شاعری

میر، ادیرہ ئے میر

میر، ادیرہ ئے میر مرچی اے ” بیران جاہا“ کہ کسے نہ گواہیت پُر بوتگنت وشیں بو آئی حسثکیں نشانی شک نقشانی، چوکو ہنیں نام و توار ا تئی کورو تامور، ادیرہ چو مرمریں سنگ ئے مُہریں قلاتا کہ انگت نہ پُر شتگ بلے درفش ئے واک ئے شتگ من ...

مزید پڑھیں »

روشنی کے معبدوں میں بیٹھی ہوئی عورتیں

ہماری آنکھوں میں جہاں کبھی خواب اترتے تھے اب وہاں کانٹوں کا بسیرا ہے جن کی مسلسل چبھن اور رِستے لہو نے ہمیں ہمارے غلط فیصلوں کی ہر پل سزا دی ہے۔ ہماری شیریں سخنی کا ایک زمانہ گواہ تھا مگر اب زہر اگلتے لفظوں سے ہماری زبانیں نیلی پڑ ...

مزید پڑھیں »

پابلو نرودا کی نظم

تم دھیرے دھیرے مرنے لگتے ہو گر سفر نہیں کرتے گر مطالعہ نہیں کرتے گر زندگی کی آوازیں نہیں سنتے گر خود کو نہیں سراہتے تم دھیرے دھیرے مرنے لگتے ہو جب خود توقیری کو قتل کر تے ہو جب دوسروں کو اجازت نہی دیتے کہ وہ تمھاری مدد کر ...

مزید پڑھیں »

زندگی اور شاعری کا مکالمہ

مجھے شاعری زندہ دیکھنا چاہتی ہے مگر میری روح جو سانس کی ہمزادہے وہ میرا بوجھ اٹھا اٹھا کر تھک چکی ہے پھر بھی مجھ سے سوال بہت کرتی ہے مجھے جب انسان سایوں کی طرح نظر آتے ہیں مجھے مشورہ دیتی ہے جاﺅ چشمہ لگاﺅ اب مجھے انسانوں کا ...

مزید پڑھیں »

زمین کا بچہ

جب وہ روئے گا اس کی آنکھوں میں آنسو ہوں گے اور ہونٹوں پر ہنسی اس کی پتنگ کی ڈور اس کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی ہوگی میں اس کے لئے نئی پتنگ نہیں بناﺅں گی اس نے ٹوٹے ہوئے شیشے کو تھام لیا ہوگا میں اس کے ہاتھوں سے ...

مزید پڑھیں »

آسیب

آسیب کہو تمہیں کس نے کہا ہم دشت کے باسی گور پرست ہیں ہم مسکونِ کوہ اندوہ پرست ہیں ہمیں جینے سے کوئی غرض نہیں ہم دشت کے باسی گور پرست ہیں یہ امر تمہیں کس نے ہے دیا ہر طفل ہمارا جی جان سے پیارا تم لوٹ لو اس ...

مزید پڑھیں »

*

کہیں  سے کوئی حرف معتبر شاید  نہ آئے مسافر لوٹ کر اب اپنے گھر شاید نہ آئے قفس میں آب و دانے کی فراوانی بہت ہے اسیروں کو  خیال  بال  و پر شاید  نہ  آئے کسے معلوم اہل ہجر  پر ایسے بھی  دن آئیں قیامت سر سے گزرے اور خبر ...

مزید پڑھیں »

میری تختی کب سوکھے گی؟

میری حالت ٹھیک نہیں ہے میرے اندر سب آئینے ٹوٹ چکے ہیں دل دہلیز پہ دھول جمی ہے میرے پاﺅں کیوں زخمی ہیں ؟ میری تختی کب سوکھے گی؟ ابھی تو مجھ کو جانے کیا کیا لکھنا ہے لیکن اماں ! یوں لگتا ہے وقت نہیں ہے یہاں پہ برف ...

مزید پڑھیں »