سمو کی گھوڑی

آج میں سنگت پیج پڑھنے والوں کو ایک ایسی مخلوق کا دیدار کرانے جارہا ہوں جسے توکلی مست نے سمو کا گھوڑی کا لقب دیا میں ڈیرہ بگٹی کے مغربی جانب زین کوہ پہاڑی کے بلندوبالا چوٹی پر پیدا ہوا ہوں جہاں میں پیدا ہوا ہوں اس جگہ سے تقریبًا تين کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک درخت ہے جسکو بلوچی زبان میں،كَوْر،کہتے ہیں یہ کیکر کے ہم شکل درخت ہے اسکے ٹہنیوں کے سبز پتے مال مویشی شوق سے کھاتے ہیں اسکے کوئلہ طاقتور ہوتے ہیں اس لیے لوہار انکو لوہا نرم کرنے کےلیے استعمال کرتے ہیں جس درخت کا میں ذکر کر رہا ہوں یہ تنگب اوٹِغ کے قریب موجودہ پکی سڑک سے تقریبًا ایک کلومیٹر کے فاصلہ پر دوڑجاہ ندی کے کنارہ پر اونچائی میں لگا ہوا ہے یہ درخت اگر دن کی روشنی میں بشرطیکہ فضاء غبار آلود نہ ہو ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلہ پر پیرکوہ یعنی لونشو کنڈغ کے اوپر سے نظر آتی ہے اس درخت کا نام ہے،ماذِنو كَوْر،یعنی گھوڑی کا کور اسکو یہ لقب توکلی مست نے اس وقت دیا جس وقت توکلی مست اس درخت کے ایک ٹہنی کے تنے پر اس طرح پاؤں دونوں طرف لٹکاکر بیٹھا ہوا تھا جس طرح کوئی گھوڑسوار گھوڑی کے پشت پر بیٹھتا ہے آج سے ساٹھ سال پہلے کی بات ہے کہ میرا پھوپی مائی خیری جو ساٹھ سال پہلے انکی عمر سو سال تھی انھوں نے روایت کیا کہ جس وقت وہ چھوٹی بچی تھی تو توکلی مست اس درخت پر بیٹھتا تھا اور ہم چھوٹےبچے اور بچیاں توکلی مست کے پاس اس لیے جاتے تھے کہ وہ درخت سے اتر کر اپنی جیب سے ایک بڑا گُڑ کا ٹکیہ نکال کر پتھر سے توڑ کر چھوٹا چھوٹا ٹکڑا ہر بچہ کے ہاتھ میں دیتا تھا ہم بچے سالوں تک انتظار کرتے تھے کہ توکلی مست دوبارہ آجائے اور ہمیں گڑ کھلائے وہ کہتی تھی کہ جب ہم بچے پوچھتے تھےکہ آپ اس درخت کے اوپر کیوں بیٹھتے ہیں تو وہ کہتا تھا کہ یہ سمو کا ماذِن یعنی سمو کا گھوڑی ہے اس دن سے اس درخت کا نام ہوگیا ماذِنو كور اب میں یہاں پر اس درخت کا تصویر درج کر رہا ہوں جس نے توکلی مست کو دیکھا اور توکلی مست نے اسکو دیکھا تاکہ آپ حضرات بھی سمو کے گھوڑی کا دیدار کرو،،

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*