ہیپی اولڈہومز

” سالا چریا مغز! بک بک کیے جانا تو اس کی پرانی خو ہے۔ اب حرامزادے کو کان بھی لگ گئے ہیں“۔ بائو جی ساری زندگی نستعلیق ہونے کی پریکٹس کرتے رہے۔ مرتے ہی جانے کیوں گالیاں بکنے شروع ہو گئے تھے۔
اوپری لب پر پھیلی ہوئی راکھ رنگ مونچھیں شاید غسال نے زیادہ ہی تراش دی تھیں۔ موت نے چہرے پر چھائی زندگی کی جھلاہٹ کو جیسے استری کر دیا ہو۔
رونمائی کو آنے والی عورتیں پلو چہرے سے ہٹا کر دیکھتیں اور آہ بھر کر دیوار سے لگ جاتیں۔
”کتنا شانت چہرہ ہے، جنتی ہیں بھائی صاحب“۔ انصافی بہو تائید میں کسی تابعدار گائے کی طرح سر ہلاتی اور کہتی: ”اور کیا! بابا جانی نے اپنی ساری حیاتی اپنے بچوں کو سٹینڈرڈ لائف مہیا کرنے میں کھپادی ۔۔۔ کیا کیا نہ کشٹ اٹھائے انہوں نے ۔۔۔ جنت میں جائیں گے سیدھا۔“
بائو جی کا دماغ تو جنت کے تصورہی سے سن ہو رہا تھا ۔” کیا وہاں بھی کسی چیز کی طرح پڑا رہوں گا۔ کشٹ اُٹھا اُٹھا کر جب زندگی سے لطف اُٹھانے کا وقت آیا تو سب نے مجھے فومی کتروں بھرے بھالو کی طرح کارنس پر سجا دیا۔۔۔۔۔ اوئے شوشلیئے! کمینیئے!۔رب تمہیں جنت رسید کرے۔۔۔ حور بنا دے تجھے!“
بیٹا سر جھکائے چار پائی کے پاس بیٹھا ٹھسک رہا تھا ، جیسے کھانسی روکنے کی کوشش کر رہا ہو۔ بائو جی سپیدلباس میں نئے نکور لگ رہے تھے۔ اُس اولین ساعت کی طرح جب ماں نے سکول کے لیے تیار کرتے ہوئے سپیدشرٹ گرے نیکر میں ملبو س دیکھ کے بے ساختہ بولا تھا۔” با ئوجی!“ پھر ماں تو نہ رہی لیکن لفظ ”بائوجی“ نے ساری زندگی ساتھ نبھایا۔
”بائو جی! اکیلا چھوڑ گئے۔۔۔“ بیٹے نے خود کو یاد کروایا۔ لفظوں کے اندر لفظوں نے تالی بجائی ۔ ”شکر ہے خدا نے سنبھال لیا“۔
تمیز دار بہو سر جھکائے ہاتھ میں تسبیح لیے سسک رہی تھی۔ ہاتھ پائوں چھوڑے بے بس پڑے بائو جی کے دماغ نے ہائو ہو مچا رکھی تھی بولے بنارہ نہ سکا، ”پھپھے کٹنی“ ۔
سٹور روم اٹار پٹار سے بھرا تھا جن کا نہ تو کوئی استعمال تھا اور نہ پھینکنے کا حوصلہ۔ چیزیں الماریوں میں لپٹی لپٹائی اوپر تلے سمٹی سمٹائی لاچاری میں پڑی ہوئی تھیں۔
اسی سٹور روم کے ساتھ ہی تو بائو جی کا کمرہ تھا۔ جس کی کھڑکیوں کے پٹ کسی بھی رُت میں نہیں کھلتے تھے، دبیز پردوں سے ڈھکے ہوئے۔ کمزور امیونٹی پولیوشن کی یلغار! اس کے سوا اور چارہ ہی کیا تھا کہ بائو جی کو سِنیت کر بسترپر ٹِکا دیا جائے۔ گھڑی کی سوئیاں سٹاسٹ تھیں ۔ اوربائو جی پنڈولم کی طرح متعین جگہ پر ہی جھولتے رہتے۔
تمیز دار بہو نے بائو جی کے بستر کے پاس بیٹھے مہمانوں کو کولڈ ڈرنک سرو کرتے ہوئے کہا: ”کرونا کی وجہ سے ایجڈ لوگوں کو خاص طور پر میل ملاقات سے احتراز کرنا چاہیے لیکن بابا جانی بات سمجھتے ہی نہیں بالکل بچہ بن گئے ہیں“۔
شرمندگی مکھی کی طرح مشروب کے گلاس کے ساتھ چپک گئی تھی۔ بھتیجی گلاس پر نظریں جمائے صُم بُکم  ۔
بائو جی سیل ہاتھوں میں تھامے تصویریں سکرول کرتے رہے۔” یہ دیکھو ہماری شادی کی تصویر۔
بیٹے کا دھرتی پر رکھا پہلا قدم، بیٹی کا رنگوں سے سجا جنم دن۔ تصویروں میں چچی کی جھمکوں اور شرمیلی مسکان کا تال میل تھا۔
بائو جی کی نگاہوں سے مہر کی شعائیں نکل رہی تھیں ۔وہ مہر جس کے لیے چچی اپنی زندگی میں ترستی رہی، اب کسی سالخوردہ زنگی بکس میں سے تہہ در تہہ مصروفیات کے پلندوں تلے دبے کسی گمشدہ پریم پتر کی طرح نکل آئی تھی۔
گلاس میز پر ہی دھرا رہا۔کب بھتیجی گئی، بائو جی کو خبر ہی نہ ہوئی۔
سریلی آوازوں میں گندھے بین بائو جی کے دماغ کو چھید رہے تھے۔
بائو جی نے کمرے سے باہر جھانکا۔ ڈیوٹی پر ایستادہ ملازم تمیز دار بہو کو مطلع کرنے بھاگا۔ تمیز دار بہو کڑک مرغی کی طرح پھولی ہوئی، کٹ کٹا ک کرتی سیڑھیوں پر نمودار ہوئی۔ بائو جی کی خجل نگاہیں چیونٹی کی طرح فرش پر رینگ رہی تھیں۔ سیاہ چپل میں لال کیوٹیکس سے آراستہ پائوں؛ بائو جی کو ایسے لگا جیسے کوئی گدھ پنجے ٹیکتا دھیرے دھیرے نزدیک آرہا ہو۔
”پھر کمرے سے باہر آگئے، خدانخواستہ ٹائلز پر پھسل گئے تو گئے، فریکچر ہو گیا تو مصیبت تو ہمیں پڑے گی نا“۔
”۔۔۔اکیلے جی گھبرایا تو۔۔۔“ بائو جی اٹک اٹک کر بولے۔
لفظوں کی تلوار پھر سے چلنے لگی۔”اب اتنا فارغ کون ہے جو آپ کے پاس بیٹھا رہے“۔
بائو جی! کولہے کی ہڈی ترٹ گئی نا، تے لگ پتا جاسی“۔
چھیلی سی میڈ لفظ جھلار کر بولی۔ دماغ بائو جی کی ایک سننے کو تیار نہ تھا۔ کسی اتھرے گھوڑے کی طرح ہنہناتا زمانے ٹاپ رہا تھا۔
”ماں جی! آپ کا یہاں اکیلے رہنا ٹھیک نہیں۔“روزی روٹی کے پیچھے سرپٹ بائو جی کسی اور شہر میں بس گئے تھے۔
”اِدھر آپ اکیلی ہیں“۔ ماں کے انکار کے ہزار بار سنے لفظ اب بنا بولے ہی سنائی دیتے تھے۔
”اپنا گھر اپنا گھر کیا رٹ لگائی ہے۔ اِدھر آپ اکیلی ہیں لوگوں کی باتین کون سنتا پھرے“۔
اتاولے لفظ اوپر تلے منہ سے نکلتے۔ ماں کے لفظوں میں زندگی بھر کی تھکاوٹ بولتی تھی ”اکیلی کب ہوں“۔۔۔ سارا محلہ میرا اپنا ہے، آن جان لگا رہتا ہے۔ پتر! تمہارے گھر کی دیواروں کے ساتھ مجھ سے نہیں رہا جاتا“۔
”ماں! سمجھتی کیوں نہیں! مجھ سے دو گھروں کے خرچے نہیں اُٹھائے جاتے۔ سو بکھیرے ہیں روز آیا بھی تو نہیں جاتا“۔ ”روز؟۔ دو ماہ بعد تو آئے ہو“۔
انصافی بہو نے میت کے پاس براجمان عورتوں سے کھسرپھسر کرکے انہیں کھانے کے کمرے میں لے جانے واسطے اُٹھایا۔ ”جنازہ مغرب کے بعد ہے آہ و بکا کے لیے ذرا تازہ دم ہو جائیں۔ دم رُخصتی سسکیاں سین بناتی ہیں۔۔۔ فلاں ڈرامے میں۔۔۔؟
انصافی بہو کی سوچ آری کی طرح چیرتی گئی۔ دماغ ذبح ہوتا ہوا بلبلا اُٹھا : ”لخ لعنت! میں مر ا پڑا ہوں، اِدھر سین سیٹ ہو رہے ہیں“۔ خالی مکان میں ہیولے ہوکیں بھرتے پھرتے تھے۔ بادلوں کی گپھائوں میں لپٹا آکاش چمکارتی فلیش لائٹ سے اجڑے مکاں کے کونے کھدرے پل بھر کے لیے روشن کر دیتا۔
جھینپی سی مسکراہٹ چیپی کی طرح چہرے پر جپکاتے منجھلا بیٹا کئی دنوں سے باقاعدگی سے وزٹ کو آرہا تھا۔
بائو جی کو اپنے آرام دہ بستر میں یہ مسکراہٹ کسی نظر نہ آنے والے نوکیلے پتھر کی طرح محسوس ہوتی۔ جھاڑ پونچھ سے بھی یہ چبھن ہٹتی نہ تھی۔
کئی بار پوچھا : ”بیٹا جی! خیریت تو ہے نا؟“ ”سب فائن ہے بائوجی!“ منجھلا گڑ بڑا کر بولتا۔ ایک روز کھیسانی سی ہنسی ہنستے ہوئے منجھلے نے جیب سے کچھ کاغذ نکالے۔ وہ بائو جی کو اس لمحے کسی شکاری کتے کی طرح لگا جو شکار پر حملہ آور ہونے سے پہلے دانت نکال کر لمبی سی گھرررررکی آواز نکالتا ہے۔
کاغذ بائو جی کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولا: ”ذرا سائن کر دیں بعد میں مسئلے بن جاتے ہیں“۔
بائو جی نے کاغذ پیچھے ہٹا کر اپنے دائیں ہاتھ پر بائیاں ہاتھ رکھا، ماتھے پر مزید بَل ڈال کر بولے: ” بعد؟۔۔۔ کیا مطلب!“
دروازہ کھلا تمیز دار بہو کی آنکھیں کاغذ پر لگی تھیں۔ منہ سے مشین گن متواتر فائر کر ہی تھی۔ منجھلا کاغذوں کے ساتھ مسکراہٹ بھی جیب میں رکھ کر رفو چکر ہو گیا۔
تنہائی بگولے کی طرح کمرے میں چکراتی رہی۔ بائو جی کی نظریں ٹینس بال کی طرح دروازے سے ٹکرا کرواپس پلٹتیں۔
ٹی وی سیکرین پر بھورا بندر اپنی اداس آنکھیں مٹکا رہا تھا۔ لاٹھی کے اشاروں پر بندر کی اوٹ پٹانگی دیکھتے ہوئے، بائو جی کے من میں اس کی آنکھوں کی اداسی قطرہ قطرہ گرتی رہی۔ زمستانی بارش کی طرح خنک کرتی ہوئی۔
لاٹھی اپنی صورت بدلتی رہی لیکن بندر کا چہرہ بائو جی کا چہرہ بن کے رہ گیا تھا۔ بائو جی نے بندر کے چہرے میں اپنے نظر آتے عکس سے نگاہیں ہٹانے کے ہزار جتن کیے لیکن عکس تو پتلی پر منجمد تھا۔
انگوٹھے کے دبائو نے آٹو مٹیکلی چینل بدل دیا۔
کلمے کا ورِد مالکوس راگ میں جاری رہا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*