دل کب مانتا ہے

 

ہمیں کہاں رہنا ہے

سارے موسم

کب جینے ہیں

ساری ندیوں اور درختوں سے

کب ملنا ہے

ان بجھتی ہوئی آنکھوں سے

کتنی دنیا دیکھی۔۔۔۔

کتنی دیکھ سکیں گے

لاکھوں کروڑوں برسوں کا

اک ننھا ساحصہ ہے

اپنا جیون یونہی

چار گھڑی کا قصہ ہے

سب سچ ہے۔۔۔ لیکن

دل ایسے ضدی کو

کون منائے

جب وہ ہنس کے کہتا ہے

تم جاؤ صاحب۔۔۔۔

میں تو یہیں رہوں گا

نیلے گگن پہ

بادل بن کے

کھلے سمندر کی لہروں پر بہتے کھیلتے۔۔۔۔

گیت بْنوں گا۔۔۔۔

تم جاؤ

مٹ جاؤ

دھند میں کھو جاؤ

میں یہیں رہوں گا۔

 

 

ماہنامہ سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*