مصنف کی تحاریر : شان گل

سمّو ولی بننے سے پہلے

  سمّو مست توکلی کی محبوبہ تھی۔ مست کے عشق اور اس کی شاعری نےسمو کو چار چودہار مشہور کردیا۔ مگریہ نام ویسے بھی بلوچوں میں ایک مقبولِ عام نام ہے ۔ میں اس نام کا لفظی مطلب ڈھونڈنے نکلا۔ اس کا مطلب ظہور شاہ ہاشمی نے اپنی ڈکشنری میں ...

مزید پڑھیں »

ہفت روزہ عوامی جمہوریت کی تاریخ

  28اکتوبر1972کا شمارہ ایک اہم موضوع سے شروع ہوتا ہے : پاکستان کی نظری اساس۔یہ موضوع اس لیے اہم تھا کہ بہت فنکاری اور قوت کے استعمال سے ہماری ساری تاریخ تبدیل کی گئی تھی۔ ہماری تاریخ ایک اچھی بھلی سامراج (انگریز) دشمن جدوجہد کی تاریخ رہی ۔ہم سب جانتے ...

مزید پڑھیں »

اس کے نام…………!

  میں نے خوشبو کو بھی چھو کے دیکھا میں نے مٹھی میں کرنیں سمیٹیں میں نے بھوسے لیئے چاندنی کے میں نے سورج میں سائے کو دیکھا میں ہوا سے کروں گفتگو بھی میں صداﺅں کا ہر روپ دیکھوں میں نے سوچوں کے نغمے سنُے ہیں میں نے لفظوں ...

مزید پڑھیں »

مئے دل پرشتہ

مئے دل پرشتہ تہ جہندم کن اے حیرانی وَا گپے نئیں ‘ تو حیران ئے ما کل اِشتاں نصیحت بنت ‘ حکایت بنت یا دیریگیں روایت بنت مئے پِیریناں ہمے گشتہ کہ علمے گِر شہ دانایان او حرفے سِکھ کتابے گِند چم پَچ بنت اگاں کِشت وکِشاری کن ما کل ...

مزید پڑھیں »

سوچ

الجھے ہوئے سے خیالات ہیں الجھی ہوئی سی ہر اِک بات ہے پر سوچ کا کیا کریں؟ یہ وہ دھارا کہ جو زمان و مکاں کی کسی قید کو مانتا ہی نہیں کہ بہنے سے ہے اس کو بس واسطہ اس کی ہر تازگی اس کے بہنے میں ہے روکنے ...

مزید پڑھیں »

سُرخ گُلاب

  میں تمہارے لیئے سُرخ گُلاب لائی تھی یہ کیسے دوں تمہیں؟ کہ اِک قدم آگے کو بڑھتا ہے تو دو پیچھے کو ہٹتے ہیں تمہاری برہمی کا خوف اتنا ہے کہ کانچ کی وہ ساری چوڑیاں جو تمہارے نام پہ پہنیں چھنکنا بھول جاتی ہیں ٹوٹ جاتی ہیں تو ...

مزید پڑھیں »

ماہنامہ سنگت کا ایڈیٹوریل

امریکی الیکشنز ۔۔ سکون کا سانس کرہِ ارض پہ موجود مخلوقِ خدا امریکی سامراج کی ماری ستائی ہوئی ہے ۔امریکہ آقاﺅں کا آقا بنا بیٹھا ہے ،سلطانوں کا سلطان ہے ۔دنیا کا کونسا ملک ہے جو امریکہ سامراج کی شیطانیت کا شکار نہ ہوا۔ایران میں مصدق پھانسی ، افغانستان میں ...

مزید پڑھیں »

تَنُور میں جلتا جِسم

ہم اپنے اپنے زاویوں سے دیکھتے ہیں تو جسے کسر کہتا ہے، میرے زاویئے سے کسک ہے کہ اہلِ دِل کا ورثہ تو یہی ہے رات کے بستر پہ سونے والی شاہ زادی دن کے اُجالے میں آنکھوں سے اوجھل ہو چہرے نقابوں کی تہہ میں چُھپ گئے ہوں لکھے ...

مزید پڑھیں »

*

  تِرا خیال بہت دیر تک نہیں رہتا کوئی ملال بہت دیر تک نہیں رہتا اُداس کرتی ہے اکثر تمھاری یاد مجھے مگر یہ حال بہت دیر تک نہیں رہتا میں ریزہ ریزہ تو ہوتا ہُوں ہر شکست کے بعد مگر نڈھال بہت دیر تک نہیں رہتا میں جانتا ہُوں، ...

مزید پڑھیں »

*

تیرے اِرد گِرد وہ شور تھا، مِری بات بیچ میں رہ گئی نہ میں کہہ سکا نہ تُو سن سکا، مِری بات بیچ میں رہ گئ میرے دل کو درد سے بھر گیا، مجھے بے یقین سا کر گیا تیرا بات بات پہ ٹوکنا، مِری بات بیچ میں رہ گئی ...

مزید پڑھیں »