قبرستان کے مجاور

 

سیاہ، اُجاڑ،بکھرے بالوں کو
میرے ماتھے سے سمیٹ کر
ساس نے کہا
جب ساٹھ سال کی ہوگی تب سمجھوگی
ایک گھر کے لیے کیا کیا قربانیاں دی جاتی ہیں

بے تاب، خودسر، باغی آنسوؤں کو
میرے رخساروں سے پونچھ کر
سُسر نے کہا
جب ساٹھ سال کی ہوگی
تب ہماری بیٹی
بے وقوفانہ باتیں چھوڑ کر
اپنی ساس کی طرح بارعب شخصیت میں کیسی لگے گی

بے چین، پریشان، اُداس رات میں
تم نے لحاف سر پر تاننے سے پہلے
میرے بالوں اور ماتھے کو چوم کے کہا
تم خواہ مخواہ اُداس ہوتی ہو
تم ساٹھ سال کی ہوگی
تب بھی میں تمہیں اتنا ہی چاہوں گا

ویران، تنہا، بوجھل دنوں میں
میں سوچ رہی ہوں، کیا مصیبت ہے
عورتوں کو کہاں کہاں روکاجاتا ہے
قبرستانوں تک میں جانے نہیں دیتے
مجھے تمہاری قبر پر کون لے جائے گا
میں ساٹھ سال کی ہوجائوں
تو شاید میرے اکیلے قبرستان جانے پر
کسی کو کوئی اعتراض نہ ہو
اور قبرستان کے مجاور شاید
میرا راستہ نہ روکیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*