*

جانتا ہوں کہ وہ وقت آئے گا
جب مری شاعری کو اچانک کبھی
چاند آکاش گنگا میں نہلائے گا
جانتا ہوں کہ وہ وقت بھی آئے گا
جب زباں کا تعصب نہ ہو گا کہیں
میری خوشبو سے ہر اک مہک جائے گا
جانتاہوں کہ وہ وقت بھی آ ئے گا
جب نگر اور ڈگر ایک ہو جائیں گے
میرا آدرش جب مجھ کو اپنائے گا
جانتا ہوں کہ وہ وقت بھی آئے گا
میری مدفون مٹی پر روؤ گے تم
کوئی راہی مرا گیت جب گائے گا

ماہنامہ سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*