مصنف کی تحاریر : ڈاکٹر فاطمہ حسن

بارش ، خواب اور سمندر

میں نے خواب میں دیکھا، سمندر میرے کمرے میں داخل ہو گیا ہے اور میں مچھلیوں کے بیچ انہی کی طرح تیر رہی ہوں۔ کیا میں واقعی مچھلی بن گئی ہوں؟ ۔مگر مچھلیاں تو مجھ سے منہ موڑ کر اپنی راہ پر چلی جا رہی ہیں، انہیں میرے ہونے کا ...

مزید پڑھیں »

جوآں نہ یاں جنگانی بدیں بولی

  مفکر کوہ سیلمان حضرت مست آج سے دو صدی قبل یہ کہ چکےہیں کہ جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہے یہ صرف انسانوں کے قتل عام کرنے اور اپنےدوستوں اور ساتھیوں کو کھو دینے کا نام ہے ۔ یہ انا اور ضد کے بیچ انسان کو پیسنے ...

مزید پڑھیں »

خواجہ رفیق

  اکثر و بیشتر تین بوڑھے، شور مچاتے، بر ا بھلا کہتے قہقہے لگاتے لاہور میں میرے فلیٹ کی سیڑھیاں چڑھتے ۔ یہ تینوں’’ جڑواں‘‘ سنجیدہ ترین سیاست کرتے ہوئے بھی بہت ہی ہنس مکھ ، کھلے ڈلے ، تصنع بناوٹ سے پاک، اور ،یار باش لوگ تھے ۔ خواجہ ...

مزید پڑھیں »

ہفت روزہ عوامی جمہوریت

17جون1972کے عوامی جمہوریت میں پاکستان سوشلسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی( منعقدہ 11جون) کی ایک قرار داد پر پورا جہازی صفحہ وقف کیا گیا ۔ یہ قرار داد بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے حق میں تھی ۔ اُس زمانے میں جس معاملے پر کشت وخون والا مباحثہ چل رہا تھا، ...

مزید پڑھیں »

1903 کی روسی پارٹی کانگریس

تاریخی طور پر یہ بات درست ہے کہ روسی کمیونسٹ(سوشل ڈیموکریٹک )پارٹی کی پہلی کانگریس 1898میں ہوچکی تھی۔ اور اُس میں پارٹی کے قیام کا اعلان بھی ہوچکا تھا ۔لیکن حقیقی معنوں کی پارٹی ابھی تک وجود میں نہیں آئی تھی۔ اس لیے کہ اب تک نہ تو پارٹی کا ...

مزید پڑھیں »

غزل

  ہجرِمْدام، بحرِہمیشہ سے پْھوٹ کر اِس دشتِ نامراد سے لپٹا ہے ٹْوٹ کر جانے اْداسیوں کو سمیٹے کدھر گئی بادِشمال، غم کے پرِستاں کو لْوٹ کر میں لاوْجودیت میں گِری ہوں بطورِ حرف اپنے کوی کے مہرباں ہاتھوں سے چْھوٹ کر اے تا ابد غریقِ سفر روشنی کی رَو ...

مزید پڑھیں »

کبیرداس اور بھگتی تحریک

شمالی ہندوستان کی طرف بہار اور بنگال تک بڑی تعداد میں جولاہوں کی بستیان آباد تھیں، جن کا کام کپڑا بننا اوررنگنا تھا ۔ یہ غریب محنتی لوگ تھے جن کی کوئی سماجی حیثیت نہیں تھی بلکہ انہیں نیچ سمجھاجاتا تھا۔بارہویں صدی میں ترک سامراج نے سر اٹھایااور پرتھوی راج ...

مزید پڑھیں »

*

  یار و! بس اتناکرم کرنا پسِ مرگ نہ مجھ پہ ستم کرنا مجھے کوئی سندنہ عطا کرنا دیند اری کی مت کہنا جو شِ خطا بت میں دراصل یہ عورت مومن تھی مت اُٹھنا ثابت کرنے کوملک وملت سے وفاداری مت کوشش کرنااپنالیں حکام کم ازکم نعش مری یا ...

مزید پڑھیں »

خَلِش

آنکھیں تو پاگل ہیں در بدر بھٹکتی رہتی ہیں لا حاصل کی تمنا میں لمبی سرد راتوں میں نہیں ہے کوئی چنگاری پھر بھی امید کی کھڑکی تو روز و شب ہی کُھلتی ہے ڈاک کا انتظار رہتا ہے کوئی نامہ، دو لفظ ہی شاید بس اِک جُمؤد ہے دِل ...

مزید پڑھیں »

تم بالکل ہم جیسے نکلے

  ( ہنوستانی رائٹسٹ پالیسیوں کے خلاف یہ زوردار نظم اس بہادر دانشور نے ہندوستان میں لکھی تھی اور وہیں سنائی تھی ) اب تک کہاں چھپے تھے بھائی وہ مْورکھتا، وہ گھامڑ پن جس میں ہم نے صدی گنوائی آخر پہنچی دوار تمہارے ارے بدھائی، بہت بدھائی پریت دھرم ...

مزید پڑھیں »