کرونا وبا میں ایک اور اداریہ

اس ماہ یعنی اپریل 2021میں دنیا کوایک بے لگام اورہلاکت خیز دشمن کی لپیٹ میں آئے ہوئے پورے سولہ ماہ ہوچکے ہیں۔ اس بدترین دشمن کا نام کووِڈ نائنٹین ہے ۔ یہ وبا ساری بیماریوں ، وباﺅں اور خبائث کی ماں ثابت ہوئی ہے ۔پوری صدی کی سب سے بڑی بشر دشمن آفت ۔
اس کورونا وائرس کے خلاف کوئی ہتھیار موجود نہ تھا ما سوائے اِس کے کہ انسان دوسرے انسان سے دور رہے ۔وہ انسان جو ایک دوسرے کے بغیر جی نہیں سکتا اُسے حکم ہوا کہ وہ باہم قریب نہ ہوں۔ شادی بیاہ ، میلہ جشن ، میٹنگ محفل اور سفر سب کچھ بند کر دے۔ مذہبی فریضے ترک کرے ، جنازے نہ ہوں، دعا فاتحہ نہ ہو۔ حتی کہ انسان وہ کام بھی نہ کرے جو کُل مخلوقات میں صرف وہی کرتا تھا ، یعنی ہاتھ ملانا بھی بند کردے۔
چنانچہ گلیاں خالی اور سڑکیں سنسان ہوئیں۔ شہر خوف ، ایک ویرانی ،ایک بے رونقی کے شمشان گھاٹ بن گئے ۔ انسان نے پورے سو لہ ماہ تک ایک اَن دیکھا قاتل پنجہ اپنی گردن پہ محسوس کیے رکھا۔
وباﺅں کے بارے میں پوری تاریخ میں تصور رہاکہ یہ قدرتی آفات ہوتی ہیں جو انسان کے قابو سے باہر ہوتی ہیں ۔لیکن اب انسان کی سائنسی اہلیتوںمیں ہزار گنا اضافے کے باوجود بھی اگر وبائیں اس قدر منہ زوری دکھائیں تو کہا جاسکتا ہے کہ وبائیں قدرتی سے زیادہ اب سیاسی وبائیںبن گئی ہیں، سیاسی ناکامی کی وبائیں۔
امریکہ اور برطانیہ کے لیڈروں کی تباہ کن غفلت اور جہالت نے اس تباہی کو قدرتی کے بجائے سیاسی بنا دیا ۔سامراج نے انسانی زندگی کو لاحق اِس سب سے بڑے خطرے کے اندر بھی اپنی درندگی جاری رکھی۔ دنیا کے خونخوار ترین ملک امریکہ نے اس آفت میں بھی کیوبا کی حالت پر ترس نہیں کھائی اور اُس کی ناکہ بند ی بند نہ کی۔اُس نے دنیا میں جنگیں ، تختہ الٹائیاں، اور آئی ایم ایفی سود خوریاں جاری رکھیں۔ ادویات کی ترسیل فارماسوٹیکل ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اجارہ داری کے باعث غیر مساوی رہی ہے ۔ وبا کے بارے میں جانکاری اور معلومات چھپا دی گئیں۔ اس طرح ایک ہمہ گیر سماجی سیاسی معاشی اور طبی وحشت کو کم تر کر کے پیش کیا گیا۔
سیاسی قیادتوں کی نابالغی نے وائرس کے اِس قتلِ عام کے خلاف سائنس کے احکامات پہ عملدرآمد میں رکاوٹیں ڈالیں۔ سب سے بڑی مزاحمت تو خود جہالت نے کی۔ جہالت کی ہزار اقسام ہیں۔ اور اِن ساری اقسام نے پہلے تو وائرس کے وجود سے انکار کیا۔ بے شمار جھوٹے واقعات سے ، ضرب الامثال سے ، روایتوں سے ، اور حوالوں اور کوٹیشنوں سے وائرس کا مذاق اڑایا ، اور اُس کے وجود کی ٹھوس سائنسی حقیقت کو نہ مانا۔
اِس سے کام نہ بنا تو پھر اُسے معمولی چیز قرار دینے پہ سارا زور لگایا گیا ۔ اور اس معاملے میں سب سے گندا رول بھی سیاسی قیادتوں کا ہی رہا۔ سوپر پاور امریکہ کے صدر، بڑی قوت برطانیہ کے وزیراعظم، اور پاکستان کے حکمران نے اسے ایک معمولی زکام قرار دیا اور یوں کورونا وائرس کے اِس ذبیحہ کے خلاف کوئی منظم و سائنسی رویہ نہیں اپنایا ۔اس دوران وبا کی دوسری لہر بھی آئی۔ اور ارضِ خدا کو انسانوں کا قصاب خانہ بنا کر یہ پھر تیسری لہر کی صورت انسانی حیات کو روندتی رہی۔ وائرس نے بلاروک ٹوک دنیامیں آزادانہ قتلِ عام کیے رکھا۔ امریکہ میں تو اُس نے دو دھاری تلوار چلائی ۔ قبرستانوں اور ہسپتالوں کی سکت جواب دے گئی ۔ معیشت بیٹھ گئی ، انتظامیہ مفلوج ہوگئی اور بے بسی میں آنکھوں کے ڈھیلے باہر آئے ۔ حتیٰ کہ وائرس نے امریکی صدر کا گلہ دبوچ لیا اور اُس کا سارا لاابالی پن نچوڑ کر رکھ دیا۔ برطانوی وزیراعظم کی جان ہسپتال میں داخل ہو کر ڈاکٹروں نرسوں کی صبح شام کی محنت نے بچائی اور پاکستان کے وزیراعظم کو 14روز کا چلّہ کاٹنا پڑا ۔
فخر کی بات ہے کہ اس دوران فزکس اور میڈیکل سائنس ہنگامی انداز میں اٹھ کھڑی ہوئیں۔ اور انسان کو بچانے میںبے شمار نازک و ناز بردار سائنسدان اپنی جانوں کا بلیدان دے گئے ۔ ہسپتالوں او رریسرچ لیبارٹریوں نے جنگی بگل بجائے ۔ دکھ کم کرنے اور جانیں بچانے میں منہمک انسانیت کے اِن عشاق نے چین ،آرام ، خاندان اور دوستوں کو ترک کردیا اور وائرس کے ہاتھوں بے حال مریضوں پہ اپنے علم کا ہر ذرہ اور اپنی توانائی کی ہر کیلوری نچھاور کردی۔ اشرف معاشروں میں تو ڈاکٹروں کے بریگیڈ دوسرے متاثرہ ممالک چلے گئے جہاں جا کر وہ اُس پرائے ملک میں وبا کے خلاف جنگ میں خود کو جھونک گئے ۔ میڈیکل سائنس نہ ہوتی تو ہلاکتوں کی تعداد ایک سطر میںلکھی نہ جاسکتی ۔
دوسری طرف ریسرچ لیبارٹریوں میں اِس وائرس کی ویکسین کی تیاری پہ ساری توانیاں لگادی گئیں۔ کیا دن کیا رات، کیا برف کیا برسات ۔ اپنے فرض سے عشق کرنے والوں نے اپنی ساری توائیاں لگادیں ۔ اور بالآخر اس دشمن کے خلاف دفاع کا سب سے بڑا ہتھیار انسانیت کے ہاتھ میں تھما دیا ۔ویکسین بنادیا۔
مگر ہماری حکومت کے بشمول بورژوا سیاسی حکومتوںنے ویکسین کے حصول اور خریداری کے لیے کوئی گرمجوشی نہیں دکھائی ۔ ہم پتہ نہیں چین کے کیا لگتے ہیںکہ بالآخر اُس نے ہمیں مفت میں اپنی تیار کردہ ویکسین کے کچھ ڈبے عطا کردیے ۔ سرکار نے ویکسین لگوانے کو نہ تو لازمی قرار دیا۔ نہ کوئی کمپین چلائی ۔ بس بددلی سے ، لوگوں کا منہ بند کرنے کے لیے ویکسی نیشن سنٹرز کے شو سجتے رہے۔ اِس وقت جتنے ممالک اس وبائی مرض سے نبرد آزما ہیں اُن سب سے غیر سنجیدہ حکومت پاکستان کی ہے ۔دوسری ویکسینوں کو آنے نہ دیا گیا ، یا لانے نہ دیا گیا ۔اور چین کی ویکسین بھی ہر لحاظ سے تعداد میں کم تھی ۔ صرف ہیلتھ ورکرز کے لیے، اور ساٹھ سال سے اوپر والوں کے لیے ۔
مگر اس کم تعداد اور مفت ملنے والے ویکسین کا بھی وہی حشر ہوا جو کہ پولیو ویکسین کے ساتھ ہوا تھا ۔” یہ نامرد کردے گا، اِس میں جاسوسی کے لیے چِپ ڈالا گیا ہے ، یہ یہودی سازش ہے “وغیرہ وغیرہ۔ جس معاشرے میں سائنس کا داخلہ بند ہو وہاں مولوی ہی کا فقرہ فرمان ہوتا ہے ۔شوباز معاشرے میں جہالت نام نہاد ”دلیری “ کے دکھاوا سے مل جاتی ہے ۔ اِن دونوں اوصاف سے مزین ہمارا وزیراعظم خود بغیر ماسک کے پھرتا رہا۔ عمران خان کے سارے وزیر مشیر ملّاکے فالوئرز ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ویب سائٹ پر جانے کے بجائے آوارہ پھرنے والے فیس بکیوں کو آزادی دی گئی کہ وائرس کا مذاق اڑائیں ، وبا کی موجودگی سے انکار کردیں۔ اور ویکسین کے استعمال کی مخالفت کریں۔
مگر ، وہ جو استاد نے کہا تھا ناںکہ بڑے حادثات ، وبائیں ،یا انقلابات تاریخ کے انجن ہوتے ہیں۔ کرونا وبانے انسانی سماج کے مستقبل کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔ ساری خواندہ دنیا کمپیوٹر آشنا ہوگئی ۔ بنکنگ سے لے کر شاپنگ تک سب کچھ آن لائن ہوگیا۔تقریباً ساری تعلیم آن لائن ہوگئی ۔۔۔ سکول سے لے کر یونیورسٹی تک ۔ اور ساری تعلیم کلاس روم سے باہر محض ایک موبائل فون پہ حاصل ہونے لگی۔ اسی طرح کاغذ ، کتاب پرنٹنگ اور پبلشنگ کی اہمیت کم ہوتی گئی اور سکرین حاوی ہوتا گیا ۔ سارا سماج ڈیٹا بیس ہوگیا۔ یعنی انفوٹیک اپنے عروج کو پہنچی۔ اس طرح تو اہم پرستی اور روایت پرستی پر سائنسی سوچ مزید حاوی ہوتی گئی۔بایوٹیک پہ اربوں ڈالر خرچ کیے گئے ۔ سرحدوں پہ باڑھ لگانے کے باوجود ایک بارڈ لیس دنیا کے آثار نمودار ہوئے ۔ہائبرڈ اور ففتھ جنریشن وار کا مطلب ہی جسمانی نہیں رہی بلکہ اس جنگ میں ذہنی طاقت کا نمایاں ہونا ثابت ہوگیا۔
پہلی دفعہ دنیا کے عام آدمی کو سمجھ آرہا ہے کہ دنیا کے فوری مسائل اب صنعتی کپٹلسٹ نظام کے اندر حل نہیں ہوسکتے ۔اس لیے وہ اس نظام کے فریم اور فارم کو جگہ جگہ سے پھاڑتے چلے جارہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم مستقبل میں سنگین درد، بے چینی اور خونریزی سے گزریں گے ۔ اس لیے کہ ہم ابھی تک صنعتی تو کیا فیوڈل اداروں میں رہ رہے ہیں ۔
دنیا کو آگے کی طرف ایک کوانٹم پھلانگ کا سامنا ہے ۔ مندرجہ بالا ہلاڈالنے والی تبدیلیاں دراصل اُس بڑی ٹرانسفارمیشن کی طرف ہمارا راستہ ہیں جو کہ ہمارا مقدر ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ ہزاروں برس تک چلنے والے زرعی انقلاب سے تاریخ ، ہر رکاوٹ کو ملیا میٹ کرتے ہوئے صنعتی انقلاب کی حتمی فتح تک آگے بڑھی تھی۔ بڑے بڑے شہر وجود میں آئے تھے جنہیںزرعی قدامت والے لوگ ”گناہ بھرے شہر“ قرار دیتے رہے ۔ ”شیطانی چرخے “ کہلانے والی ملیں اور فیکٹریاں قائم ہونے لگی تھیں۔ تیز رفتار ٹرانسپورٹ عام ہوگئی تھی جسے سابقہ زرعی ملّاشیطانی پہیہ اور موت کی مشین کہتا رہا۔ تعلیم ِعامہ کا راج ہوگیا تھا جسے گاﺅں کا میر و معتبر کفر کے ادارے کہنے لگا۔ اسی صنعتی انقلاب نے بہت ہی مضبوط ٹکنالوجیوں کے لیے راہ ہموار کی تھی۔
زرعی معاشرے کے ساتھ ہونے والا یہی حشراب صنعتی کپٹلزم کا ہورہا ہے ۔ رفتہ رفتہ لوگوں کو سمجھ آنے لگا کہ آج کی دنیا کے فوری مسائل اب صنعتی کپٹلزم کے اندر حل نہیں ہوسکتے ۔ کپٹلزم کو بقا دینے والوں اور اُسے برطرف کرنے کا ارادہ رکھنے والوں کے درمیان ایک زبردست لڑائی جاری ہے ۔ کپٹلزم کا متبادل نظر آرہا ہے ۔ اسی متبادل نظام کے راستے کے کانٹے دور کرنا اہم ترین فریضہ بن گیا ہے ۔ ماضی کی پرستش اور حال میں مست ہونے کی عادت تباہی ہے ۔ فیوچر کی طرف دیکھنا اور اُس کی تعمیر میں حصہ ڈالنا نجات ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*