ضرورت!!!

مجھے افسانوی باتیں کرنی نہیں آتیں
پر میرا تمہارا کنکشن افسانوی ہے
ہاتھ وہ نہیں لکھتا جو ذہن سوچتا ہے
ذہن اور قلم کا
درمیانی راستہ آساں نہیں ہوتا
مصلحتوں کے پہاڑ اور تحفظات کے سمندر
عبور کرنے پڑتے ہیں
تُم کتاب کا کور دیکھ کر
مضمون بھانپ لیتے ہو
تو یہ کیسے مُمکن ہے کہ
جس کتاب پر تمہارا نام لکھا ہو پڑھ نہیں پاؤ؟
تمہیں ذہانت سے خوف آتا ہے
تو ڈینائل میں پناہ تلاش کرتے ہو
تُم مُجھ سے دور ہوکر بھی دور رہ نہیں پاتے
میں لکھے الفاظ کے ساتھ ساتھ
تمہاری خموشیاں بھی پڑھتی ہوں
ذہن اور بدن دو الگ حقیقتیں ہیں
دونوں ساتھ ساتھ چلتی ہیں
مگر اِن کا ساتھ دیرپا نہیں ہوتا
بدن کی زندگی کم ہے
پر ذہن تا عُمر چلتا ہے
تُم اُس عورت کی ضرورت ہو
جسے انٹلکچوئل اورگیزم
صرف تمہاری باہوں میں ملتا ہے
تو نیند سے عاری آنکھیں
کیف و سرور سے بند ہونے لگتی ہیں
تُم نظم کا وہ بُنیادی خیال ہو
جو الگ ہو جائے
تو نظم، نظم نہیں رہے گی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*