آٹھ مارچ ۔۔ مزدور عورتوں کا عالمی دن

 

ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ سنگت (یا اس سے قبل ماہنامہ نوکیں دور ) کا مارچ کا شمارہ عورتوں کے عالمی دن کی مناسبت سے ”عورت ایڈیشن “ کے بطور شائع ہوتا رہے۔
اب کے پھر،آٹھ مارچ آگیا۔ ملک بھر میں باشعور عورتوں کی طرف سے جلسوں ،سمیناروں ، جشن اور میلوں کا انعقاد ہوگا۔ یہ دن حتمی طور پر مزدور عورتوں کا دن ہے۔ اور اُن کی جدوجہد کی یاد گارکے بطور منایا جانے والا دن ہے ۔ آٹھ مارچ اُن امریکی مزدور عورتوں کی جدوجہد کی یاد میں منایاجاتا ہے جنہوں نے اپنے حقوق اور مطالبات کے لیے 1910میں وہاں ایجی ٹیشن کیے رکھی۔
اِس برس بھی عورتیں اپنے جلسوں جلوسوں اور سمیناروں میلوں میں مہنگائی کے خلاف قرار دادیں منظور کریں گی۔ یہ مہنگائی وفاقی حکومت کی پیداکردہ ہے ۔ایسی مہنگائی جو چھوٹے موٹے اقدامات سے ٹل نہ سکے گی۔ مہنگائی توملک کی معیشت کے کُل کے ساتھ جڑی ہوتی ہے ۔ اور جب تک بنیادی معاشی اقدامات نہ کیے جائیں مہنگائی ختم نہیں ہوسکتی۔ تین اقدامات ضروری ہیں۔
1۔ بیرونی قرضوں سے نجات
2۔ زرعی معیشت میں جاگیرداری نظام کا خاتمہ ۔ اور
3۔غیر پیداواری اخراجات میں زبردست کمی۔
اسی طرح اس سال بھی خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ہم بین الاقوامی امن پر زور دیں گے ۔ دنیا سے اسلحہ کی دوڑ کے خاتمے کی ترکیبیں ڈھونڈنے کا مطالبہ کریں گے۔ بالخصوص ہمارے خطے میں امن اہم ہے اس لیے کہ یہ خطہ گذشتہ نصف صدی سے آہوں کراہوں اور ماتموں کا علاقہ رہا ہے ۔ جنگوں نے ہمیںتباہ کر رکھا ہے ۔
جنگ ڈائریکٹ ہو، کنونشنل ہو ، یا بالواسطہ، یہ عوام کے ہر طبقہ کے لیے سنگین مسائل پیدا کرتی ہے ۔ یہ بالخصوص عورتوں اور بچوں کی زندگیاں خطرات میں ڈالتی ہے ۔ جنگ اِس کرہِ ارض پہ ہر طرح کی زندگی کا دشمن ہوتی ہے ۔ اس لیے عورتیں ممالک کے درمیان اچھی ہمسایگی اور دوستی و مفاہمت پر زور دیں گی۔اسلحہ بالخصوص ایٹمی اسلحہ کی دوڑ روکنے کے مطالبات کریں گی۔
اس سال بھی حکومت ِ بلوچستان سے صحت کی بہتر سہولتوں کی بات کی جائے گی۔ بالخصوص زچہ اور بچہ کی نگہداشت کے مراکز کے قیام کی ، اس لیے کہ اِس شعبے میں مناسب سہولتوں کے معقول بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے اکثر مائیں اور بچے فوت ہوجاتے ہیں۔ مطالبہ ہوگاکہ شہروں قصبوں اور دیہات میں طبی مراکز قائم کیے جائیں۔ اور وہاں لیڈی ڈاکٹر، ادویات اور طبی آلات کی فراہمی لازم ہو۔
ہمارے صوبے میں قائم ہونے والی حکومتیں اپنی طبقاتی ساخت کے سبب بہت پسماندہ ہیں۔ فیوڈل پس منظر سے آئی ہوئی اِن حکومتوں کو اندازہ ہی نہیں کہ بچوں کے لیے نرسریاں اور کنڈر گارٹن کس قدر ضروری ہیں۔ ایک ہنگامی اور بے منصوبہ ار بنائزیشن میں بچوں کے لیے پارکوں اور کھیل کے میدانوں کے قیام کو بالکل نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ عورتیں اپنے بچوں کے لیے یہ مطالبات لے کر اپنا عالمی دن منائیں گی۔
بلوچستان میں تعلیمی ادارے، بالخصوص بچیوں کے لیے پرائمری اور ہائی سکول اور کالجوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حکومتوں نے ٹیکس لینے کے باوجود تعلیم ،صحت حتی کہ جان ومال کی حفاظت تک کے شعبوں سے مکمل پسپائی اختیار کی ہے ۔ اور تعلیم و صحت پرائیویٹ لوگوں کے ہاتھ فروخت کردیے ہیں ۔ یومِ خواتین بہترین موقع ہے کہ اس میں مطالبہ کیا جائے کہ تعلیم مکمل طو رپر صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہو اور ہر شہری کو مفت، لازمی، سائنسی اور اپنی مادری زبانوں میں مہیا ہو۔
اس بار بھی عورتوں کے لیے روز گار کی سہولتیں بڑھانے کے مطالبات کیے جائیں گے ۔
ایک اور اہم انسانی مسئلہ پینے کے پانی کی فراہمی کا ہے ۔ حکومت اب پینے کا صاف پانی نہ تو شہروں کو مہیا کرتی ہے اورنہ دیہاتوں کو ۔ ٹینکروں کا مافیا راج کر رہا ہے اور نیسلے کی ملٹی نیشنل کمپنی کو روپیہ بٹورنے کی کھلی چھٹی دی گئی ہے ۔بلوچستان بھر میں ، بالخصوص اس کے دیہی علاقوں میں عورتوں کو اپنے مشکیزے میلوںدور جا کر بھرنے اور اپنے سر پر ڈھونے پڑتے ہیں۔ حکومت سے مطالبہ ہوگا کہ نلکوں کے ذریعے گھروں کو صاف اور وافر پانی مہیا کیا جائے ۔
عورتیں آبادی میں نصف ہیں۔ مگر مردوں کے مقابلے میں وہ بلدیاتی اداروں ، صوبائی اور قومی اسمبلیوں اور سینٹ میں بہت کم نمائندگی میں ہیں۔ چنانچہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں ، سیاسی پارٹیوں اور دانشوروں سے یہ بھر پور مطالبہ ہوگا کہ جنس کی بنیاد پر یہ امتیاز فی الفور ختم ہو۔ اور عورتوں کی سیٹیں اُن کی آبادی کے تناسب سے بڑھائی جائیں۔
ماہنامہ سنگت اپنی برسوں کی روایت کی مطابقت میں عورتوں کے مطالبات کی حمایت کرتا ہے۔ اور اس سلسلے میں اِن کی ترجمانی کا کردار ادا کرتا رہے گا۔

 

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*