زمین کا بچہ

جب وہ روئے گا اس کی آنکھوں میں آنسو ہوں گے
اور ہونٹوں پر ہنسی
اس کی پتنگ کی ڈور اس کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی ہوگی
میں اس کے لئے نئی پتنگ نہیں بناﺅں گی
اس نے ٹوٹے ہوئے شیشے کو تھام لیا ہوگا
میں اس کے ہاتھوں سے خون صاف نہیں کروں گی
اس نے اپنے آپ کو گرا لیا ہوگا
اسے کون اٹھائے گا
اس کی آنکھوں میں آنسو ہوں گے
اور ہونٹوں پر خاموشی
روتے روتے سو جانے والا میرا بچہ نہیں ہوگا

جس کی یونیفارم میلی رہ جائے گی
جس کی کتابیں پھاڑ دی جائیں گی
جس کا نام کسی سکول کے رجسٹرمیں نہیں لکھا جائے گا
وہ میرا بچہ نہیں ہوگا
وہ خواب دیکھتا ہے
بہت سے بونے اسے ہلاک کرنے لیے جاتے ہیں
جب وہ رات کو خواب میں ڈر جائے گا

میں اسے چوم کر نہیں کہوں گی
میرے لاڈلے بچے! میں تیرے پاس ہوں
بہت سے بونوں کے درمیان ڈر جانے والا
میرا بچہ نہیں ہوگا

شاید وہ میری طرح زمین کا بچہ ہوگا
زمین اپنے بچوں کے آنسو نہیں پونچھتی
زمین اپنے بچوں کی خاموشی نہیں سنتی
زمین سب کے حصے کے پھول اگاتی ہے
جب وہ روئے گا
اس کی آنکھوں میں آنسو ہوں گے
اور ہونٹوں پر خاموشی

زمین کے خوب صورت بچے!
آنسو پونچھ لے
اور مجھ سے بات کر
میں اپنے حصے کا پھول تجھے دے دوں گی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*