بلوچ سیاست کی سپاہی ،اماں زیب النساء“

”زیب النسا“ کا محترم نام بلوچ تاریخ کی نامور سیاسی خواتین میں آتا ہے۔
وہ ٹیچنگ سے وابسطہ ملک عبدالقادر خواجہ خیل کے ہاں 1937 میں پیدا ہوئیں۔ان کی تین بہنیں اور تین بھائی تھے۔ وہ ان میں سب سے بڑی تھی۔اُس کا چچا ملک عبدالرحیم خواجہ خیل اولین سیاسی رہنمائوں میں سے تھا۔بابو عبدالکریم شورش کا ماموں بھی تھا۔اس طرح اماں اپنے مستقبل کے شوہربابو عبدالکریم شورش کے ماموں کی بیٹی تھی۔
یوں اس کی سیاسی تربیت بچپن سے ہی شروع ہو گئی تھی ۔
وہ بتاتی تھیں کہ جب1939میں قلات سٹیٹ نیشنل پارٹی کے سالانہ جلسے پر سرداروں نے حملہ کیا تو جلسہ درہم برہم کرنے کے بعد سرداروں کے کارندے ہمارے گھر پر حملہ آور ہوگئے اور ساری رات ہمارے گھر پر پتھر برساتے رہے اور نعرے لگاتے رہے۔اس دوران ہمارے گھر میں کام کرنے والی ایک بلوچ عورت قرآن سر پر رکھ کر ان حملہ آوروں کے سامنے کھڑی ہو گئی ۔ جس کے بعد حملہ آور چلے گئے ۔ حملہ آوروں نے باہر سے آنے والے جلسہ کے شرکاءکے لئے بنائے جانے والے کھانے کی دیگوں کو بھی پتھروں سے بھر دیا تھا۔ اگلے ہی روز حکومت نے ان کے چچا ملک عبدالرحیم خواجہ خیل جو اس وقت نیشنل پارٹی کے صدر تھے ،بابو اور دیگر ساتھیوں کو گرفتار کیا اور ایک ٹرک میں بٹھا کر سریاب کے قریب مشہور سونا خان تھانہ کے حدود میں لاکر چھوڑ دیا اور تا حکم ثانی جلاوطن کر دیا۔سونا خان تھانہ اس زمانے میں برٹش بلوچستان اور ریاست قلات کے درمیان سرحد ہوا کرتا تھا۔جو بابو اور زیب النسا کے مزار سے تین چار کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔
اماں بتاتی تھی کہ بابو کے ساتھ اُس کی منگنی اُن کے پڑوسی سردار محمد خان باروزئی کی بیٹھک مےں ہوئی تھی۔ جس میں سردار باروزئی بطور گواہ موجود تھے۔
اماں بتاتی تھیں کہ ”جلاوطنی میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بابو اور ملک عبدالرحیم خواجہ خیل کے پاس پیسے بالکل ختم ہو گئے تھے ۔حکومتی سختی کی وجہ سے مستونگ گھر سے بھی پیسے نہیں آئے جس کی وجہ سے نوبت فاقوں تک پہنچ گئی ۔ اُس وقت میر غوث بخش بزنجو نے ،جو کاسی روڈ کے ایک مکان میں رہتے تھے ، اپنی شادی کی انگوٹھی بابو کو بیچنے کے لئے دی۔لیکن بابو نے انگوٹھی بیچنے کی بجائے اپنی والدہ کو حفاظت سے رکھنے کے لئے دے دی ۔

اماں زیب النسا اور بابو عبدالکریم شورش کی شادی اندازاً 1955ء1956میں ہوئی۔یوں وہ دنیا کے پہلے بلوچی اخبار ” نوکیں دور“ کے بانی بابو عبدالکریم شورش کی شریک حیات بن گئیں۔اب وہ ایک ایسے مشن میں شامل ہوگئیں جو سیاسی شعور پھیلانے اور بلوچی ادب و ثقافت کے فروغ کا مشکل مشن تھا۔ اِن دونوں کامریڈز کے سامنے بھوک تھی، سرکاری پابندیاں تھیں، سرداری ناخوشیاں تھیں۔ ۔۔ایک بامقصد ترین زندگی!!

شورش اور زیب النسا اگلے چالیس برس تک یک جان و دوقالب بنے بلوچ عوام الناس کی بہبود و بہتری کے لیے کام کرتے رہے ۔ انہوں نے اکٹھے ہی نیشنل عوامی پارٹی، بلوچستان مزدور پارٹی، کمیونسٹ پارٹی آف بلوچستان کے پرچم تھامنے تھے ۔ سیاسی و صحافتی دوستیاں انجوائے کرنی تھیں اور سیاسی صحافتی مخالفتیں پالنی اور بھگتنی تھیں۔
غوث بخش بزنجو اور گُل خان نصیر نے ان دونوں کا دوست بننا تھا۔اُن دنوں مشن روڈ پہ ایک ہوٹل تھا ۔سٹینڈرڈ ہوٹل ۔یہ ہوٹل بلوچ سیاسی زعما کے حوالے سے مشہور تھا۔ میر غوث بخش بزنجو، گل خان نصیر جب بھی کوئٹہ آتے اکثر اسی ہوٹل میں ہی قیام کرتے تھے۔ بابو اکثر ان کے لیے چائے روٹی کا بندوبست بھی کیا کرتا تھا۔ یہ سیاسی دوست یا تو بابو کے گھر میں آکر کھانا کھاتے تھے یا پھر ان کا کھانا بابو اپنے گھر سے بنا کر ہوٹل لے جا تا تھا۔ یہ کھانااماں ہی بناتی تھی۔ اماں بتاتی تھیں کہ میر غوث بخش بزنجو سالن میں گوشت کے ساتھ گاجر بڑے شوق سے کھاتا تھا اور اکثر اس کی فرمائش بھی کیا کرتا تھا۔ میر گل خان نصیر کو شوربہ جسے ”تریت “کہتے ہیں بہت پسند تھا۔اماں ان سیاسی رفقاکے لئے کھانا پکاتی تھی۔
اماں بتاتی تھی کہ قیام پاکستان کے وقت ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے تھے۔کوئٹہ میں آرچرڈ روڈ جسے ہندو محلہ کہا جاتا تھا کی گلیوں ،پیر ابولخیر روڈ، جمعیت رائے روڈ اور آرٹ سکول میں ہندوئوں کے مکانات جلائے جارہے تھے۔اور ہندو بچارے اپنے بھرے گھر چھوڑ کر اپنی جانیں بچانے میں لگے ہوئے تھے ۔کچھ لوگوں کو ہم نے اپنے گھر میں اور کچھ کو پڑوسی اور سیاسی ساتھی سردار محمد خان باروزئی کی بیٹھک میں پناہ دی ۔بعد میں پتا چلا کہ وہ ہندو نہیں تھے بلکہ ایرانی لوگ تھے جو کاروبار کی غرض سے ایران سے آئے تھے۔ فسادیوں نے ہندو سمجھ کر ان کے مکان بھی جلا دیے تھے ۔ کچھ دنوں بعد جب حالات سنبھل گئے تو اُن کو زندہ سلامت ایران روانہ کر دیا۔
بابو جب بھی جیل جاتا یا اخبارکے حوالے سے بلوچستان اور پاکستان کے دیگر شہروں کو جاتا تو اماں اسی کوئٹہ شہر میں بچوں کے ساتھ اکیلی رہتی۔جبکہ کوئی رشتہ دار بھی نہ ہوتا ۔والدین مستونگ میں رہتے تھے۔ اماں یہاں اکیلی رہتی تھی۔ بچے بھی چھوٹے ہوتے تھے۔
اماں زیب النسا بتاتی تھیں کہ جب میر غوث بخش بزنجو بلوچستان کا گورنر بنا تو ہم لوگ بچوں کو ساتھ لے کر بزنجو صاحب کو مبارکباد دینے کے لئے تانگہ کر کے گورنر ہاوس لے گئے۔ ہمارا تانگہ گورنر ہاوس کے اندر چلا گیااور ہم اتر گئے۔جیسے ہی ہم بلڈنگ کے اندر گئے تو بزنجو صاحب سیڑھیوں سے نیچے اتر رہے تھے۔ میں نے ان کو سلام کیا اور مبارکباد دی۔ اس کے بعد ہم اندر کمرے میں چلے گئے جہاں بزنجو صاحب کی شریک حیات جان بی بی بیٹھی ہوئی تھی۔ میں نے سلام و دعا کے بعد ان کو بزنجو صاحب کے گورنر ہونے کی مبارکباد دی۔ کچھ دیر ہم ان کے ساتھ رہے ۔چائے پی اور واپس جانے کی اجازت چاہی۔ تانگہ باہر کھڑا تھا لیکن بزنجو صاحب نے تانگے والے کو منع کردیا اور ہمیں گورنر ہاوس کے پول کار میں گھر روانہ کردیا۔
اماں کی چھ اولادیں ہوئیں۔ چار بیٹے اور دو بیٹیاں۔پہلی ، بیٹی شاہدہ نسرین ہے ۔ اس کے بعد بیٹا شہک کریم ،پھر بیٹی رحیمہ ، اور پھر بیٹا امن دوست ۔بعد کے بیٹے کا نام فیصل کریم تھا۔اوراس کے بعد جہاں وش پیدا ہوا ۔
بچوں کی تعلیم کے بارے میں اماں بہت سنجیدہ تھی۔بیٹیوں کو اماں نے گریجویشن کرایا اور ٹیچنگ کے شعبے سے منسلک کردیا۔ امتحانات کے دنوں میں اماں بیٹیوں کو خود امتحانی ہال لے جایا کرتی تھی۔ جب تک کہ پرچہ ختم نہیں ہوجاتا تھا اماں سکول میں ہی بیٹھ کر انتظار کرتی تھی۔ سکول یا بورڈ آفس میں بچوں کی فیس جمع کرانا بھی اماں نے اپنے ذمہ میں لے رکھا تھا۔اسی طرح بیٹے جب تک چھوٹے تھے ان کو بھی خود پیدل سکول لے جاتی اور لاتی تھی۔یوں اس کی محنتوں سے بیٹے اور بئٹیاں تعلیم حاصل کر کے سرکاری ملازمتوں میں لگ گئے۔
اُس خوددار عورت نے بچوں کی پرورش ،تعلیم ،شادیاں سب کچھ غریبی اور سفید پوشی میں کیے ۔
اماں خوش قسمت تھی کہ اس نے بیٹوں اور بیٹیوں کو برسرِ روزگارہوتے دیکھا ، وہ خوش قسمت تھی کی اس نے تمام بچوں کی شادیاں دیکھیں، پوتیاں اور نواسیاں دیکھیں۔
بابو عبدالکریم شورش اور زیب النساءبڑی ثابت قدمی سے اپنے مشن پہ جُتے رہے ۔
ایک دن”نوکیں دور“ کے کاتب محمد عارف نے بابو سے پیسوں کا مطالبہ کیااور کہا ”شورش بابو اب پیسوں کے بغیر کام نہیں ہو سکتا“۔ بابو نے اس کی طرف دیکھا اور کچھ نہ کہا۔ اگلے دن جب بابو دفتر آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک رومال تھا اور کہا’محمد عارف یہ کسی سُنار کے پاس لے جائو جو کچھ ملے اس سے کام چلائو‘ ۔ اس رومال کے اندر کانوں کی تین چار بالیاں اور ایک انگوٹھی تھی۔ کچھ دیر تک تو عارف ، بابو کو دیکھتا رہا اور کہا’ بابو! اگر بہن کے زیور ہیں تو مجھ پر حرام ہے۔ یور تو میری بیوی کے گلے میں بھی ہیں“۔
اسی طرح کا ایک اور قصہ اسلامیہ پریس کوئٹہ کے ایک مشین مین نے سنایا کہ ایک دن بابو نوکیں دور چھپائی کے لئے پریس لایا تو پریس کے مالک نے چھاپنے سے انکار کردیا۔ اور پہلے پیسوں کا مطالبہ کیا۔ بابو نے کچھ نہ کہا اور اسی وقت پریس سے نکل گیااور تھوڑی دیر بعد واپس آگیا اور ایک رومال جس میں روپے بندھے ہوئے تھے پریس مالک کے سامنے پھینک کر کہا یہ لو اور اخبار کی چھپائی شروع کردو۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ اماں کے وہی زیور تھے جسے بابو بیچ کر آئے تھے۔
یوں بلوچستان اور بلوچ عوام کے ترجمان اخبار کو ہر بار اماں کے زیورات نے ہی بند ہونے سے بچایا ۔
اماں ایک قصہ سناتیں کہ انہی دنوں بابو ایک روز گھر آئے تو روٹی نہیں پکی تھی کیونکہ آٹا ختم ہو گیا تھا۔ بابو کے پاس پیسے نہیں تھے۔ تو بابو نے گھر میں پڑی آٹے کی چند خالی بوریاں بازار میں بیچنے کے لئے اُٹھائیں۔ وہ بوریاں بازار میں بیچ کر اُس کے بدلے کچھ روٹیاں خرید کر لے آئے اور ہم سب نے پیاز اور گڑ کے ساتھ کھانا کھایا۔
بابو پر 10دسمبر1986ءکی رات بےہوشی کا حملہ ہوا۔صبح اماں اور میں بابو کو سول ہسپتال کوئٹہ لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے بابو کو ایک عام وارڈ میں داخل کیا۔اماں نے بلوچستان کے اپنے ڈاکٹروں کے بیچ اپنے ساتھی کو کسمپرسی کی حالت میں پڑے ہوئے بھگتا۔
جس دن بابو کو ہسپتال میں داخل کیا گیا اس دن اماں کے پاس ساٹھ ستر روپے سے زیادہ کی رقم موجود نہیں تھی ۔یہ تو اللہ بھلا بھلا کرے پڑوسی باقر خان مرزا رحمت اللہ خان کے فرزند جو بر وقت ہسپتال پہنچ گئے تھے اور جس نے چپکے سے میری جیب میں ہزار روپے ڈالے۔ اور اسی طرح ملک عزیز خواجہ خیل نے پانچ سو روپے دیے۔خون جما دینے والی سخت سردی تھی شاید منفی14یا اس سے بھی زیادہ۔ دو تین دنوں تک بابو اسی کسمپرسی کی حالت میں ہسپتال میں رہاجہاں 14دسمبر 1986ءکی صبح کو اس کا انتقال ہوگیا۔بابو کو اس کی وصئت کے مطابق ہزارگنجی رنگی توک کے قبرستان میں دفنایا گئا ۔
زیب النسانے بابو کی وفات کے بعد اخبار کو سنبھالا ۔ وہی نوکیں دور کی ایڈےٹر و پبلشر بنی۔ گویا زیب النساءپہلی بلوچ خاتون تھی جو کسی اخبار کی ایڈیٹر و پبلشر بنی۔
بابو کے وفات کے بعد اماں اکیلی رہ گئی۔ اور پھر معاشی مسائل اور بھی گھمبیر ہو گئے۔ اور بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہونے لگی۔
ڈاکٹر سلم کرد کی مدد سے نوکیں دور
کو ہفت روزہ سے ماہنامہ کی صورت دے دی۔ اس طرح اماں جون 1987ءسے ماہنامہ نوکیں دور کی پبلشر بن گئی۔
کچھ عرصے بعد ڈاکٹر شاہ محمد مری بھی اپنا ایم فل مکمل کر کے لاہور سے کوئٹہ آگیا۔ ایک دن ڈاکٹر سلیم گھر آیا اور کہا کہ ڈاکٹر شاہ محمد مری نے پیشکش کی ہے کہ وہ نوکیں دور کو شائع کرنا چاہتا ہے۔ اماں بہت خوش ہوئی ۔ حالانکہ اماں ڈاکٹر شاہ محمد مری کو نہیں جانتی تھی۔ پھر بھی اپنے تجربہ اور بزرگی کے آئینے میں اتنا ضرور جانتی تھی کہ یقینا بابو کا کوئی مخلص عقیدت مند ہے جو اُس کے مشن کو بناکسی لالچ کے جاری رکھنا چاہتا ہے۔ اماں نے ڈاکٹر صاحب کو دعائیں دیں اور شہیک سے کہا کل اس سے ضرور ملے۔ اگلے روز وہ نوکیں دور کا ڈیکلریشن اُٹھا کر ڈاکٹر صاحب سے ملنے ان کے کلینک اباسین میڈیکل سنٹر توغی رود کوئٹہ چلا گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے ڈکلریشن اُسے واپس دے دیا اور کہا اسے گھر میں رکھو۔ شہیک نے اماں کی طرف سے ڈاکٹر صاحب کو نوکیں دور شائع کرنے کا کہا تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ بسم اللہ کرتے ہیں۔اس طرح ڈاکٹر شاہ محمد مری نے نوکیں دورکا شمارہ نکالنے کی تیاری شروع کردی۔یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری کہ ڈاکٹر مری جب لاہور میں تھے تو وہاں سی آر اسلم کے ساتھ مل کر اخبار ” عوامی جمہوریت“نکالتے رہے۔ یہ ضیاءمارشلا کا دور تھا۔ ڈنڈے ،کوڑے اور پھانسیاں۔۔۔ اُس دور میں ایک ترقی پسند جریدہ نکالنا بہت مشکل کام تھا۔ اس دوران افغانستان میں ترقی پسندوں کا عوامی انقلاب بھی برپا ہو چکا تھا۔ جس کا دفاع بابو کی طرح ڈاکٹر مری بھی کرتے رہے۔
چنانچہ ماہنامہ ”نوکیں دور“جنوری 1990ءسے ڈاکٹر شاہ محمد مری کے زیر نگرانی شائع ہونا شروع ہو گیا۔اس پہلے شمارے کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی کتابت ڈاکٹر سلیم کرد نے کی تھی اور یہ شمارہ اماں کے گھر مالی باغ کوئٹہ میں بیٹھ کر ڈاکٹر مری اور ڈاکٹر سلیم کرد نے ترتیب دیا۔ اس طرح ڈ اکٹر شاہ محمد مری پورے دس سال تک نوکیں دور نکالتے رہے۔
ڈاکٹر شاہ محمد مری کے زیر ادارت نوکیں دور پورے دس سالوں تک ایک ترقی پسند معیاری رسالے کے طور پر پورے آب و تاب سے شائع ہوتا رہا۔جو نہ صرف بلوچستان میں بلکہ پورے ملک میں ایک ترقی پسند اور معیاری رسالے کے طور پر پہچانا جانے لگا۔ اگر یوں کہا جائے بھی تو غلط نہ ہوگا کہ ڈاکٹر مری نے تمام ترقی پسندوں کو نوکیں دور میں لا کر یکجا کردیا تھا۔ ڈاکٹر مری نے نوکیں دور کی اشاعت اتنی بڑھا دی تھی کہ یہ بیرون ملک بھی جانے لگا ۔ اور لوگ بھی اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور اپنے خطوط میں اس کا اظہار بھی کرتے ۔قابل ذکر بات تو یہ ہے کہ نوکیں دور کے تمام اداریے ڈاکٹر شاہ محمد مری صاحب نے ہی لکھے ہیں۔
اماں ہر رسالہ بڑے غور سے پڑھتی تھی۔ اور اپنی رائے دیتی تھی ۔وہ ہر ماہ رسالے کا انتظار کرتی اور اگر کھبی رسالہ لیٹ ہوجاتا تو پوچھتی کہ رسالہ کیوں نہیں آیا۔ اماں ہر رسالہ سنبھال کر رکھنے کو کہتی۔
اماں ایک ملنسار خاتون تھی۔ وہ ہر ایک کی خوشی اور غمی میں شریک ہوتی تھی۔ وہ بالخصوص سیاست سے جڑے اپنے ساتھی شخصیات کی بہت قدر کرتی تھی اور ان کا نام نہایت احترام سے لےتی تھی۔ اور اکثر ان کی جدوجہد اور مشکلات کا ذکر بھی کرتی رہتی تھی۔ اماں کا بلوچستان کے تقریباً تمام چوٹی کے سیاست دانوں سے خاندانی اور گھریلو تعلق رہتا ۔ جب بھی کوئی بلوچ یا پشتون رہنما گرفتار ہوتا یا کوئی اور مشکل پیش آتی تو اماں ان کی خبرگیری کے لئے ضرور ان کے گھر جاتی۔ بالخصوص گوہر ملک کو دیکھنے تو ضرور جاتی ۔ گوہر ملک گل خان نصیر کی بڑی بیٹی تھی جو بچپن میں پولیو کا شکار ہو گئی تھی اور معذور تھی۔لیکن اس کا شمار اولین بلوچ خواتین لکھاریوں میں ہوتا تھا۔ اس کی تحریریں ساٹھ کی دھائی میں نوکیں دور کے خواتین کے صفحات کی زینت بنتی رہیں۔ گوہر ملک کو گھر میں ”ملک جان“ کہتے تھے اور اماں بھی اس کو اسی نام سے ہی پکارتی ۔جب تک ملک جان زندہ تھی اماں اس سے ملنے اس کے گھر ریلوے ہاوسنگ سوسائٹی ضرور جاتی تھی ۔
اماں اخبار ،رسالے اور کتابیں پڑھتی تھی۔صبح سویرے اخبار پڑھنا اس کا روز کا معمول تھا۔ جس دن اخبار نہیں آتا تھا یا اخبار کی چھٹی ہوتی تھی تو اُس دن پرانا اخبار یا رسالہ پڑھ کر یہ کمی پوری کر لیتی تھی ۔اماں اخبار میں شامل ساری خبریں تفصیل کے ساتھ پڑھا کرتی تھی۔ اور اکثر اخبار میں چھپنے والی خبریں بھی خود سنایا کرتی تھی۔ پھر اپنے بچوں سے بھی پوچھتی تھی کی فلاں خبر پڑھی تو ہم کہتے تھے کہ نہیں۔ اس پر وہ کہتی کہ تم لوگ خبر کی تفصیل نہیں پڑھتے بلکہ صرف سرخیاں پڑھتے ہو اس لئے تم لوگوں کو خبر کی اہمیت کا پتہ نہیں چلتا۔وہ اخبار کی اہمیت اور صحافت کو سمجھتی تھی ۔ وہ سیاسی خبریں تفصیل کے ساتھ پڑھا کرتی تھی۔ اور گھر میں اس پر بحث اور تجزیے بھی کرتی تھی اور اکثر کہتی کہ آج فلاں نے یہ بیان دیا ہے یہ ٹھیک نہیں ہے۔
وہ بلوچوں کی یکجہتی کی علمبردار تھی۔ اور بلوچوں کی نا اتفاقی پر نا خوش ہو جاتی تھی۔ اور ہمیشہ کہتی تھی کہ بلوچ اتفاق سے ہی آگے بڑھ سکتے ہیں اور ترقی کر سکتے ہیں۔ وہ اخبار میں جب کسی قبائلی کشت و خون کی خبر پڑھتی تو اس کا دل دکھی ہوجاتا تھا اور کافی دیر تک اس پر بحث اور باتیں کرتی اور دعا کرتی تھی کہ اللہ بلوچوں کو اتفاق دے اور برادر کشیوں سے بچائے۔
محترمہ زیب النساءبڑی حوصلہ مند اور جرات مند خاتون تھی۔اس کے ساتھی اور خاوند کی جلاوطنی ہویاپھر گرفتاریاں اوربے روزگاریاں،وہ ہر برے وقت میں بڑی ثابت قدمی سے کھڑی رہی ۔وہ بلوچستان مخالف بات پر لڑتی تھی اور بلوچستان کے حقوق کا دفاع ہر محفل اور گھر میں کرتی تھی۔تا دم مرگ کسی نے ان کے منہ سے کسی بلوچ رہنما کے لئے ایک بھی غلط لفظ نہ سنا۔
اس نے بابو کی وفات کے بعد 34سالوں تک گھر اور خاندان کو سربراہ کی حےثےت سے سنبھالا اورکسی بھی موقع پر بچوں کو بابو کی کمی محسوس ہونے نہ دی۔
اماں سیاست کی ان سپاہیوں میں تھیں جو کسی سیاسی تحریک سے براہ راست وابستہ ہوتیں ۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو نام وشہرت سے دور رہ کر تحریک کو ایندھن فراہم کرنے کا کام سر انجام دیتے ہیں۔ اماں عوام کی آزادی آبادی کی جدوجہد کے مشعل کو ایندھن فراہم کرنے کا کام سر انجام دیتی رہی۔
اماں ہمیشہ اس بات پر فخر محسوس کرتی تھی کہ وہ اور اس کا خاوند مخلص اور ایماندار سیاسی ورکر ہیں۔وہ دونوں اپنے نظریے ،سوچ اور فکر سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے۔اور نہ ہی حکمرانوں کے آگے کبھی جھکے اور نہ بکے اورنہ ہی کبھی قوم کا سودا کیا۔
بڑھاپا تو خود ایک بیماری ہوتا ہے ۔اُن کی ٹانگوں نے ساتھ دینے سے انکار کردیا ۔ وہ بڑی مشکل سے چلتی تھی۔ جس کی وجہ سے باہر نہیں جاسکتی تھی اور عموماً کمرے ہی میں رہنے لگی تھی۔ وہ کافی کمزور بھی ہو گئی تھی۔آخری دنوں میں تو خوراک بالکل چھوڑ دیا تھا ۔ ایک دن وہ گر گئیں اور وہی گرجانا موت کا پروانہ ثابت ہوا۔ آخری دن ہسپتال میں ڈاکٹروں نے کافی کوششیں کیں مگر اماں جانبر نہ ہو سکی۔ اور 19جنوری 2021ءکی ر ات 10بجکر48منٹ پر وفات پاگئیں۔ وہ 84برس تک اِس دنیا میں رہی ۔
اماں نے وصیت کی تھی کہ اسے ہزارگنجی میں اپنے کامریڈ بابو عبدالکریم شورش کے پہلو میں دفن کیا جائے۔اماں خوش قسمت تھی کہ اُسے بابو کی پہلو میں ہی جگہ ملی۔ورنہ 35سالہ جدائی کے بعد قبرستانوں میں خاوند کے قریب کہاں جگہ ملتی ہے۔

احترام!!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*