شاعری

رُومی کی پیشنگوئی

  کچھ ایسا ہو جائے گا کہ ہم ۔۔ ایک دوسرے کی تنہائی کو چھو سکیں گے دانائی چکھ سکیں گے اور محبت ۔۔ ہاں محبت میں شریک ہو پائیں گے دُکھ ہمیں دِکھائی دینے لگیں گے ایک دوسرے کے دکھ ۔۔ خواب ہمیں سنائی دینے لگیں گے ایک دوسرے ...

مزید پڑھیں »

کھیل کھیل میں

  یہ جو اجلی دھوپ پہن کر گھوم رہے ہو، کب کِھلنا تھی لیکن ہم نے رات کی کالی مٹی گوندھی، منتر پھونکا، آگ جلائی ہنستے کھیلتے سورج کی اک شکل بنائی بڑے جتن سے چرخہ جوڑا کرنیں کاتیں، جھلمل روشن دن کی یہ پوشاک بنائی اور جو ہنسی کی ...

مزید پڑھیں »

دل کب مانتا ہے

  ہمیں کہاں رہنا ہے سارے موسم کب جینے ہیں ساری ندیوں اور درختوں سے کب ملنا ہے ان بجھتی ہوئی آنکھوں سے کتنی دنیا دیکھی۔۔۔۔ کتنی دیکھ سکیں گے لاکھوں کروڑوں برسوں کا اک ننھا ساحصہ ہے اپنا جیون یونہی چار گھڑی کا قصہ ہے سب سچ ہے۔۔۔ لیکن ...

مزید پڑھیں »

Entanglement

  اچانک مجھ سے کہتی ہے فزکس اچھی پڑھاتے ہو بڑی تفصیل اور تحقیق سے تم بات کرتے ہو بہت باریک بینی سے بسر دن رات کرتے ہو توجہ مجھ سے بڑھ کر ہے تمہاری آسمانوں پر چلو اک امتحاں تو دو کہ میں جو مل گئی تم کو کئی ...

مزید پڑھیں »

مراجعت

  میں انسان ہوں اور میں انسان ہونے سے گھبرا گیا ہوں ……۔ میں گھبرا گیا ہوں بہت چلچلاتی ہوئی دھوپ سے ……۔ شور کرتے ہوئے شہر سے…۔ بھوک سے……۔ اور گلے میں پھنسے آنسوؤں کی چبھن… درد کی لہر سے جو مسلسل مرا جسم جکڑے ہوئے ہے کروں کیا ...

مزید پڑھیں »

*

دمے دمے بی مائخاں, دمے دمے تہاربی. شفےآ ماہ درکفی, شفے شفے آ گاربی. منی او شومیں قسمتئے, ھمیرگیں برًیں سیادیے, برے گشئے کہ دژمنیں برے برے آیار بی. تھئ راہ سرا مں رُستغاں او سوزیں تاخ کَشتغاں, من آں ھمے! اے قیس نیں! شہ سوزاں ھشکیں دار بی. میار ...

مزید پڑھیں »

ترا گیراروں ما گیراروں

آں وخت کہ ڈُکھے موکل کنت آں وخت کہ دڑدے ساہی داث تئی یادانی بشّام شلِیث ترا گِیراروں ما گیراروں اے زیند مُراذانی گویے مئے پھاذاں ڈاونڑ پَٹّانی کھئی دستانی کھئی رکھانی ترا گیراروں ما گیراروں ہر وخت کہ ظُلمے بے رائیں مئے مِہرانی سرا چھاری بیث تئی چھمّانی دیپھان ...

مزید پڑھیں »

ریاستِ مدینہ ؟؟؟

  شدید سردی میں کتنے لاشے برائے تدفین منتظر ہیں حضورِ والا ! مَحَل کی گرماہٹوں سے نکلیں چلو تحفظ نہیں، دلاسا تو دینے جائیں وہ بیٹیاں، بہنیں اور مائیں شدید صدمے سے منجمد ہیں، وہ منجمد ہیں، جنابِ عالی ! (نہ ہاتھ میں تیر و تیغ کوئی، نہ لب ...

مزید پڑھیں »

سنو سوگوارو!

  اٹھاؤ تابوت سوگوارو! تمھارے پیارے تو سوگئے ہیں نصیب میں ان کے تھی وراثت وہی شہادت گلے کٹا کر ملی ہے ان کو لٹادو اب تو لحد میں تاکہ سکون پائیں جو زندگی میں نہیں ملا تھا انھیں خبر کیا کہ کون آیا تھا پرسا دینے کہ آنے والے ...

مزید پڑھیں »

پانچ سالہ ملکی منصوبہ بندی

  ہمیں شہدا ءکے لیے ترانے لکھنے کے لیے مشق کرنی چاہیے۔ ہمیں نوحوں اور تعزیت کے نئے الفاظ تحریر کرنے کے لیے لغت تراشنی پڑے گی موت کا بگل بجانے والے کارندوں کی شناخت کے لئے اشتہار تقسیم کرنی پڑیں گی ہمیں لٹھے کے سفید تھانوں کے بھاوءبڑھانے پڑیں ...

مزید پڑھیں »