لینن کی سوانح عمری

روس کے اندر دسمبر 1905کی بغاوت کو شکست تو ہوگئی۔ مگر انقلاب فوراً ختم نہیں ہوا۔انقلاب فوراً ختم نہیں ہوتے ۔ عوام اتنی جلد پیچھے ہٹنا نہیں گوارا کرتے ۔چنانچہ ہڑتالوں میں کمی نہیں ہوئی ، کسانوں میں بے چینی جاری رہی اور بحری بیڑے اورفوج میں انقلابی سرگرمیاں موجود رہیں۔ 1906 کی گرمیوں میںملاحوں اور سپاہیوں کی بغاوتیں ہوئیں۔
لیکن بہر حال دونوں بغاوتیں دبا دی گئیں ۔(1)
بادشاہت یا آمریت ،یعنی فاشزم جب بہت کمزور پڑتا ہے تو تین چیزوں کا سہارا لیتا ہے : مذہب پرستی ، وطن پرستی اورنیشنلزم۔ آپ نے غور کیا ہوگا کہ ضیاءالحق نے اسلام کو خوب استعمال کیا۔ مشرف اور ٹرمپ نے ” سب سے پہلے پاکستان“ اور”امیر یکا فرسٹ“ کا نعرہ لگالگا کر وطن پرستی کا سہارا لیا۔ ۔ یہی حال روس کے بادشاہ کا تھا۔ روسی نیشنلزم تیزی سے بادشاہ کا آخری سہارا بنتا جارہا تھا ۔
سیاست کے افق پہ انتہائی دائیں جانب ایسو سی ایشنیں وجود میں آتی جارہی تھیں۔ اُن میں سے ایک ”سیاہ سینکڑے“ تھی جو ”گاڈ، ہولی رشیا ،اوربادشاہ “کے نام پر یہودیوں کا ایک منظم قتلِ عام کر رہی تھی ۔ روایتی شاونزم بغیر تشدد والی شکلیںبھی اختیار کر رہی تھی۔ حکومت کے آسمانی بازو کے بطور آرتھوڈوکس چرچ موجود تھا جو دیگرمذاہب کے ساتھ ساتھ دیگر مسیحی فرقوں کے خلاف بھی اپنی عدم برداشت ظاہر کرتا رہتا ۔
دنیا بھر کے بورژوا دانشوروں کی طرح روس کے دانشوروں کا بھی حال پتلا تھا ۔ لینن جیسا عقل و دانش کا قدردان بھی اِن دانشوروں کے ساتھ ایک عمومی تنقیدی رویہ رکھتا تھا ۔ حالانکہ لینن تو انقلابی جدوجہد ، سیاسی تفہیم اور نظریہ کے ابلاغ میں دانشوروں کے کردار سے خوب آشنا تھا ۔ مگر اس سب کے باوجود اُس کی تحریروں میں دانشوروں کے خلاف تنقیدکی بوچھاڑیں جگہ جگہ ملتی ہیں۔ وہ اُن پر تیزابی حملے کرتا تھا ۔ مثلاً ”دانشوروں کے یہ کمینے ‘ انیمک دانشوران ، دانشوروں کا ڈھیلاپن، اور کاہل بورژوا انٹلی جنشیا“۔۔۔وہ دانشوروں کے اندر موجود پیٹی بورژوا سماجی بنیاد کے حوالے سے خامیاں دیکھتا ۔ یعنی ڈسپلن کا نام لو تو اُن پہ بخار چڑھ جاتا ہے۔ لینن بجا طور پر ہمیشہ ”بورژوا انٹلکچوئل انفرادیت پسندی “ کی طرف اپنے ساتھیوں کی توجہ مبذول کیے رکھتا ۔ یعنی بورژوا دانشور کبھی بھی اپنی انفرادیت پسندی سے باز نہیں آتا۔ جبکہ اُن کے مقابل انقلابی دانشور میں ” پرولتاری تنظیم اور ڈسپلن“ کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ لینن انفرادیت پسندی کے ساتھ ساتھ اُن کی موقع پرستی کی بھی مذمت کرتا تھا۔ وہ پارٹی میں ریفارمسٹ رجحان کے لیے دانشوروں کو ذمہ دار قرار دیتا تھا۔
لینن کو بالخصوص روسی دانشوروں کی بدپرہیزی ، ابہام، لاحاصلی، ہچکچاہٹ ، باتیں بنانے، اور بے انت مباحثوں سے نفرت تھی۔
1905کے انقلاب نے تو روس سمیت پوری دنیا کو متاثر کیا تھا ۔ چنانچہ اُس کے بعد وہاں کی اپنی انقلابی پارٹی کے لیے ایک کانگریس منعقد کرنا ضروری ہوگیا تھا۔ اور اُس سے بھی زیادہ یہ کہ ورکرز کی صفوںمیں پارٹی اتحاد کا پُرزور مطالبہ تھا۔ حالانکہ پارٹی تو دوحصوں میں بٹ چکی تھی ۔ چنانچہ ایک تو کانگریس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور دوسرا، بالشویکوں کی طرف سے مانشویکوں کو دعوت دی گئی کہ ایک مشترک کانگریس منعقد ہو۔
یہ کانگریس 10اپریل سے25اپریل (1906)تک سٹاک ہوم (سویڈن) کے پیپلز ہاﺅس میں منعقد ہوئی۔ یہ جگہ سویڈن کے کمیونسٹوں نے فراہم کی تھی ۔
اِس مشترکہ کانگریس میں لینن نے زرعی مسئلے پر اور موجودہ صورت حال اور پرولتاریہ کے طبقاتی فرائض کے بارے میں رپورٹ پیش کی ۔ اس کے علاوہ ریاستی دوما کی طرف رویے کے سوال پر ضمنی رپورٹ بھی پیش کی ۔ اُس نے مسلح بغاوت اور تنظیمی مسائل پر تقریریں کیں ۔ اس کے علاوہ اس نے روسی سوشل ڈیمو کریٹک لیبر پارٹی کے قواعد و ضوابط کا مسودہ مرتب کرنے والے کمیشن کے کام میں بھی حصہ لیا ۔
یونٹی کانگرس کی کارروائیاں بالشویکوں اور مانشویکوں کے درمیان سخت جدوجہد کی حالت میں ہوتی رہیں ۔ خصوصاًزرعی مسئلے پر بہت ہی گرما گرم مباحثہ ہوا ۔ لینن اور دوسرے بالشویک اس مطالبے پر اڑے رہے کہ زمینداروں کی زمینیں (بلا معاوضہ ) ضبط کی جائیں اور ساری زمین کو قومی ملکیت قرار دیا جائے ۔یعنی زمین پر نجی ملکیت کاخاتمہ کر کے اس کو ریاست کی ملکیت میں دے دیا جائے۔ زمین کو قومی بناناصرف مطلق العنانی کا تختہ الٹ دینے ہی کی صورت میں ممکن تھا ۔ اس لئے بالشویکوں کا زرعی پروگرام کسانوں کو زار اور زمینداروں کے خلاف انقلاب کی طرف آنے کی دعوت دیتا تھا ۔مگر مان شویک زمین کو قومی ملکیت میں لینے کے بجائے اسے میونسپلٹیوں کے حوالے کرنے پراڑے رہے۔
کانگرس میں اپنی اکثریت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مانشویکوں نے سارے بنیادی مسائل پر اپنے فیصلے منظور کروا لیے جن میں زمین کو میونسپلٹیوں کی ملکیت بنانے کا پروگرام بھی شامل تھا ۔ مانشویکوں کو مرکزی کمیٹی میں بھی اکثریت حاصل ہو گئی اور انہوں نے پارٹی کے مرکزی ترجمان اخبار ” سوشل ڈیمو کریٹ“ کو بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا ۔
لیکن مانشویکوں کی یہ فتح دیر پا اور پائدار ثابت نہیں ہوئی ۔ لینن کو انقلابی مارکس ازم ، انقلابی حکمت عملی اور طریقہ کار پر قطعی بھروسہ تھا ۔ اس کو یقین تھا کہ مانشویکوں کو شکست ہو گی ۔
دوسری طرف بادشاہ تھا ۔ جو 1905کے انقلاب کو تتر بتر کرنے کے بعد عوامی آزادیوں پر تابڑ توڑ حملے کرتا جارہا تھا ۔ اُس کے نافذ کردہ نئے قوانین کے مطابق ” سپریم اقتدار بادشاہ کے پاس ہے “ ۔ اور یہ کہ : ”کوئی قانون بادشاہ کی منظوری کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا “۔
بادشاہ سلامت خارجہ معاملات کا مکمل چارج بھی سنبھالے ہوئے تھا، مسلح افواج اور ساری سرکاری تقرریوں کا اختیار بھی اُسی کے پاس تھا۔ اس نے دوا دار ے قائم کیے: سٹیٹ کونسل اور سٹیٹ ڈوما۔ ڈوما پورے روسی معاشرے سے منتخب نمائندوں پرمشتمل تھا اور سٹیٹ کونسل (ایوانِ بالا) کے آدھے ممبر منتخب تھے اور آدھے مقرر کردہ ۔۔۔ اس اولین ڈوما میں کاڈٹ (کانسٹی ٹیوشنل ڈیموکریٹک پارٹی) نامی لبرل پارٹی نمایاں تھی۔
مگر، دس ہفتوں (27اپریل تا 8جولائی1906) کے بعد بادشاہ نے اپنے ہی تخلیق کردہ ”ڈوما“ کو ختم کردیا اور 1907میں ایک نیا ڈوما تشکیل دیا ۔مگر یہ بہت ہی قابلِ قبول ڈوما بھی بادشاہ سلامت کو برداشت نہ تھا اور جون 1907میں اسے بھی چلتا کیا گیا۔(2)
یونٹی کانگرس کے فوراً ہی بعد پارٹی لیڈروںنے زورشور سے کام کرنا شروع کر دیا ۔ کانگرس نے فیصلہ کیا تھا کہ روس کی ساری قوموں کی کمیونسٹ (سوشل ڈیمو کریٹک )پارٹیاں واحد روسی پارٹی میں متحد ہو جائیں۔ اس اتحاد نے بالشویکوں کو اس کا موقع دیا کہ وہ ملک کی ساری قوموں کے مزدوروں میں بڑے پیمانے پر کام کر سکیں ، مانشویکوں کو بے نقاب کر سکیں۔
لینن نے مزدوروں کو اس جدوجہد سے مطلع کیا جو کانگرس میں ہوئی تھی ۔ لینن کی عادت تھی کہ وہ مزدوروں، دانش وروں، ملازم پیشہ لوگوںاور طالب علموں سے ملاقات کرنے کا ہر امکانی موقع حاصل کرتا تھا۔ وہ ان سے بات چیت کر نے کی ہر ممکن کوشش کرتا ۔ 9 مئی 1906 کو پیٹرسبرگ میں اس نے تین ہزار آدمیوں کے ایک جلسے میں تقریر کی جس میں اس نے بادشاہت کے ساتھکیڈیٹوں کی بورژوا پارٹی کی سودے بازی کو بے نقاب کیا اور پرولتاریہ کی انقلابی لائن کی وکالت کی ۔ اس نے وہاں کارپوف کے فرضی نام سے یہ تقریر کی تھی ۔ اس تقریر کا ذکر کرتے ہوئے نادیژدا کروپسکایا نے لکھا :” مجمع پر سناٹا چھا گیا۔ ایلیچ کی تقریر کے بعد جلسے کے شرکاءمیں ایک غیرمعمولی جوش کی لہر دوڑ گئی ۔ اس لمحے سب آنے والی جدوجہد کو کامیابی کی حتمی منزل تک پہنچانے کے لئے سوچ رہے تھے “۔(3)

ریفرنسز

1۔-او بیچکین اور دوسرے ۔لینن مختصر سوانح عمری۔1971 ۔دارالاشاعت ترقی۔ ماسکو صفحہ نمبر76
2۔ایلن وُڈ۔ دی اوریجن آف رشین ریولیوشن ۔صفحہ 35
-3او بیچکین اور دوسرے ۔لینن مختصر سوانح عمری۔1971 ۔دارالاشاعت ترقی۔ ماسکو صفحہ نمبر81

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*