دل جب پتھر ہو جاتے ہیں

دھیرے دھیرے سرد ہوائیں کھَن کھَن کرتی ہنسی کا سونا
دُور اڑا کر لے جاتی ہیں
نرم رسیلی باتوں کے انبار پگھل کر بہہ جاتے ہیں
روتے دھوتے لمحے آ کر
شیلف پہ رکھی چہکاروں کا
سارا شہد گرا دیتے ہیں
لہجوں کے بَل کھولتے کھولتے دیواروں کی
پَوریں نیلی پڑ جاتی ہیں
درد، شکایت، دھول اور آنسو کالے کوس پھلانگتے یکدم
بسے بسائےشہر میں داخل ہو جاتے ہیں
دبی دبی آواز سے کوئی روح کے اندر کُرلاتا ہے
بڑے جتن سے بُنا ہوا رشتوں کا ریشم
پھر سے ڈھیری بن جاتا ہے

ایک ہی جیسے دن کھڑکی سے باہر ڈھلتے رہتے ہیں
چُپ کے کالے سائے خالی صحن میں چلتے رہتے ہیں
برسوں تک کونوں کھدروں میں
خدشے پلتے رہتے ہیں
اک منظر کےاندر دوسرا منظر پاؤں دھرتاہے
دوڑتا، بھاگتا لمحہ رک کر لمبی سانسیں بھرتا ہے

ریشم کی ڈھیری سے تکتی گھائل آنکھیں دروازوں پر
جان بچھائے رکھتی ہیں
ٹوٹے پھوٹے کو بھی اپنے
جی سے لگائے رکھتی ہیں
راکھ کے ڈھیر میں جلتے بجھتے
خواب دبائے رکھتی ہیں
سوکھی چٹخی شاخوں سے اک
چھاؤں بنائے رکھتی ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*