محمد سلیم بھٹہ ۔  وابستگی کا استعارہ

جن لوگوں کا  لائل پور (موجودہ فیصل آباد) جانا ہوا ہے  وہ جانتے ہیں کہ اس شہر کے آٹھ بازار ہیں۔ ہر بازار گھنٹہ گھر سے شروع ہوتا ہے. کسی بازار میں جس جگہ بھی کھڑے ہو جائیں گھنٹہ گھر کو سامنے ایستادہ پائیں گے۔ ان بازاروں میں ایک کچہری بازار ہے۔ اگر کچہری بازار میں سرکلر روڈ کی طرف سے داخل ہوں تو دائیں ہاتھ پہلی گلی وکیلاں والی گلی کہلاتی ہے۔ اسی گلی میں میاں محمود احمد کا گھر تھا۔ گھر کا مکین میاں محمود احمد انوکھی شان والا تھا۔ لائل پور کے کسی لیڈر کا ذکر ہو. پارٹی ورکر کی بات ہو کسی تنظیم کا تذکرہ ہو اور کسی بھی تحریک کا بیان ہو. میاں محمود احمد گھنٹہ گھر کی طرح سامنے نظر آئیں گے۔اس لکھت میں جس شخصیت کو موضوع سخن بنایا جا رہا ہے وہ  محمد سلیم بھٹہ ہے۔ سلیم بھٹہ کی زندگی کی کہانی میاں محمود کے تذکرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے لہذا سلیم بھٹہ کے ساتھ میاں صاحب کا ذکر بار بار آئے تو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔

یہ دونوں مہاجر تھے دونوں لدھیانہ شہر سے آ کر لائل پور میں بسے تھے۔ وہی لدھیانہ جو ساحر لدھیانوی، حمید اختر،حزیں لدھیانوی،  قمر لدھیانوی، م حسن لطیفی، پنچھی باورا،گوپال متل،پورن سنگھ آزاد  اور  ابن انشا کا بھی دیس تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے وطن کو حسین بنانے کے خواب بُنے اور اپنے خوابوں کو اظہار کی قوت عطا کی۔ اُس دیس سے  چوہدری غلام مرتضیٰ،اسحاق ساقی،فتح محمد پردھان،ڈاکٹر تاج دین، کامریڈ عبدالستار انصاری جیسے لوگوں نے لائل پور کو اپنا مسکن بنایا. جنہوں نے ان حسین خوابوں کو عملی شکل دینے کے لیے جدوجہد کی جنہوں نے اپنی جدوجہد کا محور محنت کشوں کو بنایا. وہی محنت کش جو دھرتی کے ان داتا ہیں جو دکھوں میں ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ان محنت کشوں کو شعور وآگہی دینے میں اپنی توانائیاں صرف کیں۔

لدھیانہ محنت کشوں کاشہرتھا۔کپڑے کی دیسی کھڈیاں اس کی وجہ شہرت تھیں۔تقسیم کے وقت محنت کشوں کی یہی ہنر مندی تھی جوانہیں لائل پور کھینچ لائی اس ہنر مندی کے پنپنے کے یہاں شاندارمواقع تھے۔  لائلپورکپاس کی کاشت کا ا یر یا تھا ہندوستان کی تقسیم کے و قت دوکاٹن ملزمیں سے ایک  لا ئل پور کاٹن ملزیہاں موجودتھی۔لدھیانہ کے محنت کشوں کا خیال تھا یہ شہر انہی وجوہات کی بنا پر ان کی بہترکفالت کرے گااور ترقی کے زیادہ  مواقع دے گا۔

گورنرجنرل غلام محمدکے دور میں ایک بڑے رقبے پر خوبصورت نقشے کے تحت مزدور طبقہ کے لیے ایک کالونی بنائی گئی، جس کا نام غلام  محمد ٓاباد رکھا گیا،اگرچہ یہاں امرتسر،ہوشیار پور،جالندھر،انبالہ کے لوگوں کو بہت ساری الائٹمنٹس ہوئیں،مگر لدھیانہ ڈسڑکٹ کی خصوصاً انصاری اور ملک برادری کی ایک بڑی تعداد یہاں آ کربسی۔تناسب کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ غلام محمد آبادکا ساٹھ فیصدہیں۔

ان بسنے والے لوگوں میں سلیم بھٹہ بھی شا مل تھے۔

سلیم بھٹہ کا تعلق کاشتکار فیملی سے تھا،ہجرت کے کا فی عرصہ بعد تھوڑی سی زمیں کلیم مین مل گئی۔ لیکن وہ بنیادی طور پر محنت کش طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔تقسیم کے سبب سب سے زیادہ دکھ محنت کشوں نے سہے،خاندان کے خاندان مقتل گاہ کی بھینٹ چڑھے کچھ جانیں بمشکل بچا کر یہاں پہنچیں۔مفلوک الحالی کی وجہ سے زندگی کافی مشکل بن گئی تھی۔

سلیم بھٹہ کے لڑکپن کا زمانہ تھا۔کوئی جمع پونجی پاس نہ تھی اور کوئی ہنر ہاتھ میں نہ تھا،گھر بار بھی نہ تھا،بوڑھی والدہ جوان بہنوں کا  بوجھ نان نفقے کا مسئلہ،ایک بڑا مسئلہ تھا۔چھوٹی چھوٹی مزدوری سے کام شروع کیا۔جس سے گھر کا چولہا جلنا شروع ہوااور ابتدائی روزی روٹی کا بندوبست ہو گیا۔ انصاری برادری کی اکثر یت کھڈیوں پر بنائی کا کام کرتی تھی۔سلیم بھٹہ نے ان لوگوں کی رفاقت کی وجہ سے یہ ہنر سیکھ لیا،جس سے باقاعدہ مزدوری کا انتظام ہو گیا۔

لائل پور کپاس کی کاشت کا ایریا تھا۔ کاٹن ملز کی موجودگی اور کھڈیوں کے وسیع کاروبار نے اس شہر کو کپڑے کی بڑی مارکیٹ بنانے کے ابتدائی اسباب مہیا کیے۔ساٹھ کی دہائی میں حکومت نے سرمایہ داروں کو سہولتیں فراہم کیں تو یہاں کارخانے لگنے شروع ہوئے۔ آہستہ آہستہ یہ کپڑے کی صنعت کا مرکز بن گیا. برطانیہ میں مانچسٹر کپڑے کی صنعت کا گڑھ تھا۔ لائل پور بھی اسی نسبت سے پاکستان کا مانچسٹر کہلایا۔ ان لگنے والی ملوں میں ایک رحمانیہ کاٹن ملز تھی۔ سلیم بھٹہ کھڈیوں کی مزدوری چھوڑ کر اس مل میں بھرتی ہو گئے۔ کھڈیوں کی مشقت بہت دقت طلب تھی. یہاں نسبتاً کام آسان اور تنخواہ زیادہ تھی اسی وجہ سے مل میں کام کرنے کو ترجیح دی۔

میاں محمود احمد کا تعلق ایک متمول گھرانے سے تھا. وہ ان دنوں گورنمنٹ کالج لائل پور کے طالب علم تھے تب طلبہ میں ترقی پسند تنظیم ڈیموکریٹک سٹوڈینٹس اپنے تشکیلی مراحل میں تھی۔ اس کا تاسیسی اجلاس کراچی میں منعقد ہوا. اس اجلاس میں میاں محمود احمد، سیف خالداور میاں محمداکرم سمیت بہت سے طالب علم شریک ہوئے۔  ادھر لائل پور صنعت کے پھیلاؤ کی وجہ سے بڑا ہو رہا تھا. انہی دنوں سلیم بھٹہ کی ٹریڈ یونینز سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔ بقول عبدالستار انصاری (جولائل پور کمیونسٹ پارٹی کے دفتر واقع جھنگ بازار میں سیکریٹری تھے) لائل پور کاٹن ملز کی یونین ہمارے پاس تھی. دوسری ملیں لگنے پر ہم کامریڈ محمد طفیل کی سربراہی میں مزدوروں سے رابطہ کرتے تھے۔ کئی بار ساتھیوں نے رحمانیہ کاٹن ملز کا دورہ کیا۔ تاکہ مزدوروں کو اپنے حقوق سے آگاہی ہو اور وہ یونین سازی کریں۔اور اس کی طاقت سے اپنے اوقات کار کم کروا ئیں اور معاوضے میں بہتری لا ئیں۔ اس وقت طبقاتی تنظیمیں بنانے کا کام ترقی پسند ہی کرتے تھے۔رجعتی پارٹیوں نے اس کام کو بعد میں اپنایا۔بہت محنت کے بعد رحمانیہ ملزکے کچھ مزدور تنظیم سازی کے لیئے تیار ہوئے.ان مزدوروں میں سلیم بھٹہ بھی شامل تھے۔

سلیم بھٹہ تنو مند،جوان تھے،ان کے قد کاٹھ کو دیکھتے ہوئے انہیں یونین کا صدر چن لیا گیا،ان خصوصیات کی بنا پر عہدے دار چننا باعث حیرانی ہے.بات دراصل یہ تھی کہ مل مالکان یونین سازی کے سخت مخالف تھے،وہ اپنے غنڈوں کے ذریعے اس عمل کو روکتے تھے،اور تشدد سے بھی گریز نہ کرتے تھے،اس لیے کمزور لوگ ان سے خوفزدہ رہتے تھے،سلیم بھٹہ کا چناؤ اسی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا گیا،تاکہ ڈنڈی پٹی کا مقابلہ ڈنڈی پٹی سے کیا جاسکے۔وقت نے اس انتخاب کو صیح ثابت کیا،سلیم بھٹہ نے اسے ایک مشن کے طور پر اپنایا،آگے چل کر انہوں نے پارٹی کے لیئے بے تحاشہ خدمات سر انجام دیں۔

میاں محمود احمد سٹوڈنٹس یونین سرگرمیوں سے پارٹی سیاست کی طرف تیزی سے بڑھ رہے تھے،سلیم بھٹہ میں بھی میچورٹی آ رہی تھی۔

پارٹی کے تمام ونگز کے مشترکہ اجلاس ہوتے تھے،کسی اجلاس میں دونوں کا تعارف ہوا اور یہی تعارف زندگی بھر کا تعارف بن گیا۔کئی نشیب وفراز آئے۔بہت سارے کھٹن حالات کا سامنا ہوا،پارٹی مختلف مراحل سے گزری،اس پہلے تعارف سے قائم شدہ تعلق زندگی بھر کا تعلق بن گیا جو زندگی کی آخری سانس تک قائم رہا۔

ٹریڈ یونین کی صدارت کی وجہ ہمیں تعجب میں ڈالتی ہے اور  نام سے بھی حیرت ہوتی ہے،تو سوچتے ہیں کہ ان کا جٹ برادری سے تعلق تھا۔ شاید سب کاسٹ بھٹہ ہو.لیکن ایسا نہیں تھا،وہ اپنی ٹریڈ یونین سرگرمیوں کی وجہ سے مل سے فارغ کر دیئے گئے تب ایک دوست کے تعاون سے انھوں نے بھٹہ خشت بنایا۔سلیم صاحب کے بہت سارے احباب ان کے ہم نام تھے،انفرادیت کے لیئے انھیں سلیم بھٹہ والا پکارا جاتا تھا۔ان کا بھٹہ خشت کا کاروبار کوئی خاص سود مند نہ ہونے کی وجہ سے بند کرنا پڑا،لیکن سلیم بھٹہ کا نام چلتا رہا.آہستہ آہستہ والا کا لاحقہ حذف ہو گیا اور بھٹہ ربچ گیا یہی نام وجہ شہرت ہوا۔ اور اسی سے جانے جاتے ہیں۔

پاکستان میں روشن فکر کی سیاسی جماعتوں کی ایک تاریخ ہے.لائل پور میں ان جماعتوں کی تنظیمیں موجود رہی ہیں.ہم اجمالاً اس کا ذکر کرتے ہیں تاکہ سلیم بھٹہ کے سیاسی کردار کو سمجھنے میں آسانی ہو۔تمام روشن خیال جماعتوں کی مدر  پارٹی کمیونسٹ پارٹی تھی۔کمیونسٹ پارٹی کو کالعدم قرار دیدیا گیا؛وسیع پیمانے پر کارکنوں کی پکر دھکڑ ہوئی.جیلیں،قیداور نظر بندیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ترقی پسند سیاست کے تمام راستے بندکر دیئے گئے۔ پنجاب میں میاں افتخار الدین کی سربراہی میں آزاد پاکستان پارٹی بنی تو سیاست کی گنجائش پیدا ہوئی.لائل پور کے اکژ ساتھی اس پارٹی میں شامل ہو گئے۔

ادھر ون یونٹ نے صوبوں کی شناخت ختم کی، ادھر تمام صوبوں کے لیڈروں نے مل کر جن میں غفار خان،جی ایم سید،مولاناعبدالرحیم پوپلزئی،عبدالحمید سندھی اور بلوچستان کے اکثر لیڈروں نے پیپلزپارٹی بنائی۔ وہ موجودہ پیپلزپارٹی نہیں تھی۔ اسے بھی کام نہ کرنے دیا گیااور پابندی لگا دی گئی، مشرقی پاکستان میں بھی یہ قد غنیں کسی نہ کسی قسم میں موجود تھی۔ریاستی جبر بے پناہ تھا.اسی جبر کے نتیجے میں نیشنل عوامی پارٹی کا ظہور ہوا.لائل پور کی تمام قیادت اس پارٹی میں شامل ہوگئی۔عوامی نیشنل پارٹی کا اثرتیزی سے بڑھااور اسے وسیع حلقوں کی حمائت ملی۔ امریکہ روس کے گرد اپنا دائرہ تنگ کرنا چاہتا تھا۔نیشنل عوامی پارٹی کی مقبولیت اور لائن امریکی حکمت عملی کی راہ میں رکاوٹ تھی۔امریکن تائید سے ایوب خان نے ملک میں مارشل لاء لگا دیااور ہر قسم کی سیاست پر پابندیاں عائد کر دیں۔

جب پابندیاں نرم ہوئیں روس چین تنازعہ شدت اختیار کر چکا تھا. اس تنازعہ نے پسماندہ ممالک کی ترقی پسند تحریک کو بہت نقصان پہنچایا. نیشنل عوامی پارٹی اس نقصان سے نہ بچ سکی. ولی گروپ اور بھاشانی گروپ میں تقسیم ہو گئی. بھاشانی گروپ مزیدٹکرے ہوا اور مزدور کسان پارٹی کی صورت میں ایک نیا گروپ نمودار ہوا۔ ان تقسیموں میں سلیم بھٹہ اور میاں محمود احمد ایک ساتھ کھڑے رہے. انکی ہمیشہ ذہنی ہم آہنگی رہی۔

سقوط ڈھاکہ کے بعد بھاشانی گروپ کو قیادت میسر نہ رہی. اور مشرقی پاکستان کا طاقتور  ونگ بنگلہ  دیش کے قیام سے علیحدہ ہو گیا تو خانیوال میں مغربی پاکستان کے گروپ نے کانگرس منعقد کی جہاں سوشلسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی گئی۔ سوشلسٹ پارٹی کی قیادت سی آر اسلم کے سپرد ہوئی اور پنجاب کی زمہ داریاں میاں محمود احمد کو تفویض ہوئیں۔ لائل پور کی پارٹی کی تعمیر کا کام سلیم بھٹہ اور اسکے ساتھوں کو دیا گیا۔ اس سے پہلے سلیم بھٹہ ٹریڈ یونین کے کام کا وسیع تجربہ رکھتے تھے اور محنت کشوں کے مسائل سے بخوبی آگائی رکھتے تھے۔

لائل پور پارٹی کی تعمیری سرگرمیوں نے ان کی صلاحتوں میں بے پناہ اضافہ کیا. یقینا یہ صلاحیتیں ایک دن میں پیدا نہیں ہوئیں ان کو حاصل کرنے میں انہیں پچیس سال لگے. ان کی صلاحیتوں کا اظہار اچھے منتظم اور شفیق استاد کے بطور ہوا۔

وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے. وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنا پڑھنا بہتر کر لیا تھا، وہ عوامی جمہوریت کے مستقل قاری تھے۔ جیسا کہ معلوم ہے عوامی جمہوریت میں چھپنے والے مضامین بہت آسان اور سادہ زبان میں لکھے جاتے تھے. کیونکہ اخبار کے زیادہ تر قارئین پارٹی ورکرز تھے. کارکنوں کا تعلق ورکنگ کلاس سے تھا. جنہیں زیادہ پڑھنے کے مواقع میسر نہیں آئے تھے اور ان کا دقیق اور پیچیدہ زبان سمجھنا مشکل تھا. سی آر اسلم قارئین کی اس مجبوری کو مدنظر رکھتے تھے۔سی آر اسلم مختلف اوقات اورموضوعات پر کتابچے لکھتے رہتے تھے۔وہ کتابچے مختلف اضلاع میں جاتے.سلیم بھٹہ انہیں خود بھی پڑھتے تھے آگے ساتھیوں میں بھی تقسیم کرتے تھے۔اس مطالعے نے انہیں نہ صرف مارکسی اصطلاحات سے روشناس کروا یاتھا بلکہ انہیں ان کی وضاحت پر بھی ملکہ حاصل ہو گیا تھا. ان کا عمل ان کی کم علمی پر حاوی تھا.ان کی وابستگی کافی مظبوط تھی.کمٹ منٹ ان کا ایسا وصف تھا جس نے ان کی کمزوریوں کا مداوا کر دیا تھا۔

قیادت انفرادی عمل نہیں ہے.پارٹی کی تعمیر اجتماعی کاوشوں کا تقاضا کرتی ہے، اسی(۰۸) کی دھائی تک  چوہدری سردار، ظفر رضوی، ماسٹر ارشد،عبدالمجید،کامریڈ نثار،چوہدری غفوراور ڈاکٹر جہانگیر جیسے بے شمار ساتھی ان کے معاون رہے.یہی با صلاحیت قیادت تھی جس نے لائل پور کی سوشلسٹ پارٹی کو ملک بھرمیں سب سے مظبوط مؤثر اور متحرک یونٹ بنا دیا.اور پارٹی کو محنت کشوں کے وسیع حلقوں کی حمائیت میسر رہی۔

۷۷۹۱ کو ملک میں مارشل لاء  تو لگ گیا لیکن خطے میں دو بڑے انقلابات ہوئے ۸۷۹۱ میں افغانستان میں انقلاب ہوا.۹۷۹۱ میں ایران سے شہنشاہیت کا خاتمہ ہوگیا. ایران کا انقلاب شاہ،دشمن امریکی سامراج مخالف انقلاب تھا .البتہ افغانستان کے انقلاب ثور نے پاکستان کے نوجوانوں کو بہت متاثر کیا۔اسی زمانے میں سوشلسٹ پارٹی میں نئی قیادت متعارف ہوئی.پارٹی میں تیزی سے نوجوان خون آیا۔

جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ غلام محمد آباد محنت کشوں کا علاقہ ہے، محنت کش بھی سیکھنا اور جاننا چاہتے ہیں.اسی جاننے کی خواہش سے اس علاقے میں پرویزی حلقہ پیدا ہوا،غلام احمد پرویز مذہب کی سائنس کی بنیاد پرتوضیح کرتا تھا.یہ ایسا  بحث مباحثہ تھا جو ذہنوں کو وسعت بخشتا تھا یہی مباحثہ جامد خیالات، منجمد روایات اور تقلید پرستی کو توڑتے ہوئے نئے نئے سوالات کو جنم دیتا تھا۔پرویزی سوچ کا تعلق موضوع سے تھا.معروض میں محنت کشوں کے مسائل تھے،دکھ تھے تکلیفیں تھیں،ان سے یہ فکر مخاطب نہیں ہوتی تھی، پرویزی فکر سے جو وسعت نظری پیدا ہوئی.وہ اس حلقے کو سوشلسٹ نظریات سے متعارف کروا گئی۔

ندیم جعفری اور سلیم بھٹہ کی محنت تھی جوانہیں پارٹی کے قریب لے آئی۔ان میں ماسٹر اشرف، ساجد اقبال صفدر، گلزار فلسفی،کامریڈ سردار،یٰسین انقلابی اور گلزار پاویل  اور دوسرے بہت سے لوگ شامل تھے.انہیں دنوں ملک امجد اور عارف ایاز پارٹی میں آئے۔

پارٹی کے ابھار کا زمانہ تھا۔اسٹیٹ لائف میں ترقی پسندوں کی ایک بڑی منڈلی تھی اس منڈلی کی قیادت سہیل راہی کر رہے تھے.پارٹی کو ایک بڑی کھیپ یہاں سے مہیا ہوئی۔بات کو واضح کرنے کے لئے بعض گوشے ایسے ہوتے ہیں جن کا ذکر کرنا اہم ہوتا ہے.اس کے بغیر سیاسی تاریخ کا بیان ادھورہ رہ جاتا ہے،لاہور میں پاک ٹی ہاؤس ہے،جیسے شاہ محمدمری کے کوئٹہ میں  لَٹ خانہ کا ذکر کرتے ہیں۔یہاں لائل پورمیں جھنڈا گلی کا ہوٹل مشہورتھا۔آپ اسے چائے خانہ کہہ سکتے ہیں.یہ ہوٹل دائیں بازو کے افراد کی نشست گاہ تھا۔یہ ہوٹل کچہری بازار میں میاں محمود احمد والی گلی کے بالمقابل گلی میں واقع تھا.جھنڈے کے ہوٹل کے سامنے کامریڈ عاشق کا چائے خانہ بائیں بازوکے لوگوں کی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ اسی چائے خانے میں سلیم بھٹہ کی نشست مخصوص تھی وہ ہر روز وہیں آ کر بیٹھتے تھے. آنے والوں کی تواضع چائے سے کی جاتی تھی۔ سارا دن سیاسی کارکنوں کی رونق لگی رہتی تھی شہر میں ہونے والی تمام سرگرمیوں کی خبر یہاں سے مل جاتی تھی۔ نئے نئے موضوعات زیر بحث رہتے تھے۔ ایک سیاسی مکالمہ تھا ہر وقت چلتا رہتا تھا اور تمام نقطہ نظرکا یہاں بیان ہوتا تھا۔ بعض دفعہ ناخوشگوار صورت بھی پیدا ہو جاتی تھی. کچھ لوگ یہاں چسکے کے لیے آتے تھے تب سیاسی گفتگو کی بجائے ذاتیات کو موضوع سخن بنایا جاتا تھا. اس وقت سلیم بھٹہ کا رویہ سخت ہو جاتا تھا۔ مخالفوں کا کہنا تھا یہ شخص اپنی جھولی میں وٹے (پتھر) لے کر بیٹھا ہوتا ہے۔ بہر طور یہ نشست گاہ تربیت گاہ تھی۔

کئی دفعہ یہاں بیٹھنا نشستن گفتن برخاستن لگتا تھا۔ اسے با مقصد بنانے کے لئے بقول ساجد اقبال صفدر ہم دوستوں نے تجویز دی کہ اس بحث مباحثے کے عمل کو ہمیں گلیوں محلوں فیکٹریوں اور مزدوروں کے اجتماعات میں لے جانا چاہیے. تاکہ لوگ با شعور ہوں اور پارٹی کی جڑیں عوام تک پھیلیں. پارٹی کی بنیاد وسیع ہو. اس تجویز کو ہم نے میاں محمود کے سامنے رکھا. انہوں نے اسے بہت اچھی تجویز کہتے ہوئے اسکی تائید کی۔ اس طرح بتدریج پارٹی کاز سارے شہر میں پھیل گیا. جہاں گنجائش ہوتی سٹڈی سرکل منعقد کیا جاتا۔

سلیم بھٹہ کو اس کام میں ملکہ حاصل تھا وہ پارٹی ممبران کو متحرک رکھتے، میٹنگ کی جگہ کا تعین کرتے، وقت مقرر کرتے،ساتھیوں کو میٹنگ کی اطلاع کرتے۔ میٹنگ کی جگہ نشستوں کا بندوبست کرتے. موضوع کا انتخاب کرتے، کاموں کی ایک لمبی فہرست تھی جو ان کے ہاتھ سے انجام پاتی۔ سوشلسٹ پارٹی کا دفتر کچہری بازار میں تھا. جہاں ہفتہ وار اجلاس ہوتا تھا، سلیم بھٹہ سب سے پہلے دفتر پہنچتے تھے۔

عوامی جمہوریت اس وقت ہفت روزہ اخبار تھا۔ لائل پور میں ڈیڑھ سو پرچہ آتا تھا۔ ڈسٹری بیوشن ان کی ذمہ داری تھی۔ جس وقت پرچہ یہاں پہنچتا، سائیکل پر سوار ہو کرتقسیم کے لئے نکل پڑتے۔ انہوں نے کچھ دوستوں کو اپنی معاونت میں شامل کر رکھا تھا پانچ پرچے ماسٹر ارشد، دس پرچے ڈاکٹر تاج دین اسی طرح کچھ دوسرے لوگ پرچہ ہر ساتھی تک پہنچاتے تھے۔یہ ایسا انتظام تھا کہ پرچہ پہلے دن ہی ہر ہاتھ میں ہوتا تھا۔

عوامی جمہوریت اطلاعات کا موثر ذریعہ تھا. اس اخبار میں عالمی اور ملکی حالات پر مضامین، تبصرے اور تجزیے چھپتے تھے۔ ہفتہ وار اجلاس میں عموماً عوامی جمہوریت کا کوئی مضمون پڑھا جاتا، اس کا جامع جائزہ لیا جاتا۔ اس طرح پارٹی کے نقطہ نظر پر سیر حاصل بحث ہو جاتی تھی. سلیم بھٹہ جواب دہی کا اہتمام بھی کرتے تھے جو کتابچہ یا پمفلٹ پڑھنے کے لئے ورکرز کو دیتے تو سوالات کے ذریعے اس کی پرکھ کی جاتی کہ قاری کو اس کی سمجھ بھی آئی ہے کہ نہیں۔ وہ تعلیم کا یہ طریقہ روا رکھتے تھے جہاں وضاحت کی ضرورت ہوتی یا کوئی کمی رہ جاتی اس پر مزید گفتگو کرتے۔ مطالعے کے لیے ساتھیوں کو کتابیں مہیا کرنا، پڑھنے کے بعد کتابوں کو واپس لینا بھی ان کے ذمہ تھا۔ کسی مرکزی یا صوبائی اجلاس میں لائل پور پارٹی نے شرکت کرنی ہوتی تھی توسفر کے دوران ان کی صلاحیتیں اور ابھر کر سامنے آتیں۔ سواری کا انتظام کرنا، زادراہ کا بندوبست کرنا متعلقہ جگہ پہنچ کر ٹھہرانے کا انتظام کرنا، کھانا خود اپنے ہاتھوں سے تقسیم کرنا. یہ تمام ذمہ داریاں وہ رضاکارانہ اپنے اوپر لیتے تھے۔

کامریڈشپ ایسی کہ پارٹی ورکرز کی مدد کے لیے ہر وقت تیار رہتے۔  اگر کوئی ادھار مانگتا. اگر اپنے پاس پیسے نہ ہوتے دوسروں سے ادھار لے کر، ایک سے نہ ملتے تو دو چار سے رقم لے کر پارٹی کارکن کی مدد کرتے۔ اکثر ایسا ہوتاکہ مقروض قرض کی رقم واپس کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوتا تو اپنی جیب سے واپس کرتے. ان کی شفقت انمول تھی۔ ویسے وہ کسی پر بوجھ نہیں بنتے تھے اور دوسروں کو بوجھ نہ بننے کی تلقین کرتے تھے۔

راقم الحروف ذاتی طور پر ان کی شفقت سے مستفیض ہو چکا ہے۔  ۱۸۹۱ میں شوکت حیات، چوہدری شفیق، شمس پرویز اور عاصم جاوید کے ساتھ ضیائی مارشل لاء کے ملزم ہوئے۔ تقریباً ہمیں تین سال لائل پور ڈسٹرکٹ جیل میں رکھا گیا۔ پارٹی کی طرف سے ہر پندرہ دن بعد ملاقات کی جاتی تھی۔ ہمیں ضرورت کے مطابق سامان جیل پہنچایا جاتا تھا۔ دو تین پارٹی کے ساتھی اس میں شامل ہوتے تھے جن میں ایک سلیم بھٹہ صاحب تھے۔ دوسرے ساتھی (چوہدری غفور اور ڈاکٹر جہانگیر) کی ادل بدل ہوتی رہتی تھی مگر سلیم بھٹہ ہر ملاقات میں موجود ہوتے. تین سال یہ سلسلہ جاری رہا. سلیم بھٹہ صاحب سے کبھی ناغہ نہ ہوا۔ تین ماہ کے لیے ہمیں سرگودھا جیل منتقل کر دیا گیا ان کا وہاں بھی ملاقات کا یہی معمول جاری رہا۔

کہتے ہیں ماضی میں ہمہ وقتی کارکن ہوتے تھے.جنہیں پارٹیاں ضرورت کی حد تک معاوضہ دیا کرتی تھیں.لائل پور میں ہمہ وقتی کارکن کا تصور دوسری طرح دیکھا گیا.یہاں میاں محمود احمد نے جو کمایا پارٹی پر خرچ کر دیا.سلیم بھٹہ صبح نو بجے تک اپنی روزی روٹی کا کام کرتے اور شام چار بجے تک پارٹی سرگرمیوں میں مصروف رہتے.

ناصر سلیم ان کے صاحب زادے ہیں،ان سے والد کی گھر داری کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے بتایاکہ وہ پارٹی کو بھی اپنی فیملی کی طرح سمجھتے تھے، وہ کہتے ہیں گھرداری کے معاملے میں فیملی کو کبھی گلہ نہیں ہوا،لیکن وہ بیشتر وقت پارٹی ہی کو دیتے تھے.یہی دس برس لائل پور پارٹی کے عروج کا زمانہ ہے،  انہیں اپنے وقت کی کوئی پرواہ تھی نہ کسی صلہ کی تمنا، انہوں نے پارٹی کواپنا اثاثہ جانا۔

دن ڈھل رہا تھا.زندگی کی شام ہو رہی تھی،وہ پارٹی جس کی تعمیر میں سب سے زیادہ حصہ لیابہت کچھ قربان کر دیا،ٹوٹ گئی اور دوحصوں میں تقسیم ہو گئی،یہ سب نا قابل برداشت تھا۔وہ تحرک  باقی نہ رہا جذبے کیسے جوان رہتے،جنون کیسے برقرار رہتا مگروہ مایوس نہ تھے لیکن حالات مایوس کن تھے.پارٹی کو دوبارہ جوڑنے کا عمل شروع ہوا.ان دونوں کے بہت سے تحفظات تھے.دوسرا یہ کہ وہ توانائیاں نہ رہیں کہ خود اس عمل میں حصہ لیتے.سلیم بھٹہ اور میاں محمود احمد کی خواہش تھی کہ پارٹی کا نام ہر حالت میں سوشلسٹ پارٹی رکھا جائے.مگر یہ تمنا پوری نہ ہوئی،میاں صاحب کی دن بدن لاچارگی بڑھتی جا رہی تھی۔

دوستوں خاص کر سلیم بھٹہ،چوہدری غفور،ڈاکٹر تاج الدین،وکلاء برادری، ملک امجد،امین شاد،کاروباری دوستوں میں میاں افتخار،سلطان محمود،حاجی عبدالرزاق اور بہت سے ان گنت دوستوں نے انہیں تنہائی محسوس نہ ہونے دی۔

جیسے جیسے وقت گزرتا گیا بیماریاں زیادہ حملہ آور ہوتی گئیں آخر انہیں ہسپتال داخل کروا دیا گیا،سلیم بھٹہ، ڈاکٹر تاج الدین اور چوہدری عبدالغفور سائے کی طرح ان کے ساتھ تھے. دن کو اگر چوہدری غفور میاں صاحب کو سنبھال  رہے تھے تو رات کو سلیم بھٹہ اٹینڈنٹ ہوتے،بیماری نے تمام امیدوں کو توڑ دیا،آخر ۳ جولائی ۹۹۹۱ کو میاں صاحب اس جہان فانی سے کوچ کر گئے، جب سلیم بھٹہ کو میاں صاحب کی رفاقت میسر نہ رہی تو وہ بھی زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکے اور ۳۱ مئی ۲۰۰۲کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*