روس کا فروری انقلاب

 

1917کا سال پہلی عالمی سامراجی جنگ کا چوتھا سال تھا۔ یہ جنگ خندقوں، بارودی سرنگوں، ٹینکوں، جہازوں، اور زیریلے دروغ کی جنگ تھی۔

فروری1917کا مقبول ابھار ایک آتش فشانی منظر نامہ تھا۔ ایسے ابھرا کہ ساون کے بادل کی طرح حکمرانوں کو سنبھلنے بھی نہ دیا۔ لیکن کیایہ محض فطرت کی کسی قوت کی دھاڑ تھا؟ نہیں۔ تیاریوں کے سالہا سال بعد، جیلوں جلاوطنیوں اور پھانسیوں کے بعد ہی مزدور شعور پاگئے اور بادشاہت کے خلافاٹھ کھڑے ہوئے۔

پہلی سامراجی عالمی جنگ نے سرمایہ دار طاقتوں کے درمیان تضادات کو ہی واضح نہ کیا بلکہ بہ یک وقت لوگوں کے مصائب میں بھی بے پناہ اضافہ کر دیا۔ جس وقت ابتدائی حب الوطنی کی خوش فہمی چھٹ گئی اور جنگ کی ہولناکیاں واضح ہو گئیں تو انقلابی لہر مزید تیز ہو گئی۔ 1916 میں آئر لینڈ پہ برطانوی قبضہ کے خلاف سوشلسٹ قیادت میں بغاوت ہوئی۔ اس سے اگلے برس روسی عوام نے بادشاہ کا تختہ الٹ دیا۔لینن زیورچ میں لائبریریاں کنگھال رہا تھا۔ لکھ رہا تھا۔۔۔۔۔

سال 1917کاافتتاح 9جنوری کی ہڑتال سے کیا گیا۔

عورتوں کے عالمی دن) 23فروری (کے موقع پر ویمن ٹکسٹائل ورکرز نے دارالحکومت میں ہڑتال کردی۔ عوام جو روٹی کے لیے لمبی قطاروں کو طویل کر کر کے تھک چکے تھے، فیکٹریوں کے حالات ابتر ہوچکے تھے۔ یہ ہڑتالی مزدور عورتیں سڑکوں پر امڈ آئیں اور دوسری فیکٹریوں کے مزدوروں سے یک جہتی کا کہا۔تحریک تیزی سے بڑھتی لگی۔ اسلحہ ساز فیکٹریوں کے مزدور بھی اِن میں شامل ہوگئے۔25فروری تک پٹروگراڈ کی ساری فیکٹریاں بند ہوگئیں۔

ہڑتالوں کے چوتھے دن پولیس نے کئی گرفتاریاں کیں اور جب سپاہیوں نے مجمعوں پہ گولیاں چلائیں تو سینکڑوں لوگ زخمی اور ہلاک ہوئے۔ مگر اگلے دن تک کئی رجمنٹوں نے بغاوت کردی اور صرف پٹروگراڈ میں 65ہزار سپاہی بغاوت میں شامل ہوئے۔

زار کی حکومت نے یہ کوشش کی کہ  بڑھتے ہوئے انقلاب کو فوج کی طاقت سے دبا دیا جائے۔ لیکن یہ اس کی طاقت سے باہر تھا۔ سپاہی باغی مزدوروں سے مل گئے اور ان کے ساتھ زار شاہی کے خلاف کارروائیاں کرنے لگے۔ لینن کی پیش گوئی  صحیح ثابت ہوئی۔

البتہ لینن کی ایک پیشن گوئی غلط ثابت ہوئی۔ اس نے انقلاب سے کچھ عرصہ قبل نوجوانوں سے خطاب کیا تھا۔ اُس میں اُس کا کہنا تھا کہ ”ہم معمر نسل کے لوگ اِس آنے والے انقلاب کی فیصلہ کن لڑائیوں کو دیکھنے کے لیے شاید زندہ نہ رہیں“۔ (2)

اس دوران روس میں موجود قوموں کے اندر نیشنلزم کی زبردست ابھار اٹھی ۔ یوکرین بپھر چکا تھا۔ اسی طرح فِن، آرمینیاٹی، آزری اور جارجیائیوں نے اپنی زیادہ آزادی کی جدوجہد شروع کی تھی۔

22جنوری 1917کو لینن نے زیورخ میں نوجوان مزدوروں کے اجلاس کو بتایا ”یورپ میں موجودہ قبر جیسی خاموشی سے ہمیں دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔ یورپ انقلاب سے چارج ہے۔ سامراجی جنگ کے ہیبت ناک مہنگائی سے پیداشدہ دکھ ہر جگہ ایک انقلابی روح بیدار کرتے ہیں۔ اور حکمران طبقات، بورژوازی اور اُن کی دُم چھلا حکومتیں، مزید اور مزید اندھی گلی کی طرف جارہی ہیں۔ جہاں سے وہ زبردست ابھاروں کے بغیر اپنی جان کبھی بھی نہیں چھڑا سکتیں“۔(3)۔مگر ایک بات یاد رکھنے کی ہے۔ لینن نے کبھی بھی خود کو روز مرہ کا انقلابی نجومی نہیں بنایا۔

فروری کے معاملات بہت پیچیدہ تھے۔ مزدوروں نے بغاوت کردی اور سپاہیوں نے اُن پر گولی چلانے سے انکار کردیا۔

”بہر حال فروری 1917کو وزیروں نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ کابینہ کو وزیروں کے بجائے پارلیمنٹ (ڈوما) کے سامنے جوابدہ بنایا جائے۔ مگر بات بنی نہیں۔ تب پارلیمنٹ نے ایک عارضی کمیٹی مقرر کر کے حکومت کا انتظام اس کے حوالے کردیا۔ اور کابینہ کو پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ بنایا۔

ولادیمیر لینن اور اس کی پارٹی کی محنت رنگ لاتی گئی۔ بے مقصد جنگ نے روس کے اندر بے آرامی بے صبری بے حد بڑھادی۔ یہ دیگ بالآخر 1917میں کھول اٹھا۔ اِس بار جنگِ عظیم کی شکستوں کی لہریں رکاوٹیں عبور کررہی تھیں جو کہ 1905میں شکست سے دوچار کردی گئی تھی۔ روسی شکستوں کے ساتھ پولینڈ کی کوئلہ کانیں اور فیکٹریاں چلی گئیں، اور ملک کی نصف پیداوار لڑنے والی فورسز پرخرچ کی جارہی تھی۔ مگر فوج تو محاذ سے فرار ہورہی تھی۔ 1916میں دس لاکھ سپاہی جنگ چھوڑ چلے گئے (4)۔

22جنوری کو فادر گاپون کی برسی کے جلوس میں پٹروگراڈ میں ڈیڑھ لاکھ نے ہڑتال کی، آٹھ مارچ کو ایک نئی عام ہڑتال شروع ہوئی۔ گلیاں مزدوروں سے بھر گئیں۔ اس بار اُن کے خلاف فوج استعمال نہیں کی جاسکتی تھی۔ فوج تو الٹا باغیوں کی طرف ہوچکی تھی۔ لوگ جنگ سے بیزار ہوچکے تھے اور زار بادشاہ شاہی خاندان سے اُن کا اعتماد مکمل طور پر اٹھ چکا تھا جو کہ راسپوٹین کے زیر اثر تھا۔  بڑے جاگیردار اور بورژوازی کے مفاد میں تھا کہ جنگ جاری رہے۔

جاتے جاتے اُس نے اسمبلی (ڈو ما) برخواست کرنے کی کوشش کی تھی۔ مگر اِس بار اسمبلی ڈٹ گئی  اور اس اسمبلی نے ایک عارضی حکومت کا اعلان کردیا۔

27فروری کو ساٹھ ہزار فوجی مزدوروں کے ساتھ مل گئے۔انقلاب کے دوران مزدوروں اورسپاہیوں کی ”سوویتیں“ قائم ہوئیں۔ یہ ایک عظیم کامیابی تھی۔ چونکہ بالشویکوں کی اکثریت قید میں تھی یا جلاوطن تھی اس لیے منشویکوں اور سوشلسٹ انقلابیوں نے پیٹروگراڈ کی سوویت پر قبضہ کر لیا۔ ماسکو اور کئی مقامات پر بھی یہی عمل ہوا۔

لینن جنیو امیں جلاوطن کالونی میں تھا جب جنوری میں ”خونی سنڈے“ کی خبریں آئیں۔۔۔جب پیٹرسبرگ میں زار کے ونٹر پیلس کے سامنے ایک غیر مسلح ہجوم پر فوج نے گولی چلادی۔ فادر کیپون نامی پادری اس ہجوم کی قیادت کررہا تھا۔ یہ غیر معمولی صدمہ تھا۔

بادشاہ خود جنرل ہیڈ کوارٹرز گیا تاکہ اس مشکل سے نجات پائے مگر پیٹروگراڈ واپسی کی کوشش میں ریل کے مزدوروں نے اس کی ٹرین روک دی۔ بادشاہت کی ساری مشینری جام ہوگئی۔ ڈوما کے سیاست دان دباؤ بڑھاتے رہے۔ وہ ایک عبوری حکومت قائم کرنے کی جانب بڑھ رہے تھے۔دوسرے بڑے مرکز ماسکو میں بھی  بڑے پیمانے پر گڑ بڑ شروع ہوگئی۔

فروری میں بادشاہ کو ٹیلیگرام کے ذریعے اپنی دسترداری بھیجنے پر مجبور کیا گیا۔ وہ آنسوؤں بھری آنکھوں کے ساتھ تخت چھوڑنے پر مجبور ہو ااور روس،بادشاہی تاج کی بدقسمتی سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہوگیا۔

آرمی کی مدد سے حکمران بے طاقت ہوئے۔ زار حکومت کے وزیروں کی اکثریت گرفتار کر لی گئی اور نکولس دوئم 15مارچ 1917کو دستبردار ہوا۔ یوں 1613 سے قائم بادشاہت مرگئی۔ بادشاہ اور اس کی بیوی، چار بیٹیوں اور ہیمو فلیازدہ بیٹے کے ساتھ گھر میں نظر بند کیے گئے۔ انہیں جولائی 1918میں شہر اکاٹرن برگ میں بالشویکوں نے گولی ماردی۔

اس انقلاب کو بوراژوا ڈیموکریٹک انقلاب کانام نصیب ہوا۔پیٹرو گراد کے مزدوروں اور سپاہیوں کی انقلابی  پیش قدمی کی پیروی ماسکو اور دوسرے شہروں کے مزدوروں اور  سپاہیوں نے بھی کی۔ انہوں نے زار شاہی کے حاکموں کو نکال باہر کیا اور شاہی نظام کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔نکولس دوئم،جس کے باپ نے لینن کے بھائی الیگزنڈر پر کوئی رحم نہ دکھائی تھی، اب عام شہری رومانوف بن چکا تھا۔ روس میں بورژوا جمہوری انقلاب ہو گیا۔

جب انقلاب کی خبر پکی ہوگئی تو لینن نے کولنتائی کو خط میں لکھا: ”یہ ہے۔ جنگ کے نتیجے میں پیداشدہ  پہلے انقلاب کا  ”پہلا مرحلہ“۔ یہ آخری نہیں ہوگا اور”محض روسی آخری“ انقلاب نہ ہوگا۔(6)

مزدوروں کی ایک سوویت 1905کے فالج کے بعد دوبارہ زندہ ہوگئی جس کی ایگزیکٹو کمیٹی میں منشویک اور بالشویک دونوں موجود تھے۔ سوویت نے فوج لانے کا فیصلہ کیا اور ملک کو مزدوروں اور سپاہیوں کا سوویت بنانے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔۔۔ اب اقتدار عبوری حکومت اور پیٹروگراڈ سوویت کے بیچ کھینچاتانی میں تھا۔ سوویت،عوام کا ترجمان تھا جو کہ امن، روٹی، آزادی، زمین چاہتے تھے۔عبوری حکومت چونکہ بورژوازی میں سے تھی اُس لیے وہ محض رومانوف سے نجات چاہتی تھی۔ اس میں جنگ کا وزیر گچکوف تھا جو کہ ماسکو کا بڑا صنعتکار تھا، وزیر خارجہ میلیو کوف تھا جو کہ روسی بورژوازی کی پارٹی ”کیڈٹ“ کا لیڈر تھا۔ وزیر قانون نوجوان وکیل کیرنسکی تھا۔۔۔۔۔۔

اور کرنسکی نامی شخص،اقتدار کی کرسی پہ براجمان ہوگیا۔ کیرنسکی بھی لینن کی طرح سمبر سک کے چھوٹے والگا قصبے سے تھا۔ اس کے باپ نے لینن کو سکول میں پڑھایا تھا۔ وہ لینن سے دس برس چھوٹا تھا۔ وہ SRRپارٹی کے دائیں بازو سے وابستہ تھا۔ مقبول وکیل تھا جس نے زار کی استبدادی حکومت کے شکار لوگوں کا دفاع کیا تھا۔ وہ ایک زبردست مقرر تھا۔ یہ بہت دلچسپ شخص تھا۔الیگزنڈر کیرنسلی 1912کے لینا گولڈ فیلڈز ہڑتال اکسانے والے والے ملزموں کی عدالت میں دفاع کی بنا پر مشہور تھا۔ یہ 36سال کی عمر کا تھا۔ ہینڈ سم، نوجوان شکل وصورت۔ وہ ایک ڈرامائی مقرر تھا،جب چاہتا آنسو بہاتا اور جب چاہتا بے ہوش ہوجاتا۔

اس سے متعلق ہر بات جذباتی ڈرامہ تھی۔ پبلک میں وہ ایک سادہ سپاہی والا چوغہ پہنتا تھا اور ساتھ میں یہ ڈراما بھی کہ زخمی کردہ اپنے بازو پر گردن سے ایک سیاہ پٹا پہنا تھا۔ گھر میں وہ ایک خوبصورت ڈریسنگ گاؤن میں مہمانوں کا استقبال کرتا۔۔۔ وہ ایک ”محبت وطن“تھا۔ اس کی ساری تقریروں میں ”مادِر وطن“ کی تکرار رہتی۔ حد سے زیادہ شعلہ بیان اور جذباتی مقرر۔(7)

مارچ کے مہینے میں جب زار کی پرانی بیوروکریسی اور پولیس فورس کے برج پورے روس میں دھڑام سے ڈھے گئے، تو ان کی جگہ عوامی کونسلوں، سوویتوں، فیکٹری کمیٹیوں، کسانوں کے کلیکٹوز اور دیگر مقبول کنٹرول کی تنظیموں کے ایک پریشاں مجموعے نے لی جس نے خود اپنے مقامی اور گروہی مفادات کو دیکھتے ہوئے افراتفری سے استفادہ کیا۔ سینٹ پیٹرسبرگ کا نام بدل کر پیٹروگراڈ رکھا گیا۔2مارچ کو پٹروگراڈ سوویت نے اپنا مشہور آرڈر  نمبر1جاری کیا جس نے ہر فوجی یونٹ میں سپاہیوں کی کمیٹیاں قائم کرنے،افسروں اور سپاہیوں کے بیچ روایتی مراتب والے  تعلقات کے خاتمے کا اختیار دیا۔ فوج کو مکمل شہری آزادیاں دی گئیں جب وہ ڈیوٹی پہ نہ ہوں اور خطا ب کرنے کی خصوصی صورتوں کو غیر قانونی کردیا۔

اپریل کے شروع میں بعد از زار خوش فہمی اور دو اقتداروں کی حالت سے مخصوص جوش، اور حتی کہ بالشویکوں مانشویکوں کے دوبارہ انضمام کے جوش کے دوران انقلابی برابری میں ایک تیسرا عنصر شامل ہوا: لینن(8)

لینن نے  بورژوازی کے رنگ میں ایک بار پھر بھنگ ڈالنا تھا۔ اُس نے اِس نئی حکومت کو زار بادشاہی کی گاڑی کی پانچواں پہیہ قرار دے کر مسترد کردیا۔

ریفرنسز

۔ دی اوریجن۔ صفحہ37

۔             کروپسکایا۔ این۔ memories of lenin۔صفحہ 145۔

۔ ڈیوڈ شپ۔ صفحہ181

کول، کشن پرشاد۔ تاریخ انقلاب روس۔ 2010۔ بک ٹائم کراچی۔ صفحہ59۔

۔ لوئی فشر۔ دی لائف آف لینن صفحہ108۔

۔پیٹرسن میخائل۔ دَہ سلیڈ ٹرین۔1975۔ putnam۔نیویارک صفہ28

۔ سیلڈ ٹرین۔ صفحہ102

۔ ہسٹری آف اکتوبر ریولیوشن صفحہ19

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*