عوامی میلہ

(سندھ لٹریچر فیسٹیول میں پڑھا گیا )

میں سندھ کی سرزمین پر کسی ادبی ثقافتی فیسٹیول میں بولنے والے ایسے بلوچ کا تصور تک نہیں کرسکتا جو نور کے اکھر لکھنے والے شاہ لطیف کا تذکرہ نہ کرے ۔شاہ لطیف ، سندھی زبان ،کلچر اور سندھی عوام کا ترجمان تو تھا ہی ، مگر وہ تو بلوچ کا بزرگ ،ہمدرد، ٹیچر اور راہنما تھا۔ اُس نے اپنی مقدس شاعری میں بلوچ کو آئیڈیل انسان کے بطور پیش کیا۔ شاہ نے آئیڈیل انسان بننے کے لیے ضروری اوصاف کی ایک لسٹ بھی مرتب کی تھی۔ اور سسی کے احترام کو اُس لسٹ کے اولین نکتے کے بطور درج کیا تھا ۔
یہ بھی لازم ہے کہ میں تﺅکلی مست کا تذکرہ بھی کروں جو بلوچستان میں شاہ لطیف کا ہم فکر فلاسفر اور شاعر تھا۔ اُس کے فلسفے کا بھی اولین نکتہ محترمہ سمو اور اُس کی رعیت یعنی عورت ذات کو انسانی حقوق مہیا کرنا تھا۔
اِس میلے میں حیدر بخش جتوئی کا نام لینا بھی لازم ہے جس کے ترانوں کے بغیر سندھ کی روٹی بے نمک رہتی ۔ زرینہ بلوچ کا تذکرہ بھی لازم جس نے اِن ترانوں کو”تھارن برڈو“الے پُر سوز گلے سے گا کر سندھی عوام کا نقطہ نظر اُس کی سرحدوں سے بہت دور تک پہنچایا۔
ہم سب کو اِس ہال کے اندر تک آنے کی راہ دکھانے والی بڑی ہستیاں شیخ ایاز ، ڈاکٹر نبی بخش بلوچ، دانشور جی ایم سید، سوبھوگیان چندانی، ابراہیم جویو، دانشور رسول بخش پلیجو اور فہمیدہ ریاض ہیں جن کا پاک تذکرہ بھی لازم ۔
خواتین و حضرات۔
چند وحشیوں کو چھوڑ کر ،انسان وہ واحد جاندار ہے جو سینگوں ، دولتّیوں اور پنجوں سے بات نہیں کرتا۔ انسان برگزیدہ ہے ہی اس لیے کہ وہ منہ سے بات کرتا ہے ۔ اور اس میں بھی انسان کے بھیس میں موجود چند بدروحوں کے سوا، انسان مجموعی طو رپر نہ تو دھاڑتا ہے ، نہ چنگھاڑتا ہے اور نہ غراتا ہے ۔ انسان تو بس بولتا ہے ، گاتا ہے، بجاتا ہے ۔ اسی لیے وہ گروہ میں رہتا ہے ، بستیاں بساتا ہے ، ٹمپل و ٹاروِن آباد کرتاہے ۔ کانفرنس و گانگریس کرتا ہے ، کنسرٹ و مشاعرے جماتا ہے اور میلہ و کچہری کرتا ہے ۔ اسی لیے آپ نے یہ سندھ لٹریچر فیسٹیول سجا لیاہے ۔اور اسی لیے میں اس اشرف اجتماع کی اٹنڈنس شیٹ پر اپنی حاضری لگانے آیا ہوں۔ ۔۔۔
اِس طرح کے فیسٹیولز اپنی ماہیت میں دربار مخالف ہوتے ہیں ۔ یہ سرکار سردار کے اثر کی آلودگی سے دور ہوتے ہیں۔ سائیں ،بھوتار اور حضور عوامی میلوں کے الفاظ ہیں ہی نہیں۔ یہاں پاور کے خلاف مزاح میں لپٹی ایک استرداد پائی جاتی ہے ۔
عوامی فیسٹیولز اِس لیے جمیل ہیں کہ اِن میں مطالبات، قرار دادیں ،اورخواہشیں ہوتی ہیں۔مثلاً آج کے عوامی میلوں میں اٹھارویں آئینی ترمیم کو بزرگ کی دستار اور خاتون کے سر کی چادر جیسا تقدس حاصل رہتا ہے ۔ اِن فیسٹیولوں میں اپنی مادری قومی زبانوں میں سائنسی، لازمی اور مفت تعلیم کی مانگ ہوتی ہے ۔ یہاں عوام اپنی ثقافتوں کی آزادانہ ترقی اورارتقا چاہتے ہیں۔ یہاںہنگلاج وہپت تلار جیسے مائتھالوجیکل سائٹس کی دیکھ بھال کا مطالبہ ہوتا ہے ۔ مہر گڑھ اور موہنجوداڑو کی حفاظت کی بات ہوتی ہے۔ یہ میلے تعلیمی نصاب میں تاریخ کے مسخ کرنے کا سلسلہ بند کرنا چاہتے ہیں ۔یہاں لوگ اپنے ہی جزیروں کو اپنا کہنے کی بیکراں تڑپ میں ہیں۔ عوامی میلوں میں لوگ فیوڈلزم اور فاشزم کے خلاف میوزیکل، مگر گرجتے نعرے تخلیق کرتے ہیں ۔ یہاں جہالت کی زنجیروں میںجکڑی اپنی گلیوں کی بات ہوتی ہے ۔ یہاں عوام امریکہ کی پیداکردہ دہشت گردی میں پرخچے ہوئی اپنی لاشیں یاد کرتے ہیں۔ اِن میلوں میں آئی ایم ایف کی سفاکی بات ہوتی ہے ۔ یہاں عوامی دانشور الیکٹڈ اور سلیکٹڈ کی سٹڈی ،بہت دُور اُس کے سرچشمے تک کرتے ہیں۔ ہمارا ہر فیسٹیول سیاہ رات کو جلا کر بھسم کرنے کی کوشش سے شروع اور اسی خواہش پہ ختم ہوتا ہے ۔ ہم ”سب عالم آباد“ کرنے کا ورد کرنے کے لیے میلے سجاتے ہیں ۔ یہاں لوگ اپنے سیاسی ورکروں اور راہنماﺅں کے کاز آف ڈیتھ کی پُر اسراریت سے پردہ ہٹا نا چاہتے ہیں ۔لوگ مسنگ پرسنز کے زندہ ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں جاننے کی چیخیں بلند کرتے ہیں۔ اِس جیسے عوامی میلوں میں موجود لوگ جانتے ہیں کہ سیاسی مسائل کا کوئی ملٹری حل موجود نہیں ہوتا۔ صوبے BAPباپ کے ذریعے نہیں چلائے جاسکتے ۔ اور یہ بھی کہ قلم اور الغوزہ چیک پوسٹ سے دور ہی اچھا چہچہاتے ہیں۔
اسی لیے خواتین و حضرات ۔عوام کے میلوں کے خوف سے سرکار ، سردار ، میر ، پیر اور پنڈت کے پِتے پیٹ کے اندر پھٹ جاتے ہیں ۔ اور اسی لیے میلے نہ کرنے دینے والوں کا ایک کنسوریشم قائم ہے ۔ اُس کی کنسورشیم طرف سے انہیں میلے نہیں کرنے دیے جاتے یا اِن میلوں کو مکھن اور ماکھی سے پالتو بنا نے کی کوشش ہوتی ہے ۔
دوستو۔تِشنہ کام صحرا کے باسیوں میں پیاس ،بہت طویل المعیاد ہوتی ہے ۔ یہاں کے عوام کلچر اور ادب سے بے پناہ محبت کرتے ہیں ۔ اُن کی بیماری کا نام کلچرل تَھرسٹ ہے ۔ وہ فسٹے وِٹی اور فیسٹیول کے ہنگر میں مبتلا مخلوق ہیں۔۔۔۔ اور انہیں پتہ ہے کہ عوامی میلہ کلچر ل پیاس کا شفا خانہ ہوتا ہے ۔ میلہ ان کا کٹورہ ،اُن کا مشکیزہ، اُن کا سندھو دریا ہے ۔ میلہ اُن کی عبادت ،اُن کا آکسیجن ہوتا ہے۔
خواتین و حضرات ۔ پانی پینے کو، پیاسے سے زیادہ کون انجوائے کرسکتا ہے ۔ اور پانی سے بھرے کٹورے کی تکریم ،کربلا کے خمارِ تِشنگی میں مبتلا عوام سے زیادہ کون کرسکتا ہے ۔ اسی لیے ، وہ فیسٹیول برائے فیسٹیول نہیں کرتے ۔اسی لیے وہ اس کٹورے کے ایک ایک مالیکیول کو کار آمد بناتے جاتے ہیں۔ اسی لیے اُن کے میلوں میں اشیائے تعیش کے حصول کی تعفن بھری گفتگو نہیں ہوتی۔اسی لیے اُن کے میلوں میں جسمانی بھوک کے ایپیٹائزرز کی تلاش پہ مقالے نہیں پڑھے جاتے ۔ وہ روح کو خالص رکھنے والے اپنے میلوں میں بتاتے ہیں کہ محبت کے بغیر سونہڑیں ناپاک ہے ۔مہر کے بغیر دھرتی ، میانمار ہے ،اور عشق کے بغیر دنیا، دانتے کی ڈیوائن کامیڈی کا اِنفرنو بن جاتی ہے۔
فیسٹیولز ایک جامد سماج میں متحرک انسانی زندگی کا مظہر ہوتے ہیں ۔ ان کا آغاز ایک اَن کہی خوشی سے ہوتا ہے اور اختتام ہمارے ذہنوں پر ایک جمالیاتی تاثر مرتب کرتا ہے ۔ ہم خوشگوار تاثر پا کر جب اپنے اپنے گھر کو لوٹتے ہیں تو ہمیں یاد آتا ہے کہ ہال میں ،کسی کی دستخط شدہ کتاب کا تحفہ رہ گیاتھا، کسی کا مقالہ بھرا پیکٹ پڑا رہ گیا تھا ، کوئی طالب علم ،نوٹس لیا ہوا اپنا نوٹ بک بھول گیا تھا ۔۔ اور یا ،وہاں کرسی پر ایک گلاب کا پھول رکھا ملا تھا جو مطلوبہ ہاتھ تک نہ پہنچنے کے سبب مرجھا گیا تھا ۔
خواتین و حضرات ۔ یہ کا نفرنس نوروز کے موقع پر منعقد ہو رہی ہے ۔ خواہش ہے کہ تین دن کی بھر پور علمی ادبی سرگرمی کے بعد ہم ایک دوسرے کو ”نوروز مبارک “کہیں اور شیخ ایاز کی یہ سطریں سناتے ہوئے رخصت ہوں کہ :

ٹہنیوں پہ سرخ پھول
جب کھلیں گے،
تب ملیں گے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*