حدی خوان ٹھہرو !

حدی خوان ٹھہرو !
میں حانی ‘ حدی خوان !
مندو کی بیٹی

حُدی خواں! تُم نے مُبارک کے بیٹے کی مَہری کو دیکھا؟
وہ بدبخت پاگل جواری کو دیکھا؟
حدی خوان شے کی سواری کو دیکھا؟

مری اور دیکھو!
میں حانی ‘ حدی خوان !
مندو کی بیٹی
سعیدوں کی ماری
ڈَسی چاکروں کی
میں شرطوں کی منہ زور موجوں میں بہتی ہوئی آج صحراؤں سے آ لگی ہوں
حُدی خوان شے کا پَتا پوچھتی ہوں
مُبارک کا بیٹا
مقدّر کا مارا
تمہیں کُچھ خبر ہے کہاں کُھو گیا وہ؟

حدی خوان سالوں کے طُرّے گرے ہیں
حسابوں کے پلڑوں میں خم پَڑ گئے ہیں
حدی خوان کتنے برس ہو گئے ہیں
زمانوں کے کُنجوں میں شہزادیوں کے بدن رُل گئے ہیں
بڑھاپے کی لرزش نے کتنی کنیزوں کے ساعد چُھوئے ہیں
تُمہیں کُچھ خبر ہے؟

حدی خوان تُم نے مبارک کے بیٹے کی مَہری کو دیکھا ؟
میں حانی حدی خوان !
مندو کی بیٹی

مگر خاموشی ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*