کوکھ

اس کی زور دار چیخیں گویا آسمان پھاڑ رہی تھیں۔ ہونٹ درد سے خشک ہورہے تھے۔ بہت زیادہ رونے چیخنے اورچلانے سے اس کا گلا بیٹھ چکا تھا۔اور وہ اسے اپنی بانہوں میں سختی سے جکڑے ہوئے مسلسل ایک التجا کیے جارہی تھی کہ میں اپنے جگر کے ٹکڑے کو کبھی نہیں لے جانے دوں گی۔ جان ہے میری وہ۔میں کیونکر اسے تم لوگوں کے حوالے کردوں۔خدا کا خوف کرو۔۔جو بھی ہو یہ میری کوکھ کا بھرم ہے۔ماں کا عظیم جذبہ اپنی معراج پر تھا۔اس شور اور کھینچا تانی اور بچے کے بلکنے سے اس بچے کے منہ میں جھاگ سا بھر آیا تھا۔وہ اپنا منہ اوپر کرکے زور سے چیخ کر فریاد کر رہی تھی۔او ظالمو!میں نے نو مہینے اسے اپنی کوکھ میں رکھا اور اس کے لیے کتنی تکلیفیں جھیلیں۔۔۔اس نے چیخوں اور فریاد سے پورا گھر سر پر اٹھا رکھا تھا۔سب رشتہ دار عزیز گھر میں جمع تھے۔وہ یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ اس بچے کے لئے اس گھر میں کوئی جگہ نہیں یہ یہاں نہیں رہ سکتا۔ برادری اور زمانے کے طعنے سننے سے پہلے ہی اسے کہیں دور لے جانا ہے۔اگر ایسا نہیں کیا تو یہ ہمارے لئے بے عزتی اور ناک کٹنے کا سبب ہوگا۔ بچے کا باپ خشک لکڑی کی طرح سوکھ کر سکتے کے عالم میں کھڑا حیران حواس باساختہ سب کی شکلیں اس امید سے تک رہا تھا کہ شاید کوئی ہمارے حق میں بھی بات کر لے۔اس باپ کے اپنی اولاد کے لیے جومعصوم جذبات تھے انھیں اس ظالم معاشرے کے طعنوں کا اژدہا نگل گیا تھا۔رشتہ دار ماں کے سینے سے لپٹے اس کے جگر کے ٹکڑے کو اس سے الگ کرنے کے لئے زور زبردستی کرنے لگے تو وہ مزید اسے اپنی بانہوں میں دبوچتی چلی گئی۔آخر کارطعنوں کی اس جنگ کے بڑے طوفان کے سامنے وہ بے بس ہوگئی۔اس کی جان کو اس سے جیسے ہی الگ کر دیا گیا۔تو وہ ایک دلخراش سی چیخ مار کر زمین پر لیٹ گئی۔۔آخر قصور کیا تھا ماں کا؟ یا اس روح کا ؟ جو اس بچے کی صورت میں اس دنیا میں آئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔بخت کی شادی کو دس سال سے بھی زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔لیکن وہ بے اولادی کی آگ میں ہر پل جلتی رہتی تھی۔آج اس کے ہمسائے کے ایک گھر میں بچے کی پیدائش ہوئی تھی۔اس کی ساس ہمسایوں کو بچے کی مبارک باد دینے جارہی تھی۔اماں! خیر ہے آج سویرے سویرے کہاں جانے کی تیاری ہے۔نازو کو بیٹا ہوا ہے۔ آخر ہمسائے ہونے کے ناطے ہمیں بھی تو اپنی رسمیں نبھانی ہیں۔بختو حیران ہوکر بولی۔ نازو کو پھر سے بچہ ہوگیا۔اس کے تو پہلے سے ہی درجنوں بچے ہیں۔سال میں اس کو ایک بچہ تولازمی ہوتا ہے۔ اس کی ساس اپنی چادر کا پلو ٹھیک کرتے ہوئے بولی! کیوں اس کے بچوں کے پیچھے پڑے ہو تم سب۔ اللہ بے شک نوازنے والا ہے۔دعا کرو کہ تمھاری بھی گود ہری ہو جائے۔یہ اللہ کی دین ہے۔۔۔بختو بڑبڑائی!اماں وہ تو ٹھیک ہے لیکن ہم دس سال سے ایک بچے کے لئے ترس رہے ہیں۔اور اسکا ہر سال ایک بچہ پیدا ہوتا ہے۔ ۔بختو جب بھی کسی کے ہاں بچے کی پیدائش کا سنتی تو اپنی سونی گود کا رونا روتی۔ اور گلے شکوے کرنا تو اس کی زندگی کا معمول بن چکا تھا۔وقت کے بہتے تیز دھارے کے ساتھ اس کی عمر اور جوانی ڈھلتی جا رہی تھی۔اس کے شوہر اور ساس نے ہر طبیب سے علاج کروایا اور پیروں، فقیروں کو بھی آزما لیا۔ کافی عرصہ گزرنے کے بعد امید کا چراغ روشن ہوا۔اور وہ امید سے ہو گئی۔اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی۔وہ ہر وقت اپنے شوہر کو کہتی کہ اللہ ہمیں بیٹا دے۔اس کا شوہر ہمیشہ کہتا تھاکہ جو بھی ہو بس بے عیب ہو۔اللہ پاک رحمت عطا کرے یا نعمت شکر ادا کروکہ رب کریم ہم پر مہربان ہوا ہے۔لیکن بختو کی ایک ہی رٹ تھی کہ بیٹا ہی ہو۔نو مہینوں کے انتظار کی گھڑیاں اب ختم ہونے کو تھیں۔بے اولادی کا دکھ بھی اب مدھم ہوچکا تھا۔ننھی جان کا دنیا میں آنے کا وقت پورا ہو چکا تھا۔علاقے کی دائی کو دعوت دی گئی۔اس کا شوہر گھر کے صحن میں بے تابی سے خوشخبری کے انتظار میں ٹہل رہا تھا۔اس کی انکھیں بار بار بے چینی سے دروازے کو دیکھ رہیں تھیں۔ اور وہ من ہی من میں اپنے ہونے والے بچے کے لئے نام سوچ رہا تھا۔نہیں نہیں گرگین۔۔۔۔ارے نہیں بشام۔۔۔اگر خدا نے بیٹی دی تو سازین۔۔۔۔وہ انہی سوچوں میں گم تھا کہ دائی اور اس کی ماں کمرے سے نکلیں۔ان کا رنگ پھیکا پڑ چکا تھا گویا سانپ سونگھ گیا ہو۔آنکھیں پلٹ گئی ہوں جیسے۔۔ اور چہرہ بلکل بے رونق وہ بہت نڈھال ہوچکے تھے۔ان کو اس طرح ہڑبڑاتا ہوا دیکھ کراس کا شوہر شدید بے چینی اور بے قراری سے ان کے پاس بھاگا۔اور اپنے کانپتے ہونٹوں سے پوچھا۔۔۔کیا ہوا۔۔۔؟ بختو ٹھیک ہے۔۔؟بچہ کیسا ہے۔۔؟اس کی ماں تو کچھ بولنے کے قابل نہیں تھی۔دائی نے ہمت باندھ کر جواب دیا۔جی ہاں۔۔۔بختو ٹھیک ہے۔۔۔اور۔۔اور بچہ بھی۔۔۔یہ جواب سنتے ہی اس کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا۔پھر تم لوگ چپ کیوں ہو۔۔۔۔ بتاو نا کہ اللہ نے مجھے بیٹا دیا ہے یا بیٹی۔۔۔۔۔؟ دائی کا جواب سنتے ہی اس کے اوسان خطا ہوگئے۔اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔جب دائی نے کہا کہ۔۔۔ وہ نہ بیٹی ہے اور نہ ہی بیٹا۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*