شاعری

کتاب: عاشقانہ ہائے قیامت (قیامت کی عشقیہ شاعری)

1 بوڑھے داؤد کی عشقیہ شاعری آخری مجسمہ گرا اور عظیم اسکوئیر پر نصب علامت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مٹی میں مل گئی لوگوں نے رقص میں اپنے ہاتھ قلم کرلیے تاکہ مجسمے سے انھیں کوئی نسبت باقی نہ رہے بوڑھا شخص رو رہا تھا اور اپنا پرانا علاقائی ساز ...

مزید پڑھیں »

*

گواث باھوٹیں چراغ ئا واچڑانی تڑس نے جوغن ئے سر ونڑجنوخا ترونگلانی تڑس نے نمرود آسے کفوخا لانمبو آنی تڑس نے مچ لانگو داثغیں نا ہنگرانی تھڑس نے در کیا سکئے جثغنت زیند بیثہ بے مراذ نی پذا چکر سر آتکا لیکوانی تڑس نے تخت ماڑی اشتغیں مڑ جیذ جداں ...

مزید پڑھیں »

آئیڈینٹیکل ٹونز ( Identical Twins )

لفظوں کے بھی جسم ہوتے ہیں حرف کی ہڈیوں سے بنے ہوۓ میں بوسے کا جسم محسوس کر سکتا ہوں نرم اور ملائم بوسے کی ساری ہڈیاں کُرکُری ہوتی ہیں خواہش کے گُودے سے بھری ہوئی کچھ لفظ اپنے جسم میں گھُٹ گھُٹ کے مر جاتے ہیں ہر لفظ کے ...

مزید پڑھیں »

امید

تم ٹھہرو ذرا میں آتی ہوں سورج سے نُور کی کرنیں لے کر کسی معصوم طفل کے لبوں سے ہنسی لے کر کسی خوشبو بھرے جنگل سے تتلیاں پکڑ کر لاتی ہوں تم ٹھہرو میں آتی ہوں شام کے ڈھلتے منظر نامے میں چند جگنو پکڑ نے میں ہمیشہ تنہا ...

مزید پڑھیں »

.

سائیں!تو اپنی چلم سے تھوڑی سی آگ دے دے میں تیری اگر بتی ہوں اور تیری درگاہ پر مجھے ایک گھڑی جلنا ہے۔۔۔ یہ تیری محبت تھی جو اس پیکر میں ڈھلی ا ب پیکرسلگے گا تو ایک دھواں سا اٹھے گا دھوئیں کا لرزاں بدن آہستہ سے کہے گا ...

مزید پڑھیں »

بیاتئی دستاں رژاں

توشہ لوغا درابیا کہ مں نشتغا راہ چاراں تئی، مں دِہ یاراں تئی توکہ بھِتانی پُشتا وثا دارغئے بھِتاں نیستیں زواں گونتہ ٹوکے کننت نئیں کہ ساہ مان نِش کہ تئی دستا گِرنت نئیں کہ گوشے پہ آواز دار نت ہمے نئیں کہ پاذے ہمیشاں کہ سِرنت گُرے گونتہ نزیک ...

مزید پڑھیں »

غزل

کچھ دریچوں میں روشنی ہو گی شہر میں رات جاگتی ہو گی ایک وحشت زدہ کھنڈر میں ابھی تیری آواز گونجتی ہو گی زرد پھولوں پہ شام کی دستک نیم جاں دھوپ نے سُنی ہو گی اُڑ گیا آخری پرندہ بھی پیڑ پر شاخ ڈولتی ہوگی دل بھی وہم و ...

مزید پڑھیں »

میں کیا کروں

خموش ہوں کئی دنوں سے اور شگاف پھیلتا ہی جا رہا ہے کھا رہا ہے رات دن وجود کے ثبوت میں یہ دل دھڑک دھڑک کے تھک گیا ہے پھر بھلا میں سو رہوں ۔۔۔کہ رو پڑوں کوئی ہنر بھی کام آنہیں رہا میں چیختے ہوئے کواڑ کھول دوں۔۔۔میں بول ...

مزید پڑھیں »

یہاں خوش گمانی کا راج تھا

یہاں آرزوؤں کی سلطنت تھی بسی ہوئی یہاں خواب کی تھیں عمارتیں یہاں راستوں پر دعاؤں کے سنگِ میل تھے یہاں معتبر تھیں بصارتیں یہاں پھول موسم قیام کرتے تھے دیر تک یہاں چاہتوں کا رواج تھا یہاں پانیوں میں یہ زہر کس کی رضا سے ہے یہاں خوف پہرے ...

مزید پڑھیں »

گلگال

جمراں مرچی گرندگے مانیں بشئے گروخانا کندگے مانیں ساہیوال ئے مں سیاہیں زندان آ یک وطن دوستیں بندگے مانیں گل خان نصیر آج بادل گرج ر ہے ہیں ساون کی بجلیاں مسکرا رہی ہیں ساہیوال کے سیاہ زندان میں ایک وطن دوست قید ہے

مزید پڑھیں »