تیسری رات

 

میں نے خواب دیکھا کہ میری پیٹھ پر ایک چھ سال کا بچہ بیٹھا ہے۔یہ بلا شبہ میرا ہی بچہ ہے۔لیکن کچھ عجیب سی بات تھی کہ خواب ہی میں مجھے نہ معلوم کس طرح علم تھا کہ یہ بچہ نابینا ہے۔اور یہ کہ اس کی چندیا نیلے رنگ کی ہے۔اُسترے سے چمک دار طریقے سے منڈی ہوئی ۔
میں نے اس سے سوال کیا کہ وہ نابینا کب سے ہوا ، تو اس نے جواب دیا : © ©” اوہ ! ابدیت سے ہی۔“ آواز تو بچے کی ہی سی تھی ، لیکن اس کے الفاظ کا چناو ¿ بڑوں جیسا لگتا تھا۔یعنی اس طرح کا انداز کہ جس طرح کہ بالغ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ گفتگو میں اختیار کر تے ہیں۔
اس دوران دائیں اور بائیں جانب پھیلے ہوئے دھان کے کھیت بھی آسمانی رنگ میں گُندھے نظر آرہے کیاتھے۔ہمارا راستہ بہت تنگ گذار سا تھا۔اس دوران بار بار ایک لمبی گردن اور ٹانگوں والا بگلے کی نسل کا کوئی پرندہ سا اُڑ کر آرہا تھا۔اور اُس کی آمد سے بتدریج پھیلنے والی تاریکی میں روشنی کی سی چمک پیدا ہورہی تھی۔
” مجھے محسوس ہورہا ہے کہ ہم کسی دھان کے کھیت میں آگئے ہیں۔“ میری پیٹھ پر بیٹھا ہوا عفریت نما بچہ مجھ سے مخاطب ہوا۔
” تم کو کس طرح اندازہ ہورہاہے ؟ “ میں نے اپنا سر اپنی پیٹھ کی جانب موڑتے ہوئے اُس سے پوچھا۔ ” بگلے کی قیں قیں کی آواز سے۔“ اُس نے جواب دیا۔اور واقعی اُس وقت بگلے کے حلق سے دو بار اسی آواز میں چیخ نکلی۔
حالاں کہ یہ بچہ میرا اپنا ہی تھا، لیکن پھر بھی اس وقت مجھے اُس سے کچھ خوف محسوس ہوا۔کوئی بھی شخص اگر اس قسم کی مادی شے اپنی پیٹھ پر لیے چل رہا ہو ،تو ظاہر ہے کہ اُس کو کچھ اندازہ نہیں ہوسکتا ہے کہ آگے آگے اُس کو کیا کچھ دیکھنا پڑ سکتا ہے۔اب جیسے جیسے میں بڑھتی ہوئی تاریکی میں گہری نظریں جمائے آگے قدم اُٹھا تا چل رہا تھا،اس فکر میں کہ میں اپنے ناگوار سے بوجھ کو کسی مقام پر اُتاردوں ،کہ دفعتاََ مجھے اپنے سامنے ایک وسیع اور گھنا جنگل تاریکی کو چیرتا نظر آیا۔اور عین اُسی لمحے جب میرے دل میں خیال دوڑا کہ اس جنگل میں کسی جگہ میں اپنے بوجھ کو پھینک دوں گا ،کہ اتنے میں میری پیٹھ کی جانب سے تمسخرانہ طور پر ہنسنے کی آواز آئی۔
” تم اس طرح کیوں ہنس رہے ہو ؟ “
بچے نے اس بات کا تو کوئی جواب نہیں دیا،البتہ اُس نے مختصر طور پر مجھ سے سوال کیا ۔ ” فادر ۔کیا میں تمہارے لیے بڑا بوجھ بن گیا ہوں ؟ “
” نہیں بڑا بوجھ تو نہیں ۔ “
” تو پھر انتظار کرو۔میں واقعی بڑا بوجھ بننے والا ہوں ۔ “
میں نے اُس کا کوئی جواب دینے کی بجائے جنگل میں بدستور آہستہ آہستہ بڑھنا شروع کردیا۔یہ کوئی آسان کام نہیں تھا،کیوں کہ دھان کے کھیتوں کے درمیان جو رہگزر تھی،وہ نہایت ٹیڑھی میڑھی سی تھی۔کچھ دیر بعد ہم ایسے مقام پر پہنچے ،جہاں پر یہ پگڈنڈی دد حصوں میں منقسم ہوگئی تھی۔اور کچھ لمحوں کے لیے میں وہاں سستانے کو ٹھہر گیا۔
” یہاں کہیں کوئی نشان ِراہ کے لیے کوئی تختی ضرور لگی ہوگی۔تلاش کرلیں۔“ بے تمیز بچہ روکھے انداز میں بولا۔اور واقعی مجھے وہاں تقریباََ آٹھ انچ اسکوائر اور میرے کولہوں جتنی اونچائی کا ایک پتھر گڑا ہوانظر آگیا۔اس پر تحریر تھا۔ ” بائیں جانب ہیگا کوبو۔دائیں جانب ہوٹا وارا “۔ اس وقت گہرائی کی حد تک اندھیرا چھایا ہوا تھا،لیکن پتھر پر سرخ رنگ میں لکھے ہوئے حروف بہت اچھی طرح پڑھے جاسکتے تھے۔
” بائیں طرف مُڑجائیں۔“ میرے اُچاوے نے حکم صادر کیا۔بائیں طرف چلتے ہوئے جنگل کے خوف ناک سائے بھی ہمارے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔اس لیے مجھے آگے بڑھنے میں کچھ ہچکچاہٹ سی محسوس ہو نے لگی۔ ” کسی خوف ،ڈر کی ضرورت نہیں۔“پیچھے سے میں نے تحکم آمیز آواز سُنی۔اور اس کے نتیجے میں میں نے پھر بھاری قدموں سے جنگل میں آگے بڑھنا شروع کر دیا۔یہاں تک کہ میں گھنے جنگل کے قریب پہنچ گیا۔اور اس وقت حیرانی سے سوچنے لگا کہ یہ عجیب قسم کی چیز ، یعنی نظر سے یکسر محروم اور تمیز و آداب سے مطلقاََعار ی بچے کو آخر تمام باتوں کا کس طرح وجدان ہو جاتا ہے ،کہ اسی دوران میرے سوال کے جواب میں آواز گونجی : ” بینائی سے محرومی کی وجہ سے مجھے تکلیف دِہ پریشانی تو حقیقت میں ہوتی ہی ہے۔ “
” اسی لیے تو میں تمہیں اپنی پیٹھ پر لادے لادے پھرتا ہوں،تاکہ تم خیرو عافیت سے رہو۔“
” جی ۔مجھے اس بات کا علم ہے۔اور میں شکر گزار ہوں آپ کا کہ مجھے آپ کہیں لے جانے وغیرہ کا کام کرتے ہیں۔لیکن لوگ مجھے حقارت سے دیکھتے ہیں ۔یہ ان کی نہایت ذلت آمیز حرکت ہوتی ہے۔لیکن خود میرے ماں باپ بھی ایسی ہی حقارت کی نظر سے مجھے دیکھتے ہیں۔یہ بھی تو کوئی اچھا سلوک تو نہیں کہلایا جائے گا۔“
میں یہ سُن کر سناٹے میں آگیا، اور شدت سے محسوس کرنے لگا کہ بس اب بہت ہوچکا۔اور اسی لیے میں نے فوری طور فیصلہ کیا کہ جنگل کی جانب اپنی رفتار میں بجلی کی سی تیزی لاو ¿ں اور اپنے جسم پر لدے ہوئے اس بے کار سے کچرے کے ڈھیر کو کہیں پھینک دوں۔
” کچھ اور آگے قدم بڑھائیں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ یہ کیسی یاد گار رات ہے۔“ میرے پیچھے سے خود کلامی کے سے انداز میں آوازآئی۔
” کیا مطلب ہے تمہارا ! “ میں نے اُس لہجے میں اُ س سے دریافت کیا ،جس سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ جو کچھ میں سوچ رہا ہوں،اُس میں مجھے اب تک سرے سے ناکامی ہی ہو رہی ہے۔
” کیا مطلب ہے تمہارا ! “ اس سوال کا کیا جواب دوں۔آپ خوو ہی جواب سے اچھی طرح واقف ہیں۔ “ بچے نے ایک بار پھر تمسخرانہ انداز میں جواب دیا۔اور اب مجھے خود ہی محسوس ہوا کہ اس گورکھ دھندے کامفہوم کیا ہے۔یوں دیکھا جائے تو میرے دماغ میں اس کا مطلب بہت واضح اور شفاف تھا، لیکن پھر بھی مجھے اپنے محسوسات میں ایک قسم کی دھندھلاہٹ چھائی ہوئی دکھائی دی۔کیوں کہ بچے کی بات سے میں نے اندازہ لگایا کہ آگے چل کر مجھے پتہ چلے گا کہ میرے لیے اس رات کا مطلب یہ نہیں کہ میں اس بچے کو کہیں پھینک دوں ،بلکہ اس کا کچھ اورپوشیدہ مطلب ہے۔چناں چہ میں نے اُس کو سمجھنے کے لیے اپنے قدم مزید تیز تر کر دیے۔مجھے اس دوران یہ بھی خیال آیا کہ کیوں نہ اس بوجھ کو پہلے کہیں اُتار دوں اور پھر ممکنہ طور پر کسی تباہ کن نئی رات کے مفہوم سے آگاہ ہوں۔یہ سوچتے ہوئے میں نے اپنی رفتار کو اور زیادہ مہمیز دے دی۔اور جلد سے جلد جنگل کے وسط میں داخل ہونے کی کوشش میں لگ پڑا۔
بارش اب سے کچھ وقت پہلے شروع ہوچکی تھی۔راستہ مزید تاریک سے تاریک تر ہوتا جا رہا تھا۔ایک طرح کی ہیجانی کیفیت میں مبتلاہونے کی وجہ سے میری چال میں اب لڑکھڑاہٹ بھی پیدا ہوگئی تھی۔میرے اندر جو صرف ایک احساس رہ گیا تھا،وہ بس یہی تھا کہ ایک چھوٹا سا شیطان صفت بچہ میری پیٹھ سے چمٹا بیٹھا ہے۔اور یہ بچہ اُس آئینے کی طرح چمک رہاہے،جس سے میرے ماضی،حال اور مستقبل کی روئیداد منعکس ہو رہی ہے۔ میرے کا رناموں ،ناکامیوں اور خصائص کا کون سا چھوٹا ،بڑا پہلو تھا،جو اس آئینے سے آشکار نہ ہو رہاتھا۔اور یہ آئینہ بردار میرا خود کا ہی بچہ تھا۔نابینا بچہ۔۔۔میرے لیے اب یہ سب کچھ ناقابل ِ برداشت تھا۔
” مل گیا یہاں۔اس سامنے کے صنوبر کے درخت کی جڑ میں ہے یہ۔ “
آفت کے پرکالے بچے کی آواز فضا کی تمام آوازوں سے مختلف ہو کر اور بارش کی یلغار کو چیرتی ہوئی گونجی۔میں اس کی وجہ سے بے ڈھب انداز میں رُک کر رہ گیا۔مجھے اب کچھ بھی محسوس نہیں ہو رہا تھاکہ میں کیا کر رہاہوں۔میں اس وقت بیچ گھنے جنگل میں آپہنچا تھا،لیکن اس کا مجھے کچھ بھی خیال نہیں تھا۔شاید مجھ سے دو گز فاصلے پر کوئی سیاہ رنگ کی چیز میرے سامنے موجود تھی،جو حقیقت میں صنوبر کا درخت ہی لگتی تھی، جس کی بچے نے نشان دہی کی تھی۔
” فادر ۔یہ اس درخت کا ہی قصہ ہے،درست کہہ رہا ہوں نا ؟ “
” ہاں “ میں نے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے کہا ۔ ” جی۔ایسا ہی ہے۔ “
” میرا خیال ہے کہ ہمارے ماضی کے بہت اچھے دوریعنیBunka کا پانچواں سال تھایہ “
اب جو اُ س نے ذکر کر ہی دیا تھا ، تو مجھے لگتا تھا کہ حقیقت میں یہ Bunka کا پانچواں ہی سال تھا۔
” یہ بالکل ٹھیک سو سال کا واقعہ ہے جب تم نے مجھے قتل کر دیا تھا۔“
یہ الفاظ سنتے ہی جیسے میرے اوپر آسمان سے بجلی گر پڑی ۔کیوں کہ مجھے یا د آیا کہ میں نے اندھیرے میںبھی نظر آتے ہوئے اس صنوبر کے درخت کی جڑ کے پاس ایک سو سال پہلے Bunka کے پانچویں سال ایک نابینا شخص کو قتل کیا تھا۔وقت بھی یہی تھا۔اور جب مجھے اس شخص کے اپنے ہاتھوں قتل کی ےاد آئی تو میری پیٹھ پر بیٹھے ہوئے بچے کا وزن بھی مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے وہ کوئی بھاری ترین چٹان پر بنا ہوا کسی دیوتا کا مجسمہ ہو۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*