مصنف کی تحاریر : عابد میر

سنگت پوہ زانت ”آن لائن“

کورونا کی وجہ سے فزیکل اجتماعات چوں کہ فی الوقت ممکن نہیں رہے اس لیے سنگت اکیڈمی کی ماہانہ علمی و ادبی نشست بھی امسال مارچ سے نہ ہو سکی۔ بالآخر اکیڈمی کی مرکزی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ جب تک حالات نارمل ہوں تک تب آن لائن پوہ زانت ...

مزید پڑھیں »

خود سے باہر

تب پھر میں نے ایک ہی جست میں اپنے بدن کو چھوڑ دیا تھا یہ کل شام کی بات ہے جب ان دیواروں کو گھورتے گھورتے ساتواں دن بھی بیت چکا تھا سات زمینیں ، سات جہان یا۔۔۔ سات جنم اور سات قبیلے سب کچھ جیسےگڈ مڈ ہو کر سانس ...

مزید پڑھیں »

کورا کاغذ! ۔۔۔ (“آصف فرخی“ کے لیے)

وہ جو کورا کاغذ میز پر پڑا ہوا ہے اس کاغذ پر اْس کو کچھ لکھنا تھا کیا لکھنا تھا؟ کوئی نام گام یا کوئی کام نام کبھی جو لے نہیں پاتے لیکن اْس کا پہلا حرف لکھ لیتے ہیں!۔ یا وہ گام جو ہم سے کبھی کا چھوٹ گیا ...

مزید پڑھیں »

کورا کاغذ! (“آصف فرخی“ کے لیے)

وہ جو کورا کاغذ میز پر پڑا ہوا ہے اس کاغذ پر اْس کو کچھ لکھنا تھا کیا لکھنا تھا؟ کوئی نام گام یا کوئی کام نام کبھی جو لے نہیں پاتے لیکن اْس کا پہلا حرف لکھ لیتے ہیں!۔ یا وہ گام جو ہم سے کبھی کا چھوٹ گیا ...

مزید پڑھیں »

خوش گمانیوں کا سفرِ ناتمام

موضوع اس کالم کا کچھ اور سوچ رکھا تھا۔اتوارکی صبح اُٹھا تو جانے کیوں یاد آگیا کہ آج پانچ جولائی ہے۔ یہ دن 1977میں بھی آیا تھا۔زندگی کے کئی برس اس کے اثرات سے نبردآزما ہونے میں خرچ ہوگئے۔اپنے تئیں جو ’’مزاحمت‘‘ برپا کی تھی اس کے حوالے سے خود ...

مزید پڑھیں »

ایک عجیب کہانی

آسٹین کے شمال میں ایک معزز خاندان رہتا تھا ۔ یہ خاندان جان اسمودرز ، اُس کی بیو ی اور پانچ سالہ بیٹی پر مشتمل تھا۔ ایک رات کھانے کے اُن کی بیٹی کے بیٹ میں شدید مروڑ اُٹھی ۔ جان اسمودرز جلدی سے دوا لانے کے لیے شہر کی ...

مزید پڑھیں »

پہلی ”آن لائن“ سنڈے پارٹی

کووڈ 19 نے جہاں دوسرے شعبہ جات زندگی کو متاثر کیا وہیں سنگت اکیڈمی آف سائنسز کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ بلوچستان سنڈے پارٹی منعقد ہو سکی اور نہ ہی پوہ و زانت کا اہتمام کیا جاسکا۔ کچھ سنگت اس وبا کی زد میں آئے۔ شکر ہے وہ صحت یاب ...

مزید پڑھیں »

بلوچستان میں کتاب کا ”مالی “۔ ۔۔ منصور بخاری

ضیاءالحق کا مارشل لا تھا ۔ سخت پابندیاں تھیں۔ جلسہ جلوس ، تقریر تحریر، اورتنظیم سیاست سب ضیا کے بوٹوں تلے۔ سارے سیاسی کارکن جیلوں میں ۔ کوڑے سرِ عام مارے جارہے تھے ۔اخبارات پہ بدترین سنسر شپ جاری تھا۔ ہر روز اخبار پہلے حاکم کو دکھایا جاتا، منظوری ہوتی ...

مزید پڑھیں »

میاں محمود

27 نومبر1927……..3 جولائی 1999 ابھی ماضی قریب میں پاکستان کے اندر انقلابی سیاست کی مست جوانی دیکھنی ہوتی تو میں آپ کو فیصل آباد جانے کا کہتا۔ وہاں کچہری بازار میں ” گلی وکیلاں“ نام کی ایک تنگ گلی ہے۔ ایک سادہ مگر کشادہ دو منزلہ مکان میں ادھیڑ عمر ...

مزید پڑھیں »

سیمیں درانی اور ان کا فنِ افسانہ نگاری

راقم الحروف نے کچھ عرصہ پہلے فیس بُک پر سیمیں خان درانی کی نظموں کے مختلف پہلوؤں کا مندرجہ ذیل انگریزی الفاظ میں جائزہ لیا تھا: “Seemeen’s portraits of life around her, both in her fiction and poetry, are always supremely well designed and full of stark realism. And she ...

مزید پڑھیں »