فرحت پروین کی کہانیاں

”منجمد“ سے ”کانچ کی چٹان“ تک

بچپن میں بزرگوں نے کہانیاں سنا سنا کر ایسی عادت ڈالی کہ آج تک سوتے وقت کہانی کی کتاب ہاتھ میں نہ ہو تو نیند آنکھوں سے روٹھی رہتی ہے۔ ایسی راتوں میں کہانی کی طلب شبِ فراق کے معنی سمجھا دیتی ہے کہ نیند آبھی جائے تو ویسی گہری اور میٹھی نہیں ہوتی جیسی کہانیاں پڑھنے کے بعد آتی ہے۔ خصوصاً اچھی کہانیاں اپنے ماحول اور کرداروں میں اس طرح جذب رکھتی ہیں کہ ان کے درمیان سے نکل کر نیند کی وادی میں قدم رکھنے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ کہانیوں کی اسی طلب میں بچپن سے اب تک داستانوں اور افسانوں اور ناولوں کی کتنی ہی کتابیں پڑھ ڈالیں۔ ساری دنیا کے ادب سے جو تراجم اردو اور انگریزی میں دستیاب ہوئے ان سے بھی شوق پورا کیا مگر یہ طلب کبھی ماند نہ ہوئی۔
ایک دن لاہور میں منعقد، ایک تقریب میں سعداللہ شاہ نے کچھ کتابیں تحفتاً دیں۔ ان میں افسانوں کا مجموعہ ”منجمد“ بھی شامل تھا۔ ”منجمد“ کی کہانیاںاپنے بیان اور کردار نگاری میں اتنی پر اثر تھیں کہ انھوں نے اپنی گرفت سے نکلنے نہیں دیا اور ان کو پڑھ کر لکھنے والی کا نام ذہن میں منجمد ہوگیا۔ ان کہانیوں کا پہلا تاثریہ تھا کہ فرحت پروین نے ان کے تانے بانے زندگی کی سفاک حقیقتوں سے بنے ہیں۔ ان کے زیادہ تر کردار حالات کی سنگینی اور سماجی نا انصافی کا شکار ہیں۔ جو بات بالکل واضح محسوس ہوئی، وہ یہ تھی کہ فرحت پروین نے اس بے رحم معاشرے میں پیش آنے والے معاشی و سماجی جبر کو بہت شدت سے محسوس کیا اور معاشی ناہمواریوں کو معاشرتی نظام سے مربوط دیکھا ہے۔ ان کا حساس مشاہدہ ان نا انصافیوں پر انھیں اس قدر مضطرب رکھتا ہے کہ وہ تلخیوں کو بساط بھر کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے خود بھی ایک ایسا کردار بن جاتی ہیں جس کے گرد روایات اور دوہری اقدار کا نادیدہ جال ب±نا ہوا ہے۔ وہ اسے توڑنے کی کوشش میں ناکام ہوتی ہیںاور کرداروں کے دکھ میں اپنے دکھ کو بھی شامل کردیتی ہیں۔ ایسا ہی ایک کردار ان کے پہلے مجموعے ”منجمد“ کی ایک کہانی ”مامالوچیا“ کی لوچیا ہے۔ لوچیا ایک امریکی کرسچن خاتون شوہر کی ناوقت موت سے معاشی مسائل کا شکار ہے اور اپنے بچوںکا مستقبل بنانے کے لیے تگ و دو میں مبتلا ہے۔ وہ اتنی پریشان ہے کہ مسلمان خواتین سے دعا و تعویذ کے لیے مدد مانگتی ہے اور اس مقصد کے لیے کہانی کار تک پہنچ جاتی ہے۔ کہانی کا اختتامی حصہ یہاں نقل کررہی ہوں۔
”میں پہلے ہی ہاتھ دیکھ کر کافی جھوٹ بول چکی تھی۔ نفسیاتی سہارے کے لیے ہی سہی مگر مجھ میں مزید جھوٹ بولنے کی تاب نہ تھی۔ میں آخر کہاں تک اس کھوکھلی بے ستون عمارت کو سہارا دیتی۔ میں نے اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہاکہ مجھے اس طرح کے تعویذ لکھنے نہیں آتے۔ تم خدا سے دعا کرو۔ وہ سب کی سنتا ہے اور ایک دکھی معصوم خاتون کی دعا تو اسے ضرور سننی چاہیے۔
میں نے پرس میں سے چارسو ڈالر نکالے اور کہا”دیکھو برا بھی نہ ماننا اور انکار بھی نہ کرنا۔ یہ رکھ لو۔ بجلی اور گیس کے بل کی قسطیں کراکر دکان دوبارہ چالو کرلو“۔
”نہیں نہیں، یہ نہیں ہوسکتا۔ میں اس لیے نہیں آئی تھی“۔ وہ بہت شرمندہ ہو رہی تھی۔
”دیکھو، تم میری بہن ہونا۔ یا تو کہہ دو، نہیں ہو یا پھر رکھ لو“
وہ مجبور ہوگئی۔ کہنے لگی۔”میرا بیٹا خفا ہوگا“
”نہیں ہوگا۔ وہ میرا بھی تو بچہ ہے“میں نے سمجھایا۔
”اچھا دعا کرو۔ میں جلد ہی تمہیں واپس کردوں گی“۔
”اس کی کوئی ضرورت نہیں“ اور میں نے اسے بہت سی دعاﺅں کے ساتھ رخصت کردیا۔
وہ اتنی ممنون ہورہی تھی کہ مجھے دل میں ایک عجیب سے غرور آمیز سرور کااحساس ہوا۔ اور پھر یہ احساس بڑھتا گیا، پھیلتا گیا اور مجھے یوں لگا کہ کمرہ بہت تنگ ہوگیا ہے یا پھر میرا وجود ہی اتنی وسعت اختیار کر گیا ہے کہ اس کا کمرے میں سمانا مشکل ہورہا ہے۔ ہاں یہ جگہ مجھے اپنے وجود کے لیے بہت تنگ… بہت کم محسوس ہورہی تھی۔ میں گھر سے باہر نکل آئی۔ مجھے ساری جھاڑیاں اپنے سامنے لوچیا کی طرح دوزانو نظر آئیں۔ درختوں پر پتے لوچیا کے جڑے ہوئے ہاتھوں کی طرح نظر آئے۔ میرے پیروں تلے پتے چومرائے اور مجھے ایسا لگا میں زمانہ قدیم کی کوئی مغرور ملکہ ہوں۔ کنیزیں میری راہ میں زمین بوس ہیں اور میں خشک پتوں کو نہیں، ان کے بالوں، ان کے لباسوں کو قدموں تلے روندتی ہوئی گزر رہی ہوں۔ میں نے خوشبو سے لدی ہوئی خشک ہوا ایک گہری سانس کے ساتھ اپنے اندر اتاری۔ ہوا میں خوشگوار خنکی اور خوشبو کے ساتھ ایک مٹھاس رچی ہوئی تھی۔ طمانیت کے گہرے احساس کے ساتھ میں نے آسمان پر نگاہ دوڑائی۔ سفید سفید روئی جیسے چھوٹے چھوٹے بادل، ڈوبتے سورج کی روشنی میں گلابی گلابی سے لگ رہے تھے۔ مجھے اس روز کالوچیا کا چہرہ یاد آگیا اور پھر یہ گلابی شفق میرے چہرے پر بھی اتر آئی۔ کچھ پرندے اتنے اونچے اڑ رہے تھے کہ لگتا تھا بادلوں میں سے گزر جائیں گے یا پھر بادل ہی نیچے اترآئے تھے۔ مجھے لگ رہا تھا کہ اگر میں ذرا سا ایڑیاں اٹھاﺅں تو بادل کو چھولوں گی۔ تب میرا دل چاہا کہ میں اس بادل کو پکڑلوں اور اس پر سوار ہو کر سارے شہر پر اڑتی پھروں کہ دیکھو لوگو، تم کتنے بے خبر ہو۔ لوگوں کے دکھوں سے، غموں سے، تم انسانیت سے کتنے بے بہرہ ہو۔ ادھر دیکھو۔ یہ میں ہوں۔
کافی دیر گھومنے کے بعد میری کیفیت نارمل ہوگئی اور میں اپنے آپ میں آگئی۔ بچوں کیلئے کھانا لگارہی تھی کہ میرا بیٹا بھی آگیا۔”امی آپ نے انٹونیو کی امی کو چارسو ڈالر دیئے ہیں؟“
”ہاں“ میں نے بے پروائی سے کہا۔
”وہ بہت شکریہ ادا کررہی تھی“
”کوئی بات نہیں بیٹے“۔ میں نے بڑی متانت سے کہا۔” چلو کھانا کھاﺅ“۔
ایک مہینے بعد میرے بچوں نے بفلو سے ساٹھ میل دور راچسٹریونیورسٹی میں ٹرانسفر لے لی اور ہم وہیں منتقل ہوگئے۔
اور آج اچانک لوچیا کا فون آیا۔ اس نے پتہ نہیں کہاں سے میرا فون اور پتہ حاصل کیا تھا۔ انتہائی عقیدت و احترام سے شکریہ ادا کرنے کے بعد اس نے بتایا کہ اس نے چارسو ڈالر کا چیک میل کردیا ہے۔ وہ میری بہت ممنون ہے اور مجھے ہمیشہ یاد رکھے گی۔ اس نے اصرار کیا کہ ہم جب بھی بفلو آئیں تو اسے میزبانی کا شرف ضرور بخشیں۔ میں نے اس سے کاروبار کے متعلق پوچھا۔ اب وہ اس صدمے کو سہہ چکی تھی۔ اس نے بتایا ”روپے کا انتظام نہیں ہوسکا تھا۔ قانوناً سامان ضبط کرلیا گیا اور میرا بیٹا پھر سے وہیں کام کررہا ہے جہاں پہلے کرتا تھا۔ شکر ہے اس نے دوبارہ رکھ لیا“۔
ماریو کی معصوم صورت میرے ذہن میں آئی ہے۔ اس کے خون پسینے کی کمائی اپنی آنکھوں کے سامنے لٹتے دیکھ کر میں عرقِ ندامت میں غرق ہوئی جارہی ہوں۔ میں لوچیا کی نیلی آنکھوں کی ندیوں میں ڈوبتی جارہی ہوں۔
بڑی آزردگی سے میں نے ریسیور واپس کریڈل پر رکھا ہے تو میری انگوٹھی کا نگینہ جھلملا اٹھا ہے۔ ست رنگی شعاعیں اس سے پھوٹ نکلی ہیں اور صرف اسی انگوٹھی کی قیمت پانچ ہزار ڈالر سے زیادہ ہے۔!“
ایسی کہانیاں وہی لکھ سکتا ہے جو دل کی آنکھوں سے دیکھتا ہے، جس نے باطن کی کھڑکی بند نہ کی ہو۔ ہر طرح کی عصبیت سے پاک انسانیت پر یقین رکھنے والا حساس فرد دوسروں پر پتھر پھینکنے کے بجائے خود کو لہو لہان کرلیتا ہے۔ وہ کانٹے جو معاشرے میں طبقاتی اور سماجی جبر کی صورت میں بچھائے جاتے ہیںاس کی چبھن حساس فرد کے دل تک پہنچتی ہے۔ جب وہ آدمی کو انسان بننے کے بجائے درندگی کی طرف جاتے ہوئے دیکھتا ہے تو ان کے درمیان زندگی گزارتے ہوئے دوہرے عذاب سے دوچار ہوجاتا ہے۔ میں نے فرحت پروین کو ان کہانیوں میں ایسے ہی حساس فرد کے طور پر پہچانا تھا۔ پھر دوسال کے بعد ان سے ملاقات ہوئی تو ان کی تحریروں اور ذات میں تضاد نظر نہیں آیا۔ ہماری ملاقات بھی اسی طرح ہوئی جس طرح کہانیوںکے کردار ملتے ہیں۔ اس ملاقات کا سبب بھی اس عہد حاضر کی دو اہم شخصیتیں بنیں جنھیں ہم لیجنڈ بھی کہہ سکتے ہیں۔ میں گزشتہ دنوں لاہور میں منیرنیازی صاحب کی سالگرہ کی صدارت کا دعوت نامہ دینے انتظار حسین صاحب کے گھر جارہی تھی۔ تبھی فرحت پروین کا فون آیا جو مجھے مدعو کررہی تھیں۔ میں نے انھیں ساتھ چلنے کی دعوت دی اور انھوں نے قبول کرلی۔ یہ سب ایسے طے پاگیا کہ ہم دونوں اس گمان میں رہے کہ انتظار حسین کے گھر کا پتہ دوسرے کو معلوم ہے۔ یہ تو بعد میں پتا چلا کہ فرحت پروین بھی لاہور میں مہمانوں کی طرح قیام کرتی ہیں۔ بہرحال ہماری جستجو سچی تھی اور ہم نے انتظارحسین کا گھر تلاش کرلیا۔ مگر ساتھ ہی ہم نے ایک دوسرے کو بھی پہچان لیا کہ سفر کا ساتھ ہی زیادہ معتبر ہوتا ہے۔ ہماری یہ ملاقات دو ہم عصر کہانی لکھنے والوں کی ایسی ملاقات ثابت ہوئی جو عہد حاضر کو اپنے اپنے انداز میں لکھ رہے ہیں۔ مگر احساسات اور جذبات ہم آہنگ ہیں۔ اگرچہ ہم دونوں مختلف مقامات پر پروان چڑھے اور ہمارے درمیان کوئی رابطہ بھی نہیں تھا لیکن ”کانچ کی چٹان“ کی چند کہانیاں تو ایسی لگیں کہ جیسے کہانیاں سنانے والی ہم دونوں کی ہم زاد ہو۔ میں نے ان کی کہانیوں کے آئینے میں کئی ایسے کردار پہچان لیے جن کے عکس کو تصویر کرنے کی کوشش میں، خود بھی کہانیاں لکھتی رہی ہوں۔ دراصل یہ کردار ہمارے عہد کی سچائیوں کو بیان کررہے ہیں۔ ایسے ہی سچے کردار ہم عصروں کو قریب لے آتے ہیں۔ اب چاہے آپ انھیں بین المتنیت کہیں یا کچھ اور نام دیں، یہ مشترک سچائی عہد کی گواہی بن جاتی ہے۔ ان کا اظہار اپنے اثرات میں اتنا گہرا ہوتا ہے کہ علامتوں کے ابلاغ کا مسئلہ بھی پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ استعارے اور علامتیں اس طرح کھلتی جاتی ہیں جس طرح لکھنے والے نے اپنے بیان کے بہاﺅ میں انھیں اظہار کی ضرورت سمجھا ہے۔ وہ سچا اظہار جس میں کہانی کار کسی سچویشن میں قاری کو لے جانے کے لیے ایسی جہت کو بھی سامنے لاتا ہے جو عمومی تحریروں میں نظروں سے اوجھل ہوتی ہے۔ یہ تیسری جہت داستان گو کو طوالت میں لے جاتی ہے مگر جدید کہانی کار کو علامت کا راستہ دکھاتی ہے۔ فرحت پروین جنہوںنے کہانی کا سفر ساد بیانیہ(Realisim) سے شروع کیا تھا اور بہت باریک بینی سے کرداروں کے ساتھ کہانی کار کی نفسیات بھی پیش کرتی ہیں ”کانچ کی چٹان میں“ مختصر گو ہونے کے ساتھ امپریشنسٹک بھی ہوگئی ہیں۔ اس کی مثال ان کی کہانی کے اس اقتباس میں دیکھیں۔
”اس نے جگمگاتے ہوئے سکوں اور روشنی اگلتے ہیرے جواہرات کے گرد کئی چکر لگائے۔ اس کی آنکھیں ہیروں کی طرح جگمگانے لگیں اور پھر وہ بڑی احتیاط سے خزانے کے اس ڈھیر پر بیٹھ گیا۔
ناگن لہراتی بل کھاتی شیش ناگ کی طرف بڑھی۔ ا±س کا سنہرا بدن ناگ کے ساتھ مَس ہونے سے کچھ سکے کچھ جواہرات اِدھر ا±دھر بکھر گئے۔ شیش ناگ پھنکارا۔ ناگن پیچھے ہٹ گئی۔ ڈر کر نہیں، ناراض ہوکر۔ پھنکار تو وہ بھی سکتی تھی۔ وہ بھی ناگ سے کچھ کم نہیں تھی۔ مگر جس محبت سے وہ اپنے ناگ کی طرف بڑھی تھی اور جس طرح وہ ہیرے جواہرات کے بکھرنے پر پھنکارا تھا، اس نے اسے مغموم کردیا تھا۔ وہ دور ہٹ کر اپنی ہی ک±نڈلی میں سردے کر پڑ گئی۔
سنپولیے جنگل سے گھوم پھر کر لوٹے۔ وہ آپس میں کھیلتے، خوش فعلیاں کرتے باپ کی طرف بڑھے۔ وہ انھیں قریب آتے دیکھ کر زور سے پھنکارا۔ سنپولیے ڈر کر پیچھے ہٹ گئے، ان کی خوش فعلیاں دم توڑ گئیں۔ وہ آہستہ آہستہ رینگتے ہوئے ماں کی طرف بڑھے۔ دل شکستہ ناگن نے آہستہ سے سر اٹھا کر دیکھا اور پھر سے کنڈلی میں سر دے لیا۔ سنپولیے آہستگی سے ماں کے جسم کے ساتھ لگ کر سوگئے۔
شیش ناگ نے مشکوک نظروں سے سوئی ہوئی ناگن اور سنپولیوں کو دیکھا۔ خزانے کے ڈھیر کو مزید سمیٹا اور اس کے اوپر کنڈلی مارکر پڑ گیا۔“
اس علامتی کہانی میں ایک ایسی عورت کے کرب کو بہ آسانی محسوس کیا جاسکتا ہے جو بیوی اور ماں ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*