شاعری

کانفرنس برائے انسانی حقوق

کانفرنس کا موضوع تھا ’’انسانی حقوق’’ ’’ میرا شوق ہاتھ تھام کے لے اڑا ’’ انسانی حقوق ’’ کی محفل میں معززین کا ہجوم تھا مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پچھلی نشستوں پر بیٹھی میں اور میری نادانی ہر تقریر ہر مقالے میں ا نہیں ڈھونڈتی رہی جو انسان کی شکل کے تو ہوتے ...

مزید پڑھیں »

بلقیس

  بلقیس۔۔ اے شہزادی! جلتی ہوئی ، قبائلی جنگوں میں گھری اپنی ملکہ کی رخصتی پہ میں کیا لکھوں؟ بیشک،لفظ مُجھے الجھائے جاتے ہیں ۔۔۔ زخمیوں کے ایسے یہاں انبار دیکھوں ٹوٹے ہوئے تاروں کے جیسے جسم ٹوٹے ہوئے شیشے کے ٹکڑوں کے جیسے جسم یہاں میں پوچھتا ہوں، اے ...

مزید پڑھیں »

ضرورت!!!

مجھے افسانوی باتیں کرنی نہیں آتیں پر میرا تمہارا کنکشن افسانوی ہے ہاتھ وہ نہیں لکھتا جو ذہن سوچتا ہے ذہن اور قلم کا درمیانی راستہ آساں نہیں ہوتا مصلحتوں کے پہاڑ اور تحفظات کے سمندر عبور کرنے پڑتے ہیں تُم کتاب کا کور دیکھ کر مضمون بھانپ لیتے ہو ...

مزید پڑھیں »

غزل

  مکیں ادھر کے ہیں لیکن ادھر کی سوچتے ہیں جب آگ گھر میں لگی ہو تو گھر کی سوچتے ہیں کہ جب زمین ہی سیلِ بلا کی زد میں ہو تو پھر ثمر کی نہیں پھر شجر کی سوچتے ہیں اُڑے تو طے ہی نہ کی حدِ آشیاں بندی ...

مزید پڑھیں »

اعلانِ وفا

  مُجھے تو یہ لگتا تھا کہ تم بے قیمت ہو کہ ترے مہر و وفا کے کوئی نہ دام بھر سکتا معلوم نہ تھا کہ کھنکھناتے سِکوں کے دو ٹکوں میں بِک جاو گی رُخساروں کی سُرخی مدہوش جوانی لبوں کی لالی زلفوں کا سایہ باہوں کا قاتل گھیرا ...

مزید پڑھیں »

اس کے نام…………!

  میں نے خوشبو کو بھی چھو کے دیکھا میں نے مٹھی میں کرنیں سمیٹیں میں نے بھوسے لیئے چاندنی کے میں نے سورج میں سائے کو دیکھا میں ہوا سے کروں گفتگو بھی میں صداﺅں کا ہر روپ دیکھوں میں نے سوچوں کے نغمے سنُے ہیں میں نے لفظوں ...

مزید پڑھیں »

مئے دل پرشتہ

مئے دل پرشتہ تہ جہندم کن اے حیرانی وَا گپے نئیں ‘ تو حیران ئے ما کل اِشتاں نصیحت بنت ‘ حکایت بنت یا دیریگیں روایت بنت مئے پِیریناں ہمے گشتہ کہ علمے گِر شہ دانایان او حرفے سِکھ کتابے گِند چم پَچ بنت اگاں کِشت وکِشاری کن ما کل ...

مزید پڑھیں »

سوچ

الجھے ہوئے سے خیالات ہیں الجھی ہوئی سی ہر اِک بات ہے پر سوچ کا کیا کریں؟ یہ وہ دھارا کہ جو زمان و مکاں کی کسی قید کو مانتا ہی نہیں کہ بہنے سے ہے اس کو بس واسطہ اس کی ہر تازگی اس کے بہنے میں ہے روکنے ...

مزید پڑھیں »

سُرخ گُلاب

  میں تمہارے لیئے سُرخ گُلاب لائی تھی یہ کیسے دوں تمہیں؟ کہ اِک قدم آگے کو بڑھتا ہے تو دو پیچھے کو ہٹتے ہیں تمہاری برہمی کا خوف اتنا ہے کہ کانچ کی وہ ساری چوڑیاں جو تمہارے نام پہ پہنیں چھنکنا بھول جاتی ہیں ٹوٹ جاتی ہیں تو ...

مزید پڑھیں »