مصنف کی تحاریر : اقراغفار -ملتان

قلعہ فراموشی "فہمیده ریاض”( تنقیدی جائزه)

فہمیدہ ریاض کا ناول ’’قلعہ فراموشی‘‘ ۲۰۱۷ء میں منظر عام پر آیا۔ جو کہ تاریخی ناولوں کی صف میں شمار ہوتا ہے مگر ان تاریخی ناولوں سے قدرے مختلف چیز ثابت ہوئی جو اردو ناول کی روایت میں عبدالحلیم شرر یا نسیم حجازی کی صورت میں موجود ہے۔ مصنفہ نے ...

مزید پڑھیں »

کرونا کا پچھتاوا

کرونا یونہی نہیں آیا ،شاید اسے گذ شتہ وباﺅں کی طرح نسل نو کو آزمانا ہے سر زد شدہ غلطیوں ،کو تائیوںاور نا سمجھیوں کا احساس دلانا ہے زند گی کو بہتر انداز میں گزارنے کے گرُ بتاناہے طبقا تی نفرتوںمیں پڑے انسانی گھتیوں کو سلجھا نا ہے ۔گلوبل یک ...

مزید پڑھیں »

کرونا کا پچھتاوا

کرونا یونہی نہیں آیا ،شاید اسے گذ شتہ وباﺅں کی طرح نسل نو کو آزمانا ہے سر زد شدہ غلطیوں ،کو تائیوںاور نا سمجھیوں کا احساس دلانا ہے زند گی کو بہتر انداز میں گزارنے کے گرُ بتاناہے طبقا تی نفرتوںمیں پڑے انسانی گھتیوں کو سلجھا نا ہے ۔گلوبل یک ...

مزید پڑھیں »

فقط حرف تمنا کیا ہے

شام روشن تھی سنہری تھی مگر اتری چلی آتی تھی زینہ زینہ آ کے پھر رک سی گئی شب کی منڈیروں کے قریں اک ستارہ بھی کہیں ساتھ ہی جھک آیا تھا جیسے وہ چھونے کو تھا کانوں کے بالے اس کے گیسوؤں کو بھی کہ تھے رخ کے حوالے ...

مزید پڑھیں »

Clercs اور ’’جمہوریت کا وقت زوال”

Clercs اور ’’جمہوریت کا وقت زوال‘‘ Jul 27, 2020 نصرت جاوید Clercs اور ’’جمہوریت کا وقت زوال‘‘ ایسے قارئین کی کافی تعداد نے جو میرے ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں رہتے ہیں ہفتے کے روز پیغامات بھیجے کہ دو سال گزرجانے کے بعد 25جولائی 2018کے انتخابات کو تجزیاتی ...

مزید پڑھیں »

ساتواں نمبر

لکڑیاں آگ میں دہک رہی تھیں ۔شعلے اوپر تک اٹھ رہے تھے۔گلدستہ کے گال، آگ کی تپش سے انگارہ ہو رہے تھے۔ جانے وہ وہ کب سے رو رہی تھی۔ اور اماں صغراں اسے گاہے بگاہے ٹھیک ہونے کی تسلی دے رہی تھی۔ کچھ تو وہ پورے دن سے تھی ...

مزید پڑھیں »

ایک آنچ کی کسر

رہ گئ پینٹنگ ادھوری سی جو ضروری تھے رنگ مل نہ سکے نظم اک اور نامکمل ھے لفظ ناراض ھو کے دور ھوے کام باقی مجسمے کا تھا بت تراشی سے جی اچاٹ ھوا دیکھ یہ دھن نہ بن سکی پوری نغمگی شورشوں کی نذر ھوئ خواب تعبیر بونے والے ...

مزید پڑھیں »

دُنیا کی بدصُورت ترین عورت تحریر

اُس نے دُنیا کی بدصُورت ترین عورت سے شادی کی۔ اُس نے خاصی شہرت کی حامل سرکس کے منتظم کی حیثیت سے اُس سے ملنے کے لیے خاص طور پر وِیانا کا دورہ کیا۔ وہ بالکل بھی پہلے سے سوچا سمجھا عمل نہیں تھا— اُسے کبھی ادراک نہیں ہُوا تھا ...

مزید پڑھیں »

"میں ہوا کی صورت زندہ رہ سکتی ہوں”

میں تمہارے لیے نیم کا کڑوا پیڑ ہوں جس کا پھل تم چاہو بھی تو نہیں چکھ سکتے بس چھاؤں میں کچھ دیر آرام کر لو کہ رنگ میرا بھی سبز ہے کچھ دنوں پہلے مجھ پر ایک جن رہتا تھا لیکن ایک سفر کے بعد میں نے اسے جن ...

مزید پڑھیں »

اداسی

باغ کے ایک کونے میں ایک بوڑھا بینچ پر بیٹھا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ جو پھولوں کے لبوں سے رس چراتی ہیں۔ ہوا میں تیرتی خنکی کی خوشبو جس میں باغ میں کھلتے ہر ایک پھول، پودے اور پتے کا لمس شامل ہے۔ وہ ...

مزید پڑھیں »