مصنف کی تحاریر : گل خان نصیر

یہ تو پرانی ریت ہے ساتھی!

جتنے ہادی رہبر آئے انسانوں نے خوب ستائے کَس کے شکنجہ آرا کھینچا ہڈّی، پسلی، گودا بھینچا آگ میں ڈالا، دیس نکالا جس نے خدا کا نام اچھالا پتھر کھائے، سولی پائی جس نے سیدھی راہ بتائی شاعر و مجنوں ان کو بولے جن کی زباں نے موتی رولے روڑے ...

مزید پڑھیں »

دانہ جلا کر وقت دیکھتا ہوں

چہرہ کھڑکی سے باہر۔ سبز جھنڈی ہوا میں پھڑپھڑاتی نظر آرہی ہے۔’’کُو…. چھک چھک ….کُو…کُو…‘‘ ٹرین آہستہ آہستہ پلیٹ فارم چھوڑتی ہے۔میں چہرہ اندر کرکے کھڑکی بند کردیتا ہوں۔سردی کا احساس۔ مفلرکھینچ کرکانوں پرباندھ دیتاہوں۔سگریٹ جلاکر دانہ کی روشنی میں کلائی میں بندھی گھڑی میں وقت دیکھتا ہوں۔ڈیڑھ بجے ہیں۔سوچتا ...

مزید پڑھیں »

غزل

بدن کے زنگ کو پوروں کا مَس ضروری تھا حنا کی پیاس تھی ہاتھوں کو، پس ضروری تھا اب آ کے سوچتا ہوں میں نحیف ہونے پر یہاں تک آنے کو تگڑا نفس ضروری تھا زمیں کو پینٹ کیا اْس نے سات رنگوں سے خدا کو کتنا بڑا کینوس ضروری ...

مزید پڑھیں »

لاٹری

دن بڑے اداس تھے۔ راتیں بھی سنسان تھیں۔ میں روٹین کی زندگی سے عاجزآ چکی تھی۔ اچانک ایک دن فون کی گھنٹی بجی۔ایک صاحب نے کہا مبارک باد آپ کی لاٹری نکلی ہے۔میری لاٹری۔۔۔۔؟ میں پریشان پہلے حیران بعد میں ہوئی۔ جی جی! آپ نے ایک دفعہ ہماری پراڈکٹ خریدی ...

مزید پڑھیں »

ڈیہی

پھلانی کیاری باں گڑدیث پذا باری اَولی ہماں یاری باں لہڑاف وہغّا بی مرگانی دِہ ٹولی باں پیغامے دیئغا بی مرگے کہ توارے کاں چمّاں شہ گوارِش بی سیرآف ڈغارے کاں کوہانی نذارغ باں تئی یاد جُڑی بنداں گوں گوئشتنا گوارغ باں بورانی سواری باں ناں سمّل چَہٛوائی ناں مست ...

مزید پڑھیں »

سچ

سچ بڑا مجرم ہے زنجیروں میں جکڑا گیا ہے روزِ ازل سے پکڑا گیا ہے پکڑ جکڑ کر مارا گیا ہے جھونکا گیا ہے جلتے تیل کڑھائی میں چوٹی پر سے پھینکا گیا ہے کولھو میں مسلا گیا ہے ہاں پر پھر بھی اس کی ریِت رہی وہی ابھاگی جس ...

مزید پڑھیں »

بہار قرنطینہ میں ہے

زرد رتوں.بیمار فضاؤں سے کہدو, ابھی خوشبو کو گلاب رنگوں کو خواب رگوں میں جمے سیال کو لہو لکھنا,ہے. بے کیف و ساکت منظرکو خوش خصال لکھنا,ہے ان چڑیوں کو لوٹنے دو فضا کے حبس میں جو محصور ہیں زرد رتوں کو سرخ گلال لکھنا ہے اس کرلاتی خاموشی سے ...

مزید پڑھیں »

کوئٹہ کا ’مرحوم ڈان ہوٹل‘

ڈان ہوٹل بلوچستان کی سیاسی ،ادبی اور سماجی تاریخ میں بہت اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یہ ہوٹل بھی کوئٹہ کے دیگر بڑے ہوٹلوں کی طرح ایرانیوں کی ملکیت تھا۔ پچھلی صدی کی ستر اور اَسی کی دہائیوں میں یہاں کے ہوٹل مختلف سماجی،سیاسی اور ادبی گروہوں کے ٹھکانوں کے ...

مزید پڑھیں »

غزل

کاغذی گلابوں کی شاعرانہ محفل ہوں درد ہوں محبت کا عاشقانہ محفل ہوں تو فلک کا تارا اور میں ہوں ریت صحرا کی اس زمیں سے امبر تک غائبانہ محفل ہوں کوئی مجھ کو بھی دیکھے میں بھی ہوں انوکھی سی دھیمے دھیمے لہجے میں وحشیانہ محفل ہوں شور سن ...

مزید پڑھیں »

مائخان

آسمان پر غروبِ آفتاب کی زردی نے ایک عجیب اداسی پھیلا دی تھی۔ سمند ر میں چلتے چلتے وہ کافی دور نکل گئی تھی۔لہریں جب اس کے پاؤں سے ٹکرا کے مڑتیں تو ایک لہر سی اس کے دل سے بھی آ ٹکراتی اور سمندر کی لہروں میں گم ہو ...

مزید پڑھیں »