیاں میرے گیسوئووں کی بل کھاتی زہریلی ناگنوں میں پھنکارتی ہیں ہمیں مکمل تو کردو، کہ ہم سانس لینا چاہتی ہیں ہمارے عنوان، خزاں کے پتوں پہ قلم تھے جو نا جانے کب کے خس وخاشاک ہوگئے کہ تم بہاروں سے بھاگتے بھاگتے پرانے برگد کے ...

مزید پڑھیں »

نیلامی!!!

سوال کیا ہے؟ بظاہر کُچھ نہیں پر کُچھ تو ہے جو نوکیلے پنجے گاڑے ہوئے ہے جیسے کوئی خون آشام درندہ دانت نکوسے گھات میں ہو ذہن وہی سوچتا ہے جو آنکھیں دیکھتی ہیں اندر کُوئی ہے جو وقت بے وقت ستاتا ہے یہ بے کلی برداشت نہیں ہوتی پھر ...

مزید پڑھیں »

Hallucination

  ہمارے جسم کوہ ہسار و دشت سے دھتکارے جانے کے بعد بلا جواز دربدر بھٹکتے رہے۔ ہمارے سینے کوہِ آتش فشاں کی مانند دہکے۔ ہماری نرمل پوریں ہجرستانی کوچوں پر سفید رت سے ہمارے بوسیدہ خال و خد تراشنے لگیں۔ ہمارے نرم قدم بےمٹل چلتے رہے، عہدِ تجدید نے ...

مزید پڑھیں »

ادھورا لمس

  تمہارا وہ ادھورا لمس آج بھی کنوارہ ہے کہ جس کی تکمیل کی جستجو میں ، نہ جانے کتنے اتصال کر چکی مگر ایک کنواری پاکیزگی لیے ، یہ ازلی کنوارہ پن، قدیم مندروں میں، دیوتاوں سے بیاہے  جانے کی آس میں، کنواری مر مٹنے والی داسیوں کی مانند ...

مزید پڑھیں »