مصنف کی تحاریر : ثمینہ راجا

غزل

کون کہتا ہے فقیروں کو خزانے دیجے دُور ہٹ جائیے، بس دھوپ کو آنے دیجے وقت کی شاخ سے ٹوٹے ہوئے گل برگ ہیں ہم دُور تک دوشِ ہوا پر ہمیں جانے دیجے سنگ بستہ تو نہیں منزلِ ماضی پہ یہ دل اور غم دیجے اسے اور زمانے دیجے دائمی ...

مزید پڑھیں »

غزل

کون کہتا ہے فقیروں کو خزانے دیجے دُور ہٹ جائیے، بس دھوپ کو آنے دیجے وقت کی شاخ سے ٹوٹے ہوئے گل برگ ہیں ہم دُور تک دوشِ ہوا پر ہمیں جانے دیجے سنگ بستہ تو نہیں منزلِ ماضی پہ یہ دل اور غم دیجے اسے اور زمانے دیجے دائمی ...

مزید پڑھیں »

اک بدصورت نظم

  لال سوہا جوڑا اسکے تن پہ تھا ماتھے کو سستے پیتل سے داغا گیا تو دھواں اٹھا آنسو بہہ رہے تھے حیرانی بھری انکھوں سے کومل گلے سے نکلتے تھے خوف میں لتھڑے ہوئے سُر نہ وہ کوی مہ وش تھی نہ اک حسین اپسرا ابھی تو وہ عورت ...

مزید پڑھیں »

لفظ رخصت ہوئے

(الزائمر سے لڑتے مریضوں کے نام)   خامشی ۔۔۔۔ خامشی۔۔۔۔ اب کسی لفظ کی نوک چبھتی نہیں اور کوئی بات ریشم سی لگتی نہیں توابھی تم نے جو بھی کہا ہے وہ مجھ تک پہنچتے پہنچتے ہواؤں میں گم ہو گیا ہے یہ حرفوں کی پیچیدہ قوسیں یہ تیس اور ...

مزید پڑھیں »

مصنوعی ذہانت کی ذہانت

        قریب سہ پہر کا وقت تھا جب اچانک کمپیوٹر سائنس ڈویڑن کا دروازہ کھلا اور ایک لمبا اور قدرے فربہ جسامت کا آدمی، جلدی میں اندر داخل ہوا۔ یہ پروفیسر مارک کنگ تھا جو آج پھر اپنی چابیاں بھول گیا تھا۔ اس  کے ساتھ کام کرنے ...

مزید پڑھیں »

سرمدی آگ تھی

  سرمدی آگ تھی یا ابد کاکوئی استعارہ تھی، چکھی تھی جو کیسی لوتھی!۔ خنک سی تپک تھی تذبذب کے جتنے بھی چھینٹے دئے اوربڑھتی گئی دھڑکنوں میں دھڑکتی ہوئی سانس میں راگ اورسرْ سی بہتی ہوئی پھول سے جیسے جلتے توے پرہنسیں ننھے ننھے ستاروں کے وہ گل کھلا ...

مزید پڑھیں »

ہڑپہ

  ہڑپہ کے آثارِ قدیمہ بہت مشہور ہیں۔ آثار قدیمہ (آرکیالوجیکل سائیٹ)کو بلوچی میں ”دَمب“ کہتے ہیں۔میں حیرت سے دیکھ رہا تھا کہ ہڑپہ کا دمب کئی میل پر پھیلا ہوا ہے۔ظاہر ہے کہ سارے رقبے کی کھدائی توبہت پیسہ اور بہت مہارت مانگتی ہے۔ اس لیے اِن آثار کی ...

مزید پڑھیں »

کام کرو کام

      “ہٹے گٹے، ہاتھ پیر سلامت، پھر بھی کام سے جان جاتی ہے، شرم نہیں آتی بیغیرتوں کو ہاتھ پھیلاتے ہوئے” میانے قد اور فربہ جسم کے الحاج ملک عبدالحکیم آج بھی بڑبڑاتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے۔ تاہم گھر کے کسی فرد نے ان کی بات پر ...

مزید پڑھیں »

گورنر سٹیٹ بنک کی بے معنی منطق

      میرے اور آپ جیسے بے بس ولاچار پاکستانیوں کی روزمرہّ زندگی اجیرن بنانے والے فیصلے عموماََ نام نہاد’’ٹیکنوکریٹس‘‘ کی جانب سے تشکیل دئیے جاتے ہیں۔وہ امریکہ اور یورپ کی مشہور ترین یونیورسٹیوں کے طالب علم رہے ہوتے ہیں۔ڈگری کے حصول کے بعد ملٹی نیشنل اداروں کے ملازم ...

مزید پڑھیں »

محکوم طبقات کی دانشور: عابدرہ رحمن

  ہمارا معاشی، سیاسی اور سماجی نظام فیوڈل اور پسماندہ ہے۔ ایسا نظام جو کہ سرکار، سردار اور خود سماج کی طرف سے بندشوں، پابندیوں اور سختیوں کے سیمنٹی چھلکوں میں لپٹا نظام ہے۔اس کی ایک ہی بنیادی خاصیت ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ اس کا ہر لمحہ شعورو تفکر ...

مزید پڑھیں »