ہفت روزہ عوامی جمہوریت

حزبِ اختلاف کا اخبار ہونے کے ناطے عوامی جمہوریت بھٹو کی فیوڈل حکومت کے سخت خلاف رہا۔ چنانچہ دو دسمبر 1972کے شمارے میں بھی بھٹو حکومت پہ تنقید کی گئی ۔ ایک تو اس بات پہ کہ بھٹو پالیسی بیان پارلیمنٹ میں نہیں دیتا تھابلکہ وہ غیر ملکی اخباروں کو انٹرویو دیتے ہوئے ایسے اعلانات کرتا تھا ۔یوں وہ پارلیمان کی اہمیت کم کرنے کا باعث ہوتا۔ جمہوریت اور مارشل لا میں فرق ہی یہی ہوتا ہے کہ جمہوریت میں ہر اہم بات ملک کے سب سے اہم فورم یعنی پارلیمنٹ میں ہوتی ہے ۔
اخبار نے بھٹو پہ اس لیے بھی تنقید کی کہ اُس نے ایک بار پھر ”امریکہ کی کاسہ لیسی کی ،اور امداد (اِس بار دفاعی امداد) کے لیے ہاتھ پھیلایا“۔انہی دنوںایک اخبار ی انٹرویو میں بھٹو نے پاکستان کو روس اور بھارت سے نام نہاد اور فرضی خطرے کی داستان گھڑی اور چین سے پینگیں بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا تھا“۔ اخبار عوامی جمہوریت نے سوال اٹھایا کہ یہی موقف پاکستان کی رائٹ ونگ سیاسی پارٹیوں کا بھی ہے ۔ چنانچہ ”بھٹو نہ تو سامراج دشمن ہے اور نہ وہ فیوڈل ازم کا خاتمہ چاہتا ہے ۔ وہ سٹیٹس کو ،کا نعرے باز ترجمان ہے ۔ وہ کپٹلزم کا سہولت کار اور ملک کے اندر انتشار اور فرقہ پرستی کا پرچارک ہے “۔اِس قدر واضح موقف کا ثانی ملنا ناممکن ہے ۔ اخبار نے اپنے اصل لوگوں یعنی ،مزدوروں کسانوں اور دانشوروں پہ زور دیا کہ وہ فرقہ پرستی کے خلاف آواز بلند کریں۔ ملک کو امریکہ کا دم چھلابننے نہ دیں، امریکی قرضوں کی ضبطی کی جدوجہد کریں۔ محنت کشوں کے حقوق پہ سیاست کریں اور فیوڈلزم کے خاتمے کے لیے کام کریں۔
اسی شمارے میں سی آر اسلم نے صدر، پاکستان سوشلسٹ پارٹی کی حیثیت سے منعقد کردہ ایک پریس کانفرنس کو کوریج دی گئی۔ یہ پریس کانفرنس پاکستان کے زیر تکمیل آئین کے بارے میں تھی ۔اس نے کہا تھا کہ اسمبلی میں موجود ساری سیاسی پارٹیاں اس بات پہ متفق ہیں کہ پاکستان ایک فیڈرل اور پارلیمانی نظام حکومت سے چلایا جائے گا۔اس پس منظر میں اُس نے صوبوں کے اختیارات بڑھائے کا مطالبہ کیا۔مگر، چونکہ پارلیمانی پارٹیوں کی طرف سے ملکی معیشت کے نظام پہ کوئی بات نہیں کی گئی ، لہذا اس کا مطلب بقول سی آر اسلم یہ ہے کہ یہ پارٹیاں فیوڈلزم اور کپٹلزم کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔
اُس نے اسمبلیوں میں مزدوروں اور کسانوں کے لیے اُن کی آبادی کے تناسب سے سیٹیں مخصوص رکھنے کا مطالبہ کیا۔ اُس نے یہ بھی چاہا کہ بنیادی انسانی حقوق میں روزگار ، تعلیم ، رہائش اور علاج کی سہولتوں کو شامل کیا جائے ۔
” اکتوبر انقلاب اور قومیتوں کا حق خود اختیاری “ یہ عنوان 9دسمبر1972کے عوامی جمہوریت کے سب سے نمایاںمضمون کا ہے ۔۔ اُس کا ایک ٹکڑا ملا حظہ کریں۔” لینن نے روس میں بسنے والی تمام قومیتوں کے حق خود اختیاری کو تسلیم کیا اور انہیں مساوی حقوق دیے ۔ جس کے باعث بہ لحاظ تعداد چھوٹے چھوٹے گروہوں کو بھی برابر کی حیثیت مل گئی اور دنیا کو پہلی بار اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور کردیا کہ اس عہد میں کثیر قومی ریاستیں وجود میں آسکتی ہیں اور ایک ریاست میں بہت سی قومیں ایک ساتھ رہ سکتی ہیں بشرطیکہ مکمل جمہوریت قائم کردی جائے اور قومیتوں کا حق خود اختیاری تسلیم کیا جائے ۔
” لینن نے ثابت کیا کہ قومیتوں کے اتحاد اور ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے استحصالی مفادات اور ان استحصالی طبقوں کے مراعات ہیں۔ اُن کے ختم کردینے سے عوام کا اتحاد بڑھ جاتا ہے، ان کے مابین تعاون بڑھتا ہے اور وہ معاشی ترقی کی منازل تیزی سے طے کرنے لگتے ہیں۔
” جہاں تک اُن کی زبانوں کا تعلق ہے آج اُن زبانوں میں بھی جن کا کوئی رسم الخط تک نہ تھا ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں اخبارات ، رسائل اور کتابیں شائع ہو رہی ہیں۔ ناخواندگی نام کی کوئی شے موجود نہیں رہی۔ سائنس کی تعلیم عام ہے ۔ لوک گیتوں، لوک کہانیوں اور لوک دھنوں میں زندگی کا تمام حسن و رعنائی رچ کر اپنے شباب پر پہنچ گیا ہے ۔
” سوویت یونین کی کثیر قومی وسیع ریاست نے جس میں سب قومیتوں کو صرف مساوی درجہ ہی نہیں حقِ علیحدگی تک حاصل ہے ، ثابت کردیا ہے کہ ایک ریاست میں مختلف قومیتیں سیاسی مساوات کی بنیاد پر بلند تر اور مضبوط ترین اتحاد حاصل و قائم رکھ سکتی ہیں “۔
اس معاملے پر رسالے نے مزید لکھا کہ ۔ ۔۔” پاکستان میں بھی مختلف قومیتیں آباد ہیںجن کی زبانیں اور رہن سہن کے طریقے مختلف ہیں ۔ یہ سب باہمی تعاون اور ایک دوسرے کی مدد سے اپنی معاشی پستی اور تہذیبی پسماندگی کو اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر عوام کی محنت پر بھروسہ کر کے ترقی کر سکتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے لازمی ہے کہ مختلف قومیتوں کو حق خود اختیاری کی بنیاد پر سیاسی حقوق دیے جائیں اور اُن کا ایک ایسا فیڈریشن قائم ہو جس میں وہ سب برابر ہوں ۔ اور سامراجی قرضوں اور امداد کا سہارا ترک کیا جائے۔ جاگیرداری اور سرمایہ داری مفادات کا خاتمہ کیا جائے۔ جمہوریت قائم کی جائے“ ۔
اسی شمارے میں وہاڑی کسان کا نفرنس کی رپورٹ بھی چھپی ہوئی ہے جو 3دسمبر1972کو منعقد ہوئی۔ اور جس میں دس ہزار کسان شریک ہوئے تھے۔16دسمبر1972 کے شمارے میں 3دسمبر کو وہاڑی میں منعقدہ کسان کانفرنس کی قراردادوں پہ مشتمل تین صفحے وقف کیے گئے۔
اس سے اگلے شمارے (23دسمبر(کا اہم مضمون ”معاشی ترقی کا راستہ ملی جلی معیشت نہیں“ کے عنوان سے ہے ۔ یہ دراصل بھٹو کی معاشی پالیسی پر تنقید ہے اور اُس کے متبادل کے بطور سوشلسٹ معیشت کو پیش کیا گیا ۔ مندرجہ ذیل تین اقدامات تجویز کیے گئے :
1۔ پچاس ایکٹر زرعی زمین کی ملکیت قائم کر کے اوپر کی ساری اراضی بلامعاوضہ لے کر بے زمین کسانوں میں تقسیم کی جائے ۔
2۔غیر ملکی سرمائے پر انحصار ترک کیا جائے ۔ اجارہ دار صنعتوں ، بنکوں ،بیرونی تجارت اور غلے کی تجارت کو قومی ملکیت میں لیا جائے۔
3۔ سامراجی سرمایہ ضبط کیا جائے ۔
تیس دسمبر کے شمارے کا ایک عنوان بہت دلچسپ ہے ۔ ہم اُس کے مندرجات کے بجائے اسی عنوان پہ قناعت کریں گے ۔ عنوان ہے:” پیپلز پارٹی کا سامراج نواز سوشلزم“۔ کس قدر بھرپور جملہ ہے !!۔
اسی شمارے میں پاکستان کو ایک آئین دینے کے عمل کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
چھ جنوری 1973کا شمارہ دراصل نئے سال کا اولین پرچہ ہے ۔ تقریباً پورا شمارہ اِس لیڈنگ مضمون پہ مشتمل ہے : آمدِ سال ِ نو 1973۔اس میں 1972میں پیش آنے والے بین الاقوامی واقعات کا تفصیل سے ذکر ہے ۔ خود پاکستان میں 1972کیسے گزرا، اُس کا بھی مفصل تذکرہ وتجزیہ ہے ۔
تیرہ جنوری کا شمارہ اس لیے اہم ہے کہ اُس میں اُس آئینی مسودے پہ بات کی گئی ہے جو قومی اسمبلی کی آئینی کمیٹی نے تیار کر لی اور جسے قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا ۔سی آ ر اسلم نے دو ٹوک تبصرہ کیا: ” یہ آئین موجودہ معاشی نظام قائم رکھنے کا آئین ہے “ ۔ مضمون کے اندر اِس مسودے پر ایک تنقید تو یہ ہے کہ اُس کے تحت قبائلی علاقے صوبائی درجہ نہ پاسکیں گے ۔ اور آئین کی اچھائیوں سے مستفید نہ ہوسکیں گے ۔ اور پسماندگی حسبِ سابق ان کا مقدر رہے گی۔ آئین کے اس مسودہ میں ابھی تک بنگلادیش کو تسلیم نہ کرنے کی ہٹ دھرمی پر بھی تنقید کی گئی۔ آئین کی اُن جگہوں کو بھی مسترد کیا گیا جو اُن قوانین کو تحفظ دیتی ہیں جو بنیادی حقوق کے خلاف ہیں ۔ اس مجوزہ آئین میں نجی ملکیت کو آزادی دی گئی تھی ۔ اسی طرح روزگار، تعلیم ، علاج ، اور رہائش بنیادی انسانی حقوق تصور نہیں کیے گئے ۔ ووٹ ڈالنے کی عمر 18کے بجائے 21برس رکھی گئی۔ نظریاتی کونسل کی بھی مخالفت کی گئی۔ اسی طرح یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ اسمبلی میں نشستیں مختلف طبقات کی آبادی کی بنیاد پر رکھی جائیں۔
20جنوری 1973کے شمارے کا ایک اہم مضمون ”یورپی مشترکہ منڈی اور ترقی پذیر ممالک “ ہے۔ مگر میرا دل کرتا ہے کہ ”جمہوریت کو تماشہ نہ بنائیے “ نامی اداریے کا تذکرہ کروں۔ اُس کا اوپننگ فقرہ ہے :” جو لوگ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ مارکسزم عقیدہ نہیں بلکہ ایک سائنسی نظریہ ہے جس کی بنیاد مشاہدے ، تجزیے اور حقائق پر ہے اُن کی طرف سے ” جمہوریت کی کاملّا بحالی“ کا تقاضا اور صرف یہی تقاضا ایک بچگانہ ضد کے مترادف ہے “۔۔۔ پاکستان کے موجودہ نیم نو آبادیاتی ، نیم جاگیردارانہ اور نیم سرمایہ دارانہ سماج میں برطانوی یا فرانسیسی امریکی طر ز کی جمہوریت قائم نہیں ہوسکتی ۔
27جنوری کے شمارے میں ہوچی منہ پہ ایک مضمون ہے ، ایک مضمون ہنگری کے مجاہد شاعر پتوفی پہ ہے ۔ اس شمارے میں 23جنوری 1973میں ویت نام میں قیام امن کے پیرس مذاکرات کی کامیابی پہ خوشی کا اظہار کیا گیا ہے ۔ ویت نام ہی اگلے شمارے میں بھی رسالے کا نمایاں موضوع ہے ۔
17فروری1973کا شمارہ تو بلوچستان پرہے ۔ ”خطرناک راستہ “ نامی لیڈنگ مضمون میں وفاق کی طرف سے بلوچستان حکومت کے خلاف پروپیگنڈے کی شدید مذمت کی گئی۔ وہاں مخالفین کی طرف سے گورنر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کرنے والوں کو مسترد کیا گیا۔اخبار کے خیال میں وزیر داخلہ قیوم خان اِن سازشوں سے بہت گندے طور پر شامل تھا ۔ اس نے قیوم خان اور اس کے بلوچستانی اتحادیوں کی سازشوں سے عوام کو خبردار کیا۔ اسی شمارے میں بلوچستان کے معاملات میں شاہ ایران کی سازشوں کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی گئی۔ مگر یہاں نیپ کو ہیرو یا نجات دھندہ پارٹی نہیں سمجھاگیا بلکہ اسے سرمایہ دارانہ جمہوریت کی پارٹی قرار دیا گیا ہے ۔
”آخراسلحہ برآمد ہو ہی گیا !“ 24 فروری 1973کے شمارے کا اولین مضمون ہے ۔ یہ دراصل اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بلوچستان کی ایک اور تباہی کی طرف جانے کا پہلا حربہ تھا۔ اس میں قیوم خان، کوثر نیازی ، جام صادق علی اور بلوچستان کے اکبر خان بگٹی کے بیانات نقل کیے گئے ہیں جو بلوچستان میں سردار مینگل کی حکومت کو ختم کرنے کی ابتدائی کوششوں میں لگے ہیں۔
مضمون کا آخری فرقہ ہے : ” اگر کراچی کے مزدور اپنے حقوق کے حصول کے لیے آواز بلند کریں تو اس میں بھی غیر ملکی ہاتھ ہوتا ہے اور اگر مختلف صوبوں کو اُن کے حقوق دینے کا سوال اٹھایا جائے تو یہ بھی غداری ہوتی ہے ۔ حبِ وطن تو صرف کرسیِ اقتدار پر بیٹھ کر اپنی عاقبت کو بھول جانے کا نام ہے !“
اگلا شمارہ ایک ایسے آرٹیکل سے شروع ہوتا ہے جو ہماری پوری تاریخ کی حقیقت کا اظہار کرتا ہے ۔ ہم پچاس سال سے یہی بات دوہراتے رہے ہیں اور یہی فقرہ ہی سوفیصد حقیقت ہے :”پاکستان کی خارجہ پالیسی سامراج نواز ہے “۔
اس زمانے میں بنگلہ دیش تسلیم کرو، نہ کرو والی بحث پاکستان میں ایک زور دار بحث تھی۔ رجعتی لوگوں کی قیادت صدر بھٹو کر رہا تھا۔ وہ لوگ اسے تسلیم نہ کرنے کی مہم چلا رہے تھے ۔ مگر وہاں اولین انتخابات میں مجیب نے 300کی کل اسمبلی سے 291سیٹیں جیتیں۔ عوامی جمہوریت اخبار نے 10مارچ 1973 کے اپنے شمارے میں بنگلہ دیش تسلیم کرنے پہ یوں زور دیا :”بنگلہ دیش کے انتخابات کے نتائج ہم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہم اسے تسلیم نہ کرنے کی روش ترک کردیں۔۔۔پاکستان سوشلسٹ پارٹی یہ جتا رہی ہے کہ بر صغیر کو اور بالخصوص پاکستان کو ترقی کرنے کے لیے پر امن فضا کی ضرورت ہے ۔ یہ ناگزیر ضرورت پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین خیر سگالی اور اچھے تعلقات قائم کیے بغیر پوری نہیں ہوسکتی ۔ اس لیے پاکستان کو بلاشرط بنگلہ دیش کو تسلیم کرنا اور اس سے سفارتی سطح پر تعلقات قائم کرنے چاہییں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*