نامکمل، غیر مختتم دائرے

معاشی، معاشرتی اور تہذیبی تضادات
دائرے بناتے ہیں
ہم تنگ دائروں میں
گھومتے رہتے ہیں
دائروں کا
غیر مختتم سفر
سوچ کی ہر سطح
ایک دائرے کے مانند
بھوک کے دائرے
خوف کے دائرے
انا اور تشہیر کے دائرے
بے یقینی کے دائرے
موت کی وحشت کے دائرے
دائرے ، تنگ نامکمل دائرے
دائروں کا ارتقائ
سوچ کے مانند
چلتا رہتا ہے
دائرے اور دائروں کو
جنم دیتے ہیں
تنہائی بسا اوقات
تجرید کے دائرے
بنا دیتی ہے
بہت کٹھن ہے
تجرید کے دائروں کا سفر
سوچ کی نسیں کاٹتا
اور ان پر مرہم
لگاتا رہتا ہے
زیست تلک
تنگ، نا مکمل دائروں میں
رہنا ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*