مصنف کی تحاریر : مصباح نوید

چندن راکھ

  ایکٹ (1) صحن میں تنہا ایزی چیئر پرنیم دراز آکاش پر ٹمٹماتے تارے گن رہی تھی۔ نپے تلے اُٹھتے قدموں کی آہٹ کانوں میں گونجی۔ اپنی انگلیوں کا دباؤ اپنی کنپٹیوں پر محسوس کیا۔ درد ہوک کی طرح اُبھرتامٹتا تھا۔ ”یہ گھر ہے کہ کنجڑ خانہ!“۔ اس نے چونک ...

مزید پڑھیں »

آنے والا کل

”ایک بھی آواز نہیں ………… بچے کو کیا ہوا؟“   زرد شراب کا پیالہ ہاتھ میں لیے سرخ ناک والے کُنگ نے یہ کہتے ہوئے اگلے گھر کی طرف سر کو جھٹکا دیا۔ نیلی کھا ل و ا لے آ ہ و و نے اپنا پیالہ نیچے رکھا اور د ...

مزید پڑھیں »

کیامحبت کہیں کھو گئی ہے

  کیا محبت کے لئے کبھی تمہارا لباس سر نگوں نہیں ہوا یا تمہارا دل آراستہ بالکنیوں سے فاختاؤں کے ساتھ ہوا میں بلند نہیں کیا گیا میں نے رقص کو فاصلے اور رقاصہ کو قریب سے دیکھا وہ تھک کر میرے زانو پر سو سکتی تھی مگر وہ اپنے ...

مزید پڑھیں »

نظم

  ایک کمزور بنیاد پر ایستادہ یہ بوسیدہ دیوار ، جو اپنے سائے سے محروم ہوتے ہوئے اپنے نابود ہونے سے بھی بے خبر۔۔۔!۔ جس کے چار وں طرف وحشتوں کا نگر جن کے اعصاب پر میرے ہونے کا ڈر ۔۔۔!۔ روز آتا ہے وہ روز اپنا تماشا دکھاتا ہے ...

مزید پڑھیں »

غزل

  مئیں زوانا ٹونک یلہ داثہ توار یلہ داثہ مئیں چماں چین یلہ داثہ خما ر یلہ داثہ ڈنگ انت بند بنداں ہوشیاں مئیں ہوناں تھؤ بوختو زلفانی سیاہ مار یلہ داثہ مروشی دیثو تھئی ہپت رنگیں بروان دریناں شموشتہ ہمشاں رنگانی چھنڈکار یلہ داثہ لالی تہ گلا بانی پجھاریں ...

مزید پڑھیں »

فولڈنگ چئیر

فولڈنگ چئیر سارہ احم “فولڈنگ چئیر اٹھائے پختہ سیڑھیاں چڑھتی کسی ادھورے منظرکو پورا کرنے وہ چندلمحے تنہا گزارے گی اس کے راستے میں ایک سیڑھی پر بلّی کی چبائی سوکھی ہڈی پڑی تھی ایک پھٹے ہوئے اشتہار کا ٹکڑا بھی گرا تھا چھت پر نیم تاریکی تھی چاند بھی ...

مزید پڑھیں »

اشفاق سلیم مرزا

دل کے جینے کے بہانے کے سوا اور نہیں مرزا صاحب اپنے قریب آتے ہوئے اختتام سے بخوبی آگاہ تھے۔ قریبی دوستوں، رشتے داروں اور عزیزوں کی موت اور عمر کے احساس نے اُنھیں ذہنی طور پر تیار کر رکھا تھا، جیسا کہ کوئی بھی باشعور شخص تیار ہوتا ہے۔ ...

مزید پڑھیں »

امن کا نوحہ

  اُداس نظمیں اُداس غزلیں اُداس مطلعے ُُاُداس مقطعے اداس لوگوں کی داستانیں سُنا رہے ہیں….. کہ کس گلی میں ہے کس کو مارا کہاں ہوا کون کون زخمی یہ میری سادہ سی نظم جس کا ہر ایک مصرع سس ک سس ک کر بتا رہا ہے…..۔ کہ نظمِ انسان ...

مزید پڑھیں »

چادر کی گواہی

وہ ۔۔۔ اپنے ہاتھوں میں بے داغ چا درلیے چیختا بھونکتا اورگرجتا ہوا گھرکے سارے بزرگوں کوجتلا رہا تھا اسے دیکھیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہانی جوچادر پہ لکھی ہے پڑھیے اسے جا ئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرخ جوڑے میں لپٹی ہوئ اس غلاظت بھری پوٹ کو چو میے پوچھیے اس سے کس ...

مزید پڑھیں »

چندن راکھ

چندن راکھ   ایکٹ (1) صحن میں تنہا ایزی چیئر پرنیم دراز آکاش پر ٹمٹماتے تارے گن رہی تھی۔ نپے تلے اُٹھتے قدموں کی آہٹ کانوں میں گونجی۔ اپنی انگلیوں کا دباؤ اپنی کنپٹیوں پر محسوس کیا۔ درد ہوک کی طرح اُبھرتامٹتا تھا۔ ”یہ گھر ہے کہ کنجڑ خانہ!“۔ اس ...

مزید پڑھیں »