تخلیقی سوچ

 

لفظ تخلیق کی وضاحت یوں کی جا سکتی ہے کہ نئے انداز اور نئے طریقوں سے سوچنا, مسائل کا حل تلاش کرنا, مشکلات کا سامنا کرنے کے علاوہ چیزوں کو نئے انداز سے سمجھانا یا کسی کام کو نئے انداز میں کرنا تخلیقیت (creativity) ہے۔ بلکہ یہ بھی کہاں جاسکتا ہے کہ جو تخلیقی ہے وہ پر امید ہے وہ جو حالات کے دھارے کو مثبت انداز میں لے کر حل تلاش کرتا ہے۔
ڈاکٹر ولاٹرڈویئل کے مطابق تخلیقیت دراصل سوچ کی مشق ہے یہ ترقی یافتہ ذہنی صلاحیت ہے جو پہلے سے موجودہ خیالات اپنانے کا نام ہے یعنی نئے خیالات عموماً پرانے خیالات کو نئی سوچ میں دیکھنے کا نام ہے کیونکہ نیا خیال کسی متاح سے کم نہیں, کوئی بھی ہدف حاصل کرنے کے لیے نیا سوچنا ضروری ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ولا ٹرڈوئیل کے کہنے کے مطابق دنیا پہ سوچ اور خیال ہی تو حکمرانی کرتے ہے۔ ہر انسان میں تخلیقی صلاحیتیں بے پنا ہوتی ہے لیکن انھیں بہت کم بروۓ کار لایا جاتا ہے یا یہ کہنا بجا نہ ہوگا کہ اُن صلاحیتوں کو کوئی سمت نہیں ملتی تو انکی افزائش کہاں سے ہو؟ اِس دنیا میں کتنے ہی ایسے لوگ ہے جو کئی صلاحیتں کئی تخلیقیت اور جدت درست انداز میں سمجھے بغیر مر گئےمطلب وہ صلاحیتیں بھی مر گئی وہ سوچ بھی مر گئی جو کامیابی کا بنیادی عنصر ہو سکتا تھا۔ ذہانت تو ہر انسان میں موجود ہوتی ہے بلکہ عظیم سائنسدان البرٹ آئن سٹائن کا اس بات پے ایمان تھا کہ ہر بچہ فطرتاً ذہین ہوتا ہے لیکن زیادہ تر بچے اپنی تخلیقیت کھو دیتے ہے اسکے زمےدار گھر کا ماحول ,تعلیمی ادارے خاص طور پر ہمارے وہ رویئے ہوتے ہے جو اُنکی سوچ کو سمجھے بغیر انھیں اپنے مرتب کیے ہوئے اصولوں اور تنقید کے جار میں ڈال کر معاشرے میں ایک غیر تخلیقی انسان کو متارف کراتے ہیں اور یہئ "غیر تخلیقی "ہو کر تعلیم تو حاصل کر لیتے ہے مگر اسکا مقصد سمجھے بغیر, مطلب اپنے زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کی سیکھ ہی نیں ملی, ہمارے معاشرے اور تعلیمی اداروں میں "سوچ”کی اہمیت کو نظر انداز کیا گیا ہے یہ کہنا قدرے مضاہقہ خیز ہوگا کہ "بغیر سوچ کے پڑھا لکھا انسان”ویسے بھی روۓ زمین پر جتنا فساد تعلیم یافتہ جاہلوں نے برپا کیا ہے یہ شاہد ہی کسی جاہل نے کیا ہوگا کیونکہ کسی جاہل کا نقصان ہمیشہ انفرادی ہوتا ہے لیکن پڑھے لکھے انسانوں نے ہمیشہ سماج اور قوم کو باری نقصان سے دو چار کیا ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد تو سوچ کو redesign کرنا ہوتا ہے تا کہ سوچ وسیع ہو اور انسانdecision making کی طاقت رکھتا ہو,سوچ کے تمام پہلو تعلیمی میدان میں غیر معمولی پیش رفت اور مختلف کتب کے مطالعے سے ممکن ہو سکتا ہے مگر پاکستان میں %75سے زیادہ لوگ ڈگری کے اصول کے علاوہ مطالعے کو غیر ضروری سمجھتے ہے جو ایک لمہ فکریہ ہے۔
ہمارے ملک میں جدت پسندی قدرے کم ہے کیونکہ نئی سوچ کی حوصلہ افزائی بہت کم ہوتی ہے اور کہاں جاتا ہے کہ انسان جب سوچنا چھوڑ دیتا ہے وہ زہنی طور پے مر جاتا ہے۔ ہم اکثر سنتے آۓ ہیں کہ بچوں کو تعلیم دو یہ کہنے کے بجاۓ ہمیں اس بات پے زور دینا چاہیے کہ اپنی نسل کو تعلیم کیساتھ ساتھ سوچ دو انکی تخیل کو فروغ دو انھیں اپنے جبلت کے مطابق سوچنے دو تاکہ کل کو وہ انسانیت کے کام آسکے جیسے کہ سقراط جن لوگوں سے ملتا تھا وہ انھیں اپنی عقل سلیم ( common sence)کو استعمال کرنے پر مجبور کرتا تھا۔ جوسٹین گارڈر نے اپنی کتاب (صوفی کی دنیا)میں کہاں ہے کہ اپنی خلقی عقل کو استعمال کریں خلقی عقل کے استعمال سے مراد یہ یے کہ آپ اپنے اندر جھانک کر دیکھیں اور جو کچھ وہاں ہے اسے استعمال کریں کیونکہ انسان جب تک کسی شے کا ادراک نہیں کرتا دماغ اسطرح خالی ہوتا ہے جیسے استاد کے آمد سے پہلے تختہ سیاہ ہوتا ہے۔ لیکن تعلیم اب محض ڈگریوں کا اصول رہ گیا ہے وہ ڈگریاں جن میں تعلیم کو مکمل کرنے کی مور تو لگ جاتی ہے لیکن وہ سوچ اور تخیل سے خالی ہوتی ہے۔ کہاں جاتا ہے تعلیم جسکے اندر داخل ہوتی ہے وہ سادگی اختیار کرتا ہے اور جسکے اوپر سے گزر جاتا ہے وہ ماڈرن بن جاتا ہے اور بلکل ایسے ہی ہمارے معاشرے میں کافی ماڈرن تعلیم یافتہ لوگ نظر آتے ہیں لیکن ان میں معیاری سوچ کا فقدان سب سے زیادہ پایا جاتا ہےعبدالستارایدھی نے بھی کہاں تھاکہ ہمارا ملک پڑھے لکھے جاہلوں سے بھرا پڑا ہے ,ہمیں تعلیمی اداروں میں ایسے استاد مہیا کرنا چاہیے جو تعلیمی ایجنڈوں کو متارف کراۓ جو تعلیم کو بچوں کے لیے بوج نیں بلکہ سیکھنے سوچنے اور تخلیق کرنے کا عمل بناۓ۔ علامہ اقبال کا فرمان ہے کہ”دنیا والوں کے لیے ضروری ہے کے وہ آگے پڑھے اور آگے پڑھے لیکن مسلمانوں کو پیچھے جانا چاہیے اور پیچھے جانا چاہیے, یعنی چودا سوسال پہلے کی روایات کو اپنا کر اپنی بقاء کو یقینی بنائیں۔لیکن آجکل ہمارے نو جوانوں کے رجحانات دیکھ کر یقین سے کہاں جا سکتا ہے کہ یہاں نہ سوچ پے کام ہوا ہے نہ اخلاقی اقدار سکھاۓ گئے ہیں یا وہ ماحول یا استاد نہیں ملتا نہ ہی ایسے رہنما, کیونکہ استاد یا رہنما تو ہوتا بھی وہی ہے جو سوچ کو بدل کر آدمی کو انسان بناۓ,صرف ایک طے شدہ نصاب کے علاوہ بچوں کی شخصیت اور تخلیقیت پے کام کریں اصل میں استاد اور رہنما کا کام ہی سوچ کو سمت دینا ہے لیکن زمانہ جدید کے ہوتے ہوۓ بھی بچوں کے کندھوں پے صرف کتابوں کا بوجھ ڈالا جاتا ہے اور یہی بچے بڑے ہوکر معاشرے پے بوجھ بن جاتے ہے۔ بچوں کی ایسی پرورش اور نشوونما ہو جیسے کے ہونی چاہیے تبھی تو ہمارے نوجوان اب صرف سوشل میڈیاں پر قیمتی وقت صَرف کرتے ہے ہمیں مستقبل کے معمار ٹک ٹاک پر ناچتے نظر آتے ہیں۔
سورہِ التِین سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو بہترین سانچے میں پیدا کیا یہ سانچہ یا تقویم صرف جسمانی خدوخال ہی نہیں بلکہ اسمیں غورو فکر جیسی صلاحیتیں بھی شامل ہے تعلیم کا مقصد ہی غوروفکر ہے, سوچنا ایک بہترین عمل ہے بس اسکی تربیت ملنی چاہیے۔ ڈاکٹر ایڈور ڈی بونو کا خیال ہے "سوچنا”بطور مضمون سکولوں میں پڑھایا جاۓ کیونکہ ہم جن مسائل کا شکار ہوتے ہے وہ اس لیے کہ ہمیں سوچنا نہیں آتا اور معاملات کو تخلیقیت سے سدھارنا نہیں آتا جسکے لیے بہت ضروری ہےکہ ابتدائی تعلیم سے ہی بچوں کو سوچنے پر آمادہ کرنا چاہیے اُنکی تخیل کو سمجتے ہوۓ انکی مضمر صلاحیتوں ادراک کر کے انھیں ملک و قوم کے لیے اپنے خود کے لیے ایک بہترین انسان بنانا چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق اپنی تخلیقیت سے انقلاب پیدا کرے اپنی سوچ سے ایک مستحکم معاشرہ تشکیل دے اور اپنے ہونے کا مقصد تعین کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*