مصنف کی تحاریر : گلناز کوثر

غزل

نہ اٹھائو پیڑ سے روشنی ، نہ جھکائو شام کی بدلیاں ابھی ان فضائوں میں تیرتی ہیں گداز لہجے کی تتلیاں یہ گئے دنوں کی ہے داستاں کہ ستارے کھلتے تھے جھیل میں کسی شاہزادے کی راہ میں کھڑی خواب بُنتی تھیں لڑکیاں وہ عجیب شہرِ خیال تھا نہ ہوا ...

مزید پڑھیں »

ہوم ورک

ہوم ورک ۔۔۔ مصطفی مستور/شائستہ درانی شروع شروع میں سب کچھ بہت دھیرے دھیرے گذرتا تھا۔ہر کام کی جیسے برسوں کی عمر تھی۔جب اپنا ماتھا پونچھنے کے لئے ہاتھ اٹھاتا یوں لگتا گھنٹوں بیت گئے ہوں۔جب بیٹھتا سوتادوڑتاتو لمبی شامیں تھیں جو ختم ہی نا ہوتیں تھیں۔ گلیاں کتنی طویل ...

مزید پڑھیں »

ھانی

کوئل جو کُوکی رات کو بیدار مُجھ کو کر گئی باد از مُلیبار آ چلی دل کو کوئی یاد آگیا بابُل کی بھیڑوں کی قطار ہے دُھند سُوئے آسماں آئی فقیروں کی صدا تھا پیشتر میرا مرید ڈاڈر کی گلیاں پھانکتا ماضی کی یادیں ہانکتا میری نظر جب مِل گئی ...

مزید پڑھیں »

نظم

ہم نہیں جانتے کہاں سے آئیں ہیں۔۔۔ کیوں آئے ہیں کب لوٹائے جائیں گے۔۔۔ آنکھوں پہ اندھیرا باندھ کر کہاں بھاگ رہے ہیں۔۔۔ آگے کیا ہے۔۔۔ پیچھے کیا چھوڑ آئیں ہیں اس زندگی کے بعد کیا ایسی زندگی ہے۔۔۔ جس پہ ہمارا بھی اختیار ہو یا شاہکار کا یہی اختتام ...

مزید پڑھیں »

پو

میں گروی رکھی گئی آنکھوں میں بسا خواب ہوں لا محدود سمندر میں تیرتے جزیروں کا جہاں مہاجر پرندے گھڑی بھر بسیرا کرتے ہیں نیلگوں پانیوں کا ساحلوں کے کنارے چمکتی رہت کا وہ خواب جو بہہ نکلتا ہے نمکین قطرے کی صورت میں وہ آزاد روح ہوں جو غلام ...

مزید پڑھیں »

دیواروں کے پیچھے

پھرکل رات مری آنکھیں بے خواب رہیں کمرے کی ساکت دیواروں کے اس پار وہی گرجتا وحشی لہجہ گھٹی گھٹی سسکی کو کتنی بے رحمی سے نوچ رہا تھا ڈوبتی رات کے سنا ٹے میں اس کی مد د کو کسے پکاروں کون آئے گا ؟ اکثرمیری بے چینی نے ...

مزید پڑھیں »

"بجٹ، کرونا اور ہماری ” جہالت

یاسمین راشد صاحبہ نے اُکتاکر لاہوریوں کو ’’جاہل‘‘ قرار دیا تو مجھے کئی دوستوں نے فون کئے۔ انہیں یقین تھا کہ میرے اندر بیٹھا جماندرو لاہوری ان کے کلمات سن کر چراغ پا ہوگیا ہوگا۔ ایمان داری کی بات اگرچہ یہ ہے کہ مجھے علم ہی نہیں تھا کہ ڈاکٹر ...

مزید پڑھیں »

چین آشنائی

نام کتاب : چین آشنائی مصنف : شاہ محمد مری مبصر : مصباح نوید موضوع : سفر نامہ پہلی اشاعت: ۷۰۰۲ء دوسری اشاعت: ۰۲۰۲ء پبلشر: علم و ادب پبلشر کراچی کچھ چٹکلے، کچھ شہ پارے، کچھ دل سے ٹپکے شنگرفی انار دانے ’چین آشنائی، محض چین سے آشنائی نہیں ہے۔ ...

مزید پڑھیں »

آخری سدھارتھ (پروفیسر یوسف حسن کے لیے) مرا یوسف

مرا یوسف حسن الفاظ سے غزلیں بناتا ہے بدلنے کی نئی راہیں سُجھاتا اور بستر کے تلے سب پھینک دیتا ہے کہیں بیٹھا ہوا سگریٹ کے لمبے کش لگا لیتا ہے ٹھنڈی چائے سے حلقوم کڑوا کررہا ہے رضائی اوڑھ کر نیندوں میں جاتا ہڑبڑا کر جاگ اٹھتا دیکھتا ہے ...

مزید پڑھیں »

فرانز کافکائے ناول “دی ٹرائل “

کافکا 3 جولائی 1883 آ ماں پراگا ودّی بیت کہ انّی چیکوسلواکیہ اِنت۔ کافکا وتی مات و پِت ئے مستریں چْک بیت،مستریں چْکے ئے ِ سببا کافکائے زمہ واری ھم گیش بَنت۔کافکائے نبشتہ کنگ ئے ھْب کسانی آ استت، او بازیں ڈرامہ ھم کسانی آ نبشتہ کَنت بلے آیاں سْوچیت۔ ...

مزید پڑھیں »