مصنف کی تحاریر : سبین علی

پو

میں گروی رکھی گئی آنکھوں میں بسا خواب ہوں لا محدود سمندر میں تیرتے جزیروں کا جہاں مہاجر پرندے گھڑی بھر بسیرا کرتے ہیں نیلگوں پانیوں کا ساحلوں کے کنارے چمکتی رہت کا وہ خواب جو بہہ نکلتا ہے نمکین قطرے کی صورت میں وہ آزاد روح ہوں جو غلام ...

مزید پڑھیں »

دیواروں کے پیچھے

پھرکل رات مری آنکھیں بے خواب رہیں کمرے کی ساکت دیواروں کے اس پار وہی گرجتا وحشی لہجہ گھٹی گھٹی سسکی کو کتنی بے رحمی سے نوچ رہا تھا ڈوبتی رات کے سنا ٹے میں اس کی مد د کو کسے پکاروں کون آئے گا ؟ اکثرمیری بے چینی نے ...

مزید پڑھیں »

"بجٹ، کرونا اور ہماری ” جہالت

یاسمین راشد صاحبہ نے اُکتاکر لاہوریوں کو ’’جاہل‘‘ قرار دیا تو مجھے کئی دوستوں نے فون کئے۔ انہیں یقین تھا کہ میرے اندر بیٹھا جماندرو لاہوری ان کے کلمات سن کر چراغ پا ہوگیا ہوگا۔ ایمان داری کی بات اگرچہ یہ ہے کہ مجھے علم ہی نہیں تھا کہ ڈاکٹر ...

مزید پڑھیں »

چین آشنائی

نام کتاب : چین آشنائی مصنف : شاہ محمد مری مبصر : مصباح نوید موضوع : سفر نامہ پہلی اشاعت: ۷۰۰۲ء دوسری اشاعت: ۰۲۰۲ء پبلشر: علم و ادب پبلشر کراچی کچھ چٹکلے، کچھ شہ پارے، کچھ دل سے ٹپکے شنگرفی انار دانے ’چین آشنائی، محض چین سے آشنائی نہیں ہے۔ ...

مزید پڑھیں »

آخری سدھارتھ (پروفیسر یوسف حسن کے لیے) مرا یوسف

مرا یوسف حسن الفاظ سے غزلیں بناتا ہے بدلنے کی نئی راہیں سُجھاتا اور بستر کے تلے سب پھینک دیتا ہے کہیں بیٹھا ہوا سگریٹ کے لمبے کش لگا لیتا ہے ٹھنڈی چائے سے حلقوم کڑوا کررہا ہے رضائی اوڑھ کر نیندوں میں جاتا ہڑبڑا کر جاگ اٹھتا دیکھتا ہے ...

مزید پڑھیں »

فرانز کافکائے ناول “دی ٹرائل “

کافکا 3 جولائی 1883 آ ماں پراگا ودّی بیت کہ انّی چیکوسلواکیہ اِنت۔ کافکا وتی مات و پِت ئے مستریں چْک بیت،مستریں چْکے ئے ِ سببا کافکائے زمہ واری ھم گیش بَنت۔کافکائے نبشتہ کنگ ئے ھْب کسانی آ استت، او بازیں ڈرامہ ھم کسانی آ نبشتہ کَنت بلے آیاں سْوچیت۔ ...

مزید پڑھیں »

پرندے کچھ تو کہتے ہیں

پرندے اُجلے دن کی پہلی ساعت سے بھی پہلے جاگ جاتے ہیں رسیلی ، میٹھی تانیں چھیڑتے ، کھڑکی بجاتے ہیں پرندے نیند کی گاگر الٹ کر مسکراتے ہیں مرے گھر سے نکل کر دور جاتے راستے پر پھیلی تنہائی کی شاخیں توڑتے ہیں ۔۔۔ کھلکھلاتے ہیں ہوائوں کو جھُلاتے ...

مزید پڑھیں »

ہم اپنی اپنی خصلتوں پر جی رہے ہیں

تم خوف ایجاد کرتے ہو پھر پناہ گاہیں تعمیر کرتے ہو تم موت بانٹتے ہو پھر کفن بیچتے ہو زمین کی پر تیں ادھیڑ کے بارودی سرنگیں بچھا دیں شہر تاراج کرکے بی بیوں کی بیوگی اور بچوں کی یتیمی کے لئے طیاروں سے ہمدردی کے منا ظر کمبل اور ...

مزید پڑھیں »

اُمید

چودہ ماہ جیل، اور چار تفتیشوں کے بعد 13 فروری 1897 میں لینن کوتین سال کے لئے مشرقی سائبیریا میں جلا وطنی گزارنے کی سزا دی گئی۔ وہ دنیا کے جہنم کے لیے ”دراز سفری ٹرین“میں بیٹھا۔ اسے اب تک معلوم نہ تھا کہ برفانی وسیع وعریض سائبیریا میں اس ...

مزید پڑھیں »