مصنف کی تحاریر : گلناز کوثر

میں کیا کروں

خموش ہوں کئی دنوں سے اور شگاف پھیلتا ہی جا رہا ہے کھا رہا ہے رات دن وجود کے ثبوت میں یہ دل دھڑک دھڑک کے تھک گیا ہے پھر بھلا میں سو رہوں ۔۔۔کہ رو پڑوں کوئی ہنر بھی کام آنہیں رہا میں چیختے ہوئے کواڑ کھول دوں۔۔۔میں بول ...

مزید پڑھیں »

یہاں خوش گمانی کا راج تھا

یہاں آرزوؤں کی سلطنت تھی بسی ہوئی یہاں خواب کی تھیں عمارتیں یہاں راستوں پر دعاؤں کے سنگِ میل تھے یہاں معتبر تھیں بصارتیں یہاں پھول موسم قیام کرتے تھے دیر تک یہاں چاہتوں کا رواج تھا یہاں پانیوں میں یہ زہر کس کی رضا سے ہے یہاں خوف پہرے ...

مزید پڑھیں »

روشن فکری کا جہانِ نو

جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود روشن فکری کی صراطِ مستقیم پر نئی تسبیح اور نئے ورد کی ضرورت ایک عرصے سے قوم کو دو بڑے اور بنیادی چیلنج درپیش ہیں۔ ایک معاشی تنزلی اور دوسرا اخلاقی تنزلی۔ یہ حوالہ قوم کو مضطرب کر دیتا ہے کہ اس ...

مزید پڑھیں »

گلگال

جمراں مرچی گرندگے مانیں بشئے گروخانا کندگے مانیں ساہیوال ئے مں سیاہیں زندان آ یک وطن دوستیں بندگے مانیں گل خان نصیر آج بادل گرج ر ہے ہیں ساون کی بجلیاں مسکرا رہی ہیں ساہیوال کے سیاہ زندان میں ایک وطن دوست قید ہے

مزید پڑھیں »

چوکور دائرے

جس وقت اُس نے دیوار پھلانگی، تو اُس سڑک پر تاریکی کے ساتھ ساتھ ہو کا عالم تھا،جس پر ابھی کچھ دیر قبل، وہ اپنی پوری قوت جمع کر کے سر پٹ دوڑ رہا تھا،باوجود اس کے کہ اس کی ایک ٹانگ کسی سخت چیز کی شدید ضرب سے زخمی ...

مزید پڑھیں »

شانتابخاریخ

کامریڈ شانتا کی پہلی اور آخری پہچان ایک انقلابی سیاسی کارکن کی ہے جن کو یاد کرنا صرف ایک فرد کو یاد کرنے کے مترادف نہیں ہے بلکہ اُن کا ذکر غور و فکر اور سوچ بچار کے بہت سے دَر وا کرتا ہے۔ گزشتہ رات جب میں کامریڈ شانتا ...

مزید پڑھیں »

سید علی عباس جلالپوری

سید علی عباس جلالپوری (پیدائش:19 اکتوبر 1914) پاکستان میں تحریک خرد افروزی کے بانی تھے۔ اُن کا تعلق ننھیال ڈنگہ ضلع گجرات اور ددھیال جلالپور شریف ضلع جہلم سے تھا سید علی عباس کا تعلق چشتیہ سلسلہ سے نسبت رکھنے والے خانوادہ (پیر سید حیدر شاہ) سے تھا جس کا ...

مزید پڑھیں »

فہمیدہ ریاض کا وجودی نکتہ ء نظر ” وجود کرب سے آگے”

ادب ، جو اپنے گرد و پیش میں بکھری ہوئی زندگی اور اپنے عہد کے عصری تقاضوں سے بے خبر ہو وہ بلکل ایسے ہی ہے جیسے کچے رنگوں سے بنی کوئی تصویر جو موسم کی سختیوں سے متاثر ہو کر اپنی دلکشی کھو بیٹھتی ہے ۔ ہر دور کا ...

مزید پڑھیں »

احمد خان کھرل

احمد خان کھرل ایک عرصے سے میرے ذہن کا دل مراد کھوسہ بنا ہوا تھا۔اُس نے اُس وقت انگریز کو پنجاب میں للکارا جب انگریز کے پاس پنجاب میں 40ہزار فوج تھی۔ (26ہزار ہندوستانی، ساڑھے تیرہ ہزار پنجابی اور بقیہ چند سو فرنگی) (1) اور زبردست جنگی سازو سامان موجود ...

مزید پڑھیں »