مصنف کی تحاریر : نزار قبانی۔ ترجُمہ : نودان ناصر -

بلقیس

  بلقیس۔۔ اے شہزادی! جلتی ہوئی ، قبائلی جنگوں میں گھری اپنی ملکہ کی رخصتی پہ میں کیا لکھوں؟ بیشک،لفظ مُجھے الجھائے جاتے ہیں ۔۔۔ زخمیوں کے ایسے یہاں انبار دیکھوں ٹوٹے ہوئے تاروں کے جیسے جسم ٹوٹے ہوئے شیشے کے ٹکڑوں کے جیسے جسم یہاں میں پوچھتا ہوں، اے ...

مزید پڑھیں »

نیکی کرنے والا انسان

  ایک بلوچی شعر کا ترجمہ ہے کہ : میں نے زندگی ناپ کر دیکھی ہے ۔ اس کی کل لمبائی دو بالشت ہے ۔سی آر اسلم اپنی اسی دو بالشتی زندگانی بِتا کر وفات پاگیا ۔مگر وہ تاریک راہوں کی تاریکی میں کچھ کچھ روشنی گھول کر گیا۔ جاگیرداری ...

مزید پڑھیں »

نزاکت

اس کا اصل نام تو کچھ اور تھا لیکن اسے دیکھ کر ہمیشہ میرے ذہن میں نزاکت کا خیال آتا – وہ پانچ ماہ کی حاملہ اور ایک تین سال کے بچے کی ماں تھی لیکن اتنی دھان پان سی کہ بارہ تیرہ سال کی بچی لگتی۔ اس کے پیٹ ...

مزید پڑھیں »

تسلی کے دو بول

”آہ ! میں مرنے لگا ہوں!اب میرا وقت قریب آن پہنچا ہے۔“ فقیرے نے کراہتے ہوئے ادھر ادھر جھانکنے کی کوشش کی تاکہ کسی کومدد کے لیے پکار سکے ۔مگر تب وہاں اس کے پاس اپنی بڈھی کے خیالوں کے سوا تیسرا کوئی نہ تھا۔موت کے خوف ،وسوسوں اور واہموں ...

مزید پڑھیں »

ضرورت!!!

مجھے افسانوی باتیں کرنی نہیں آتیں پر میرا تمہارا کنکشن افسانوی ہے ہاتھ وہ نہیں لکھتا جو ذہن سوچتا ہے ذہن اور قلم کا درمیانی راستہ آساں نہیں ہوتا مصلحتوں کے پہاڑ اور تحفظات کے سمندر عبور کرنے پڑتے ہیں تُم کتاب کا کور دیکھ کر مضمون بھانپ لیتے ہو ...

مزید پڑھیں »

غزل

  مکیں ادھر کے ہیں لیکن ادھر کی سوچتے ہیں جب آگ گھر میں لگی ہو تو گھر کی سوچتے ہیں کہ جب زمین ہی سیلِ بلا کی زد میں ہو تو پھر ثمر کی نہیں پھر شجر کی سوچتے ہیں اُڑے تو طے ہی نہ کی حدِ آشیاں بندی ...

مزید پڑھیں »

اعلانِ وفا

  مُجھے تو یہ لگتا تھا کہ تم بے قیمت ہو کہ ترے مہر و وفا کے کوئی نہ دام بھر سکتا معلوم نہ تھا کہ کھنکھناتے سِکوں کے دو ٹکوں میں بِک جاو گی رُخساروں کی سُرخی مدہوش جوانی لبوں کی لالی زلفوں کا سایہ باہوں کا قاتل گھیرا ...

مزید پڑھیں »

ملک محمد علی بھارا

ملتان اور گردونواح میں جس نسل کے اذہان پر 1960ء اور 1970ءکی دہائیوں میں عصری شعور نے دستک دی ان میں سے شاید ہی کوئی ہو جو کامریڈ ملک محمدعلی بھارا کے نام اور جدوجہد سے واقف نہ ہو۔ ایک سچے ا ±جلے زمین زادے اور ترقی پسند شعور کے ...

مزید پڑھیں »

حمیرا صدف

براھوی، بلوچی اوراردو زبان کی ایک خوش فکر وخوش خیال شا عرہ وادیبہ حمیرا صدف کی نظمیں پڑھنے اورانکے بارے میں جاننے کا اتفا ق ہوا۔ انکی نظمیں پڑھتے ہوئے مجھے ڈا کٹر شاہ محمد مری کی کتاب یاد آگئی "بلوچ سماج میں عورت کا مقام ” ۔شا ہ محمد ...

مزید پڑھیں »