مصنف کی تحاریر : نیل احمد

فہمیدہ ریاض کا وجودی نکتہ ء نظر ” وجود کرب سے آگے”

ادب ، جو اپنے گرد و پیش میں بکھری ہوئی زندگی اور اپنے عہد کے عصری تقاضوں سے بے خبر ہو وہ بلکل ایسے ہی ہے جیسے کچے رنگوں سے بنی کوئی تصویر جو موسم کی سختیوں سے متاثر ہو کر اپنی دلکشی کھو بیٹھتی ہے ۔ ہر دور کا ...

مزید پڑھیں »

احمد خان کھرل

احمد خان کھرل ایک عرصے سے میرے ذہن کا دل مراد کھوسہ بنا ہوا تھا۔اُس نے اُس وقت انگریز کو پنجاب میں للکارا جب انگریز کے پاس پنجاب میں 40ہزار فوج تھی۔ (26ہزار ہندوستانی، ساڑھے تیرہ ہزار پنجابی اور بقیہ چند سو فرنگی) (1) اور زبردست جنگی سازو سامان موجود ...

مزید پڑھیں »

ٹارچ

"اس بات کے لیے میں ہمیشہ تمھاری ماں کا شکر گزار رہوں گا کہ اس نے تمھیں تیرنا سکھادیا۔” "کیوں؟”، یہ انداز سوالیہ نہیں تھا بلکہ ایک ا حتجاجی کراہ کی صورت میں باہر نکلا۔لوئیسا نہیں چاہتی تھی کہ اس کا باپ اس کی ماں کے بارے میں گفتگو کرے۔وہ ...

مزید پڑھیں »

آنسووْں سے بنے

آنسووْں سے بنے ہوےْ ہم لوگ ٹھیس لگ جائے تو ندی کی طرح پہروں بہتے ہیں اپنی آنکھوں میں !۔ کوئی چھیڑے تو کچھ نہیں کہتے صورتِ گل ہوا سے کیا شکوہ شام کی آنچ سے الجھنا کیا ہاں مگر سانس میں کوئی لرزش مدتوں ساتھ ساتھ رہتی ہے !۔ ...

مزید پڑھیں »

فن جو نادار تک نہیں پہنچا

فن جو نادار تک نہیں پہنچا ابھی معیار تک نہیں پہنچا اس نے بر وقت بے رخی برتی شوق آزار تک نہیں پہنچا عکس مے ہو کہ جلوۂ گل ہو رنگ رخسار تک نہیں پہنچا حرف انکار سر بلند رہا ضعف اقرار تک نہیں پہنچا حکم سرکار کی پہنچ مت ...

مزید پڑھیں »

خاموش رہو

کون مسافربرسوں سے سنسان پڑی خاموش گلی سے گزرا آنکھیں ملتی رات کی اوک میں شام گلابی گاگر خالی کرتے کرتے چونک اٹھی کب ریشم سے ریشم الجھا اور بجتی ہوئی سرگم سے ٹوٹ کے سانس گری کس آہٹ نے دل میں پھیلی اک ویرانی پر پاؤں دھرا کب دیر ...

مزید پڑھیں »

ایجنڈوں کا ایجنڈہ مہنگائی

ٍ میرِ انقلاب ،بابائے تبدیلی، اورمدینہ جیسی ریاست کے”الیکٹڈ“ سربراہ کی حکومت کا بجٹ منظور ہوا تو عوام کو اتنا اندازہ نہ تھا کہ اُن کا بھٹہ اتنی تیزی اور بھر پور طور پر بیٹھنے والا ہے ۔دانشور بھی زیادہ نہیں چیخا اس لیے کہ اس کا بڑا حصہ سوچنے ...

مزید پڑھیں »

غزل

اب ایک دوسرے کی ضرورت نہیں رہی جب فاصلے نہیں تو محبت نہیں رہی اس گھرسیاب یہ نقل مکانی کاوقت ہے دل میں اگر کسی کی سکونت نہیں رہی آغازِ عشق میں بڑے ثابت قدم تھے ہم اب وہ شکست و ریخت سلامت نہیں رہی جتنے بھی جاں نثار تھے ...

مزید پڑھیں »

غزل

مھربان تئی مھر داں کجائیں ما ھَم بزان اِنہ گشے تئی بے وپائی روچ مہ روچ گیش بیان اِنہ وپا آں مئے بے وپا پراموش اِنت اَنچوش اڈیت گوں سنگے ء َ سرا مئے زھر وران اِنہ اپ مباتاں تئی انارکانی اناریں رنگا کہ چادر تئی سیاھیں سْھریں رنگ چنان ...

مزید پڑھیں »

ایرانی شاعرہ کی ایک نظم‎

میں کہ اک شادی شدہ عورت ہوں میں کہ اک عورت ہوں ایک ایرانی عورت رات کے آٹھ بجے ہیں یہاں خیابان سہروردی شمالی پر باہر جا رہی ہوں روٹیاں خریدنے کو نہ میں سجی بنی ہوں نہ میرے کپڑے جاذب نظر ہیں مگر یہاں سرعام یہ ساتویں گاڑی ہے ...

مزید پڑھیں »