اسیرِ فسانہ

قرنوں کا سفر تھا

اور زیست کرنے کی لگن بھی

سو رفتہ رفتہ

محنت کی شکتی نے

ایک چوپائے کے ہاتھوں کو

کارِ مسافرت کے

آ  ہنی پنجے سے چھڑا لیا

 

چوپایہ

کہ اب وہ چوپایہ نہیں تھا

اس کے عمودی جسم

اور اٹھی نگاہوں کے اسیر ہوئے

زمین و آسماں کے لامحدود سلسلے

اس کے آزاد ہاتھ

آکاش کی طرف لپکنے لگے

]آکاش، کہ نگاہ کا فریب تھا

اور تخیل کی اڑانوں کا وسیلہ بھی

اس نے قوت کے استعارے

تخلیق کیے

اور خدائی کا فریضہ انہیں سونپ دیا

اس نے مخلوق خداوں سے

اپنے نو بہ نو خوف زنجیر کیے

 

وقت گزرا

اور وہ بھول گیا

کہ کب

وہ اپنی ہی تخلیق کا اسیر ہوا

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*