دستخط

وہ ماضی کی اِک تصویر ہے
ذہن جس میں ایسے اٹکا ہے
کہ گرد و پیش کا سارا نظارا دُھندلا ہے
سب کُچھ رُک گیا ہے
گُمان ہے، تخیُّل ہے
یا اس سے سوا کُچھ اور ہے؟
پُتلیوں میں بھی کوئی جُنبِش نہیں
آنکھ شاہد ہے یہ دھوکا کھا نہیں سکتی
کیا یہ مُعجزہ ہے؟
سماعت و گُفتار کا یارا نہیں
ہوش گُم ہیں،
بات کرنے کے لیئے شانہ ہلانا پڑتا ہے
دِل میں یہ کیسی ہل چل ہے؟
کیسا کھٹکا ہے؟ کیسی وحشت ہے؟
کہ ترتیب دھڑکن کی بدلتی جا رہی ہے
گُمان و بد گُمانی، خدشے اور وسوسے
بن بُلائے ہی چلے آتے ہیں اندیشے سبھی
اِن سب کے درمیاں
بے چارگی سے ڈولتی ہے زندگی
مِلن اور جُدائی کا
جنم کیوں ساتھ ہوتاہے؟
یہ بے قراری کُچھ الگ کُچھ اور ہے
موت اور زندگی کے بیچ میں
جانے یہ کیسی دوڑ ہے؟
سمندر کی لہروں کی کشش
کُچھ اس طرح سے کھینچتی ہے
کہ بے خود سے قدم رکتے نہیں
بپھرتی موجوں میں
ہچکولے کھاتا رہتا ہے وجود
کھڑکی سے چھن چھن کے آتی
چاند کی کرنیں بدن میں آگ بھرتی ہیں
زندگی کو زندگی مطلوب ہے
اُس نے کہا، کہ اِس کہانی میں
دعویٰ تمہارا ہے تو ضابطہ میرا
ایسی مدہوشی نہ دیکھی نہ سُنی
بے اختیار ہاتھوں نے حُکمِ یار پہ
بِنا سوچے بِنا سمجھے
شِکست کی دستاویز کے آخری پَنّے پہ
“سرینڈر “ لکھ کے دستخط کر دیئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

22nd March 2021

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*