حمیرا صدف

براھوی، بلوچی اوراردو زبان کی ایک خوش فکر وخوش خیال شا عرہ وادیبہ حمیرا صدف کی نظمیں پڑھنے اورانکے بارے میں جاننے کا اتفا ق ہوا۔ انکی نظمیں پڑھتے ہوئے مجھے ڈا کٹر شاہ محمد مری کی کتاب یاد آگئی "بلوچ سماج میں عورت کا مقام ” ۔شا ہ محمد مری کہتے ہیں ” بیٹی کی پیدا ئش کو خود ماں ایک بد بختی سمجھتی ہے، ماں روتی ہے پیٹتی ہے، وہ جس قدرزورسے رو ئے گی اسی قدرعزت اس کی بڑھ جا ئے گی۔عورتیں ایک دوسرے سے پوچھتی ہیں "اس نے کیا جنا ہے؟” اور بیٹی کی صورت میں دوسری عورت جواب دیتی ہے” پٹ (لعنت ) ہے اس پر بیٹی جنی ہے” ایک اوررسم کا ذکرکرتے ہوئے کہتے ہیں ” اس رسم کو”نیخ ” کا نام دیا جاتا ہے۔ اس رسم کی رو سے اگر کو ئی شخص کسی کو قتل کردیتا ہے تو فیصلے کی خبر بلوچی رسم "حال احوال ” کے ذریعہ علا قہ میں یوں پھیلتی ہے۔ "فلاں کے قتل کا تصفیہ ہوگیا، ا س کا خوں بہا ہوا، لا کھ روپے، سا ٹھ مویشی اوردو کنواری لڑکیا ں "۔ شاہ محمد مری کی اس کتاب کی دوسری اشا عت دو ہزار پانچ میں ہوئی ہے۔ میں حمرا صدف کو دوہزاراکیس کے آغاز میں پڑھ رہی ہوں۔ بیٹی پیدا ہونے پر بین کرنے والے رسوم کے سامنے سربلند حمیرا کے ہاتھ میں فلسفہ کی ڈگری ہے،اس کے بدن پراپنی شناخت کا گا ﺅن ہے، اسکے قدم علمی درسگاہ میں اپنے قدموں کے وہ نشانات ثبت کررہے ہیں جن پر پیردھرتی ہوئی اسکے پیچھے آنے والی سیکڑوں لڑکیاں روایات کی خندق پار کرجائیں گی۔ اس کے ہاتھ میں علم کی مشعل ہے اورلہجے میں للکار” مجال ہے کوئی ہما رے اس جنم پر بین کرے۔ میں حمیرا سے پہلے قندیل بدر۔ انجیل صحیفہ۔تمثیل اور زبیا بلا سم جیسے روشن لہجوں کی چکا چوند پردعاﺅں کے تھال نچھا ور کرتی رہی ہوں۔۔۔۔۔ بلوچستان کی مٹی بہت زرخیز ہے اس مٹی کو مستیں توکلی اور سمونے عشق کے سبز دریاﺅں سے سینچا ہے۔ فنون لطیفہ اس پانی سے وضوکرتے ہیں مگر وہ پتھردل رسم ورواج جو بلوچستان میں بچیوں کی پیدائش پر بین کرنے ہیں اورجوصرف بلوچ سما ج کا حصہ نہیں ہیں بلکہ پوی دنیا میں ایسے ہی یا اس سے بھی بد تر حالت میں موجود ہیں ان رواجوں کو اب کوئی نہ کوئی حمیرا اپنی نظموں اپنے افسانوں اپنے مضامیں میں گلے سے دبو چے مسکرا رہی ہے۔ حمیرہ اوراس جیسی زندہ آوازیں اب ایک ایک ستم کی نشاند ہی کررہی ہیں۔ وہ جنکے ذہنو ں کو بچپن سے ہی سمجھا دیا جاتا ہے کہ عورت کو رقم اور مویشیوں کے ساتھ تا وان میں دے دیا جانا ہمارا دستورہے کہ عورت کی بس اتنی ہی وقعت ہے اس دستورکواپنی نظموں میں للکار رہی ہیں۔ وقت بدل رہا ہے لیکن ان رواجوں کی جڑیں اس طرح پیوست ہیں معاشرے اور سماج کی جڑوں میں کہ ان کو اکھاڑ پھیکنا اتنا آسان نہیں ۔ حمیرا صدف درجن بھرسے ذیادہ کتا بوں کی شمع روشن کرچکی ہے مگر اس با وقاراورلائق صد افتخار لڑکی کا وجود اب بھی زخمی ہے، اسکے حروف کے ہونٹوں سے اب بھی خون رس رہا ہے۔
آج بھی انسانی وجود تذبذب کا شکار
روح میں کوئی وحشی درندہ ہے پنجے گاڑے
خون پی رہا ہے
سیاہ کاری کا سیاہ نشان
صرف عورت ہی کے
ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے
غیرت
ننگی لا ش پر رقصاں ہے
پیسے کی بولی لگ رہی ہے
مرد فاتح ٹہرا
عوت آ ج بھی مررہی ہے
اب اس کی قیمت پچیس لاکھ مقررہوگئی ہے
اکیسیوں صدی ؟
ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روایات میں جدت آ گئی ہے
یہ نظم یہ نوحہ صرف بلوچ سماج کی ایک حمیرا کا نہیں ہے بلکہ ہمارے سماج ، ہمارے ماحول، ہمارے معاشرے کی ہر عورت ہر لڑکی کے وجود کا وہ ناسورہے جس سے اب تک اسے پوری طرح نجات نہیں مل سکی ہے حالانکہ اسکے الفاظ کے ہونٹوں سے خون اب بھی رس رہا ہے لیکن یہ آج کی عورت ہے اسکا عزم اسکا حوصلہ ٹوٹنے والا نہیں اس کے ہاتھ میں علم کی جو مشعل ہے اسے جبرکی کوئی آندھی بجھا نہیں سکتی کہ وہ اپنی درس گاہ میں سیکڑوں کا ہاتھ تھامے منزل کی بشا رت دے رہی ہے
آءو ہم مل کے سبھی روشنی کی بات کریں
ہونی انہونی کے اس بیچ
کوئی راہ نکل آئے گی
یہ ضروری تو نہیں
جیت مقدر ٹہرے
آﺅ سقراط کے اک سچ کی
گواہی کی سبھی بات کریں
جو کوئی کہہ نہ سکا
ان کہی وہ بات کہیں
یہ ایک چھوٹی سی مگر کیسی زندہ نظم ہے۔ کیا عزم ہے "سقراط کے سچ کی بات کریں۔ جو کوئی کہہ نہ سکا ایسی کوئی بات کریں۔ دراصل اکیسویں صدی کی ہر لڑکی کا یہی عزم ہے اورحمیرا ا س عزم کی نقیب ہے گویا۔۔۔ حمیرا فکر و فن کے حوالے زندگی اور ا س کی دھوپ چھا ﺅں کی حقیقی ترجمان ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ۔ بلوچستان کئی اعتبار سے پاکستان کا اہم اور منفرد صوبہ ہے۔ رقبہ کے لحاظ سے یہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ قدرتی گیس، کوئلہ ، سونے چاندی تانبہ ، اونکس اور دوسری معدنیاتی دولت سے مالا مال ہے۔بلوچستان میں پتھروں کے دورمیں بھی آبادی تھی یہ بات آثارِ قدیمہ کی دریافتوں سے ثابت ہوچکی ہے اس کے باوجود بلوچستان کی سرزمیں ایک طویل مدت سے ظلم وستم اور نا انصافیوں کی آماجگاہ ہے حمیرا اپنی زمیں کے زخم زخم جسم کا نوحہ لکھتی ہے
میری دھرتی تیرے بچوں کی عمریں کم ہو ئی ہیں
تیرے بیٹوں کی گردنیں کٹ رہی ہیں
تیرے کئی لخت ِ جگر لا پتہ ہیں
ہماری ردائیں چھن رہی ہیں
تیری کلیاں درندے نوچتے ہیں
میری دھرتی تیری بیٹیاں ماتم کناں ہیں

حمیرہ اپنی نظموں میں جگرِ لخت لخت کو جمع کرتی ہے۔ چنا نچہ اس کی ایک ایک نظم جذبوں کے ارتعاش کے ساتھ ساتھ تا مّل و فکرکی دھوپ چھا ٰوں رکھتی ہے۔اسے مسائل ِ حیات سے حریفانہ آنکھیں ملانے کا سلیقہ بھی ہے اور زندگی کی مثبت قدروں اورفن کے حقیت پسندانہ رویوں سے وا لہانہ وابستگی کا قرینہ بھی۔ بروہی اوربلوچی زبان کی یہ سفیر بلوچستان کی ایک توانا آواز ہے ۔مجھے اندازہ ہے کہ حمیرا صدف اپنی نظموں، افسانوں اور مضامین میں اپنی الگ شناخت بنانے میں کا میاب ہے اورہرسنگ میل پراپنا نام کندہ کرتی جا رہی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*