غزل

لفظ جب اپنے معانی سے بچھڑ جاتے ہیں
کتنے کردار کہانی سے بچھڑ جاتے ہیں

اک تعلق کو نبھاتے ہوئے مشکیزے سے
ہائے وہ ہونٹ جو پانی سے بچھڑ جاتے ہیں

گھر مہکنے بھی نہیں پاتا ابھی پوری طرح
اور ہم رات کی رانی سے بچھڑ جاتے ہیں

کوزہ گر خاک ہر اک عکس پہ پڑ جاتی ہے
آئینے عالم فانی سے بچھڑ جاتے ہیں

قصرِ حیرت میں سلامت نہیں رہتی آنکھیں
اشک جذبوں کی روانی سے بچھڑ جاتے ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*