مصنف کی تحاریر : شان گل

سمو کا حسن

زِ عشقِ آں رخِ خوبِ تو اے اصولِ مراد ہر آں کہ تو بہ کند تو بہ اش قبول مباد حُسن کیا ہے؟ میں نے کہاں کہاں نہیں کھو جا۔ کتابوں، لغاتوں، انسائیکلو پیڈیاؤں اور ویب سائٹوں میں۔ کوئی تشفی بھری تعریف مجھے نہیں مل سکی۔ ہر ایک کا اپنا ...

مزید پڑھیں »

سنہری پہاڑ

برف سے ڈھکی اْس فلک بوس چوٹی کا نام سنہری پہاڑ کیوں پڑا اس بارے میں بیس کیمپ کی قریبی بستی میں کئی کہانیاں مشہور تھیں۔ وہاں چاندنی راتوں میں چاند کے ساتھ ساتھ تمام ستارے بھی زمین کے بہت قریب آ جاتے۔ نیچے وادی میں دیودار کی لکڑی سے ...

مزید پڑھیں »

قید تنہائی

میں اک ساعت نم گزیدہ کی کھونٹی پہ ٹانگی گئی ہوں خرابے کی صورت مرے آنکھ کے منعکس آئینوں میں گھری یک بہ یک بے تکاں رقص کرنے لگی ہے سوالی کتابیں، جوابی نگا ہیں مرے کتب خانے کے چپ کے دہانوں میں پاٹی گئی ہیں مرے ہم سبق. نطق ...

مزید پڑھیں »

جوں

ایک تھا جُوں۔ وہ بے شمار بچوں کے سر میں گُھستا اور اُن کا خون چوستا ۔ ایک روز وہ اس نیت سے ایک بچے کے سر سے باہر نکلا کہ کسی دوسرے بچے کے سر پر جاؤں گا ۔ راستے میں اُسے ایک مرغے نے دیکھا۔مرغے نے چونچ بڑھائی ...

مزید پڑھیں »

کہانی ایک سفر کی

“میں تم لوگوں سے الگ ہورہی ہوں ” اس نے کہا۔ اور وہیں ٹھہر گئی جہاں وہ لوگ پہنچے تھے۔ ان میں دو عورتیں تھیں اور دو مرد۔ رْک جانے والی عورت “ب” نے کہا “مجھے میرا تجربہ بتارہا ہے کہ ہم غلط سمت میں چل رہے ہیں۔ اس سفر ...

مزید پڑھیں »

محبت مار دیتی ہے

بہت پہلے سنا میں نے محبت مار دیتی ہے توکھل کے ہنس پڑی یک دم بھلا ایسا بھی ہوتا ہے؟؟ کبھی ایسا بھی ہوگا کیا؟ محبت مار سکتی ہے جو جینے کی اک آس ہوتی ہے وہ کیسے مار سکتی ہے؟ مگر جب پھر مدتوں بعد اک ایسا سانحہ گزرا ...

مزید پڑھیں »

غزل

نہ اٹھائو پیڑ سے روشنی ، نہ جھکائو شام کی بدلیاں ابھی ان فضائوں میں تیرتی ہیں گداز لہجے کی تتلیاں یہ گئے دنوں کی ہے داستاں کہ ستارے کھلتے تھے جھیل میں کسی شاہزادے کی راہ میں کھڑی خواب بُنتی تھیں لڑکیاں وہ عجیب شہرِ خیال تھا نہ ہوا ...

مزید پڑھیں »

ہوم ورک

ہوم ورک ۔۔۔ مصطفی مستور/شائستہ درانی شروع شروع میں سب کچھ بہت دھیرے دھیرے گذرتا تھا۔ہر کام کی جیسے برسوں کی عمر تھی۔جب اپنا ماتھا پونچھنے کے لئے ہاتھ اٹھاتا یوں لگتا گھنٹوں بیت گئے ہوں۔جب بیٹھتا سوتادوڑتاتو لمبی شامیں تھیں جو ختم ہی نا ہوتیں تھیں۔ گلیاں کتنی طویل ...

مزید پڑھیں »

ھانی

کوئل جو کُوکی رات کو بیدار مُجھ کو کر گئی باد از مُلیبار آ چلی دل کو کوئی یاد آگیا بابُل کی بھیڑوں کی قطار ہے دُھند سُوئے آسماں آئی فقیروں کی صدا تھا پیشتر میرا مرید ڈاڈر کی گلیاں پھانکتا ماضی کی یادیں ہانکتا میری نظر جب مِل گئی ...

مزید پڑھیں »

نظم

ہم نہیں جانتے کہاں سے آئیں ہیں۔۔۔ کیوں آئے ہیں کب لوٹائے جائیں گے۔۔۔ آنکھوں پہ اندھیرا باندھ کر کہاں بھاگ رہے ہیں۔۔۔ آگے کیا ہے۔۔۔ پیچھے کیا چھوڑ آئیں ہیں اس زندگی کے بعد کیا ایسی زندگی ہے۔۔۔ جس پہ ہمارا بھی اختیار ہو یا شاہکار کا یہی اختتام ...

مزید پڑھیں »