پاکستان سٹیل مل

30جون 1973 کوپاکستان اسٹیل مل سوویت یونین کی جانب سے دوستی کے نام پر پاکستان کو تحفے میں دی گئی تھی، تاکہ یہ ملک معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکے ۔اس کی وجہ سے دو اور بھی فائدے ہونا تھے اول بڑے پمانے پر ورکنگ کلاس کا پیدا ہو نا جو آگے چل کر ایک آزاد خودمختیاراور ڈیموکریٹک پاکستان بنانے میں اہم کردار ادا کرتا۔ دوئم زرعی ملک کو صنعتی طور پر طاقتور بنانا تھا۔
آئیں اس بات کا جائزہ لیں ایسا کیا ہوا کہ اسٹیل مل جیسا شاندار منصوبہ اس ملک کی تقدیر بدلنا تو کیا ،ہزاروں لوگوں کی معاشی حالت کو بدتر کرنے ، بیروزگار کرنے کو ت ±لا ہوا ہے.
پاکستان سٹیل ملز 19 ہزار 500 ایکڑ پر قائم ہے۔ جس کی زمین مختلف دیہاتوں اور برادریوں مثلا جوکھیو، گبول اور کلمتی کے لوگوں سے خریدی گئی تھی۔ سات سالوں کی مسلسل محنت اور 25 ارب کی سرمایہ کاری کے بعد 1984ءسے اس ادارے نے اپنی پیداوار دینا شروع کی۔ سٹیل ملز پر آنے والی لاگت کی رقم ملک میں موجود قومی بینکوں سے بطور قرض حاصل کی گئی تھی۔اس ادارے نے 1984ءسے اپنی پیداوار 11 لاکھ ٹن فولاد پیدا کرنے سے شروع کی اورپانچ سالوں کے اندر ہی پیداوار کو تین گنا بڑھانے یعنی 33 لاکھ ٹن فولاد تیار کرنے کی پیداواری صلاحیت حاصل کی۔ اس سلسلے میں پلانٹ کی پیداوارکو مزید بڑھانے کے لئے مزید بلاسٹ فرنس اور دیگر ضروری مشینری بھی نصب کی گئی۔ اسی کے ساتھ یہاں 165 میگاواٹ بجلی پیداکرنے کا تھرمل پاور پلانٹ بھی نصب کیا گیا تھا۔ جیسے ہی یہ پلانٹ چلایا جاتا تو اس سے خارج ہونے والی ہیوی گیسز جوکہ کوک اوون اور سٹیل بنانے کے پیداواری مراحل میں پیداہوتی ہے، انہیں پاور پلانٹ میں منتقل کرکے سستی بجلی پیدا کی جاتی تھی۔ جب ادارے میں 100 فیصد پیداواری عمل جاری تھا تو چار ہزار گھروں پر مشتمل رہائشی کالونی’اسٹل ٹاو ¿ن‘اور تین ہزار سے زائد گھروں پر مشتمل ’گلشن حدید فیز 1‘سمیت ڈاو ¿ن سٹریم انڈسٹریز کی بجلی کی ضروریات ان پاور پلانٹس کے ذریعے پوری کی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (KESC) کو گزشتہ کئی سالوں تک بجلی فروخت بھی کی جاتی رہی۔ اسی طرح یہاں کام کرنے والے آکسیجن گیس کا پلانٹ جوکہ تقریبا 15 سے 20 ہزار کیوبک فٹ آکسیجن پیدا کرتا تھا۔ اس کے ذریعے فرنس پلانٹ کی ضرورتیں پوری کرنے کے بعد ہزاروں کیوبک گیس کی بچت کی جاتی جسے بعد میں آکسیجن سلنڈرز کی شکل میں کراچی کے تمام سرکاری ہسپتالوں کو مفت فراہم کردیا جاتا تھا۔ یہی نہیں بلکہ یہاں واحد (Liquid Gas) بھی تیار کی جاتی تھی۔ اس سٹیل ملز میں 110 ملین گیلن پانی ذخیرہ کرنے والا فلٹر پلانٹ بھی موجود ہے۔ جوکہ پچاس کلومیٹر کی پائپ لائن کے ذریعے کینجھر جھیل سے پانی حاصل کرتا ہے۔ اس کا فلٹر کیا گیا پانی پلانٹ کے ساتھ رہائشی کالونی اور پرائیویٹ ڈاو ¿ن سٹریم انڈسٹریز کو بھی فراہم کیا جاتا تھا۔ سٹیل ملز کی چار ہزار ایکڑ زمین کو مکمل انفراسٹریکچر کے ساتھ نیشنل انڈسٹریل پارک کے حوالے کیا گیا، جہاں دیگر نجی شعبوں کی سٹیل فیکٹریوں کے ساتھ ساتھ کار مینوفیکچرنگ کے ادارے ’پاک سوزوکی‘اور ’یاماہا موٹرز‘ودیگر ادارے قائم ہیں۔ اسی کے ساتھ یہاں ایک بہت بڑا ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی ہے، جس میں 850 بڑی گاڑیوں سمیت 200 کے قریب ہیووی لوڈنگ والے ڈمپر اور ڈوزر شامل ہیں۔ان گاڑیوں کی مرمت کرنے کے لیے ورکشاپس بھی موجود ہیں جہاں ماہر مکینک اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایک ریلوے ڈیپارٹمنٹ بھی ہے جس میں 15 ریلوے انجن موجود ہیں۔
پاکستان سٹیل مل کی طرف سے ملک سے باہر کچا لوہا درآمد کرنے کے لئے پورٹ قاسم سے جہازوں سے سیدھا ملز کے اندر لانے کے لئے ایک جیٹی بھی موجود ہے، جہاں بحری جہازوں سے خام مال بنا کسی ٹرانسپورٹ کے اپنے کنویئر بیلٹ کے ذریعے اتارا جاتا ہے۔ یہ بیلٹ سات کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ پلانٹ میں سٹیل فولاد بننے کے بعد جو سکریپ اور بائے پراڈکٹ بچتا، وہ ملک کی دیگر فیکٹریز کو بیچا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ ایسے بائے پراڈکٹ اس سٹیل ملز کے علاوہ ملک کی کسی دوسری جگہ موجود نہیں ہے۔سٹیل ملز کا اپنا ایک میٹالرجیکل ٹریننگ سینٹر (MTC) بھی ہے جہاں تربیت کے ذریعے لاکھوں ہنرمند تیار کیے گئے ہیں۔ جوآج دنیا کے مختلف ملکوں کے اندر سٹیل کے کارخانوں میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ ملک کا ایسا سب سے بڑا صنعتی منصوبہ ہے، جس سے فولاد کے علاو ہ دیگر مختلف صنعتیں بھی منسلک ہیں۔ ان تمام تر وسائل کے ہونے کے باوجود بھی اس ادارے کو ترقی دینے کے بجائے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اسے تباہ و برباد کرنے کے جتن شروع کئے جا چکے ہیں۔ سٹیل ملز کراچی 1984 سے پیداوار شروع کرنے سے لے کر 2007تک ملکی بنکوں سے لیا گیا، قرض ’25 ارب روپے‘واپس کرنے کے ساتھ ساتھ 114 ارب روپے ٹیکسوں کی صورت میں بھی وفاقی حکومت کو بھی ادا کرچکی ہے۔ 2006 میں فوجی آمر مشرف کی طرف سے نجکاری کی پالیسی کے تحت اس سٹیل ملز کو ردی کے برابر انتہائی سستے داموں یعنی 21 ارب اور 65 کروڑ میں فروخت کرنے کی کوشش کی گئی۔ حالانکہ اس کی 19 ہزار500 ایکڑ کی قیمتی زمین جس کی ا ±س وقت کی مارکیٹ ویلیو 250 ارب روپے تھی اور گیارہ ارب روپے کی نئی تیار شدہ مصنوعات (Inventory) بھی موجود تھیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ سٹیل مل ا ±س وقت چار ارب روپے سالانہ منافع کمارہی تھی او ر ٹیکسزالگ سے جمع کروا رہی تھی۔ اس وقت سٹیل ملز کے فولادی محنت کشوں کی جدوجہد کی وجہ سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے مداخلت کر کے سٹیل ملز کی نجکاری کو کالعدم قرار دیا۔
نجکاری کے وار میں پسپائی اختیار کرنے کے بعد حکمرانوں نے اس منافع بخش ادارے کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اسی کے ساتھ نجکاری کے ذریعے اس قیمتی ادارے کو بیچنے کی سازشیں جاری رہیں۔ 2011ءمیں اس کے ک ±ل اثاثوں کا تخمینہ 1200 ارب روپے لگایا گیا تھا جبکہ ادارے کے پروویڈنٹ فنڈ اور گریجویٹی کی مد میں 38 ارب روپے بھی موجود تھے مگر وہ اچانک غائب کردیئے گئے۔ ایک سال کے اندر ملازموں کی تنخواہوں کی ادائیگیوں اور ریٹائرڈ ملازموں کو بقایاجات کی ادائیگی اچانک رک گئی۔ آخر کار تمام تر سازشیں ا ±س وقت اپنے منتطقی انجام کو پہنچیں، جب 10 جون 2015 سے سٹیل ملز کی پیداوار بنا کسی جواز کے بند کردی گئی۔ جس سے نہ صرف ادارے کے 13 ہزار مستقل ملزموں کی ملازمتیں داو ¿ پر لگ گئیں بلکہ سٹیل ملز کے ادارے سے منسلک دیگر شعبوں کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مزدوروں کے پیٹ پر بھی لات ماری گئی۔ یاد رکھا جائے کہ1990اور 1991میں یہاں پیداوار کے عروج کے دنوں میں سٹیل ملز میں 24 ہزار ملازم روزگار سے منسلک تھے، پھر آہستہ آہستہ مختلف سازشوں کے تحت محنت کشوں کو نوکریوں سے فارغ کرنا شروع کردیا گیا۔
یہاں یہ غور طلب ہے کہ جب سٹیل ملز کی پیداوار اپنے عروج کی طرف بڑھنے لگی تو 1988میں میجر جنرل شجاعت بخاری کو سٹیل ملز کا چیئر مین مقرر کیا گیا۔ جس کے بعد 1990میں ا ±س کی جگہ لیفٹننٹ جنرل صبیح الزمان،1997سے 1999تک میجر جنرل سکندر حیات،1999 سے 2004 تک لیفٹنٹ کرنل (ریٹائرڈ) محمد افضل، 2004سے 2006تک لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عبدالقیوم ،2006 سے 2008 تک اور 2010 سے 2014 تک میجر جنرل محمد جاوید کو چیئرمین مقرر کیا گیا۔ 2014 سے 2015 تک میجر جنرل ظہیر احسان اور اس وقت بریگیڈیئرریٹائرڈ سید شجاع چیئرمین مقرر ہیں ۔
آج 2020 میں کورونا وبا کا بہانہ بنا کر 9 ہزار سے زائد ملازمین کوجبری بر طرف کرنے اور ادارے کی ایک بار پھر نجکاری کرنے کی کوششیں شروع کردی گئیں۔ 27 نومبر کو اچانک غیر قانونی طور پر 4544 ملازمین کو ڈاک کے ذریعے ا ±ن کی ملازمتوں سے برطرف کئے جانے کے لیٹرز ارسال کیے گئے۔ جبکہ باقی چار ہزار ملازمین کی برطرفیوں کے آرڈر بھی تیارکئے جاچکے ہیں جنہیں انتظامیہ سٹیل ملز کی جانب سے لیبر کورٹ سندھ کی منظوری کے بعد کسی بھی وقت جاری کئے جاسکتے ہیں۔
یہاں چند مزید حقائق بیان کرنا بھی ضروری ہیں۔ سوویت یونین کی طرف سے پاکستان کے ساتھ دیگر کئی ممالک کو ایسی سٹیل ملز فراہم کی گئیں جن میں بھارت کو دو اور ایران، ترکی اور مصر میں ایک سٹیل ملز لگائی گئی۔ ان ممالک میں یہ سٹیل ملز آج تک پیداوار کر رہی ہیں اور منصوبہ بندی کے تحت ا ±ن کے پیداواری عمل میں توسیع بھی کی گئی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جب ہمارے یہاں سٹیل ملز ابھی شروع ہی ہوئی تھی کہ اس کو ناکام کرنے کی سازشیں شروع ہوگئیں۔ یہاں ایک اور بات پر توجہ کی دی جائے کہ اس سٹیل ملز میں استعمال ہونے والا کچا لوہا آسٹریا اور ہنگری سے درآمد کیا جاتا ہے،جس کے خالص لوہے کی شرح 52 فیصد ہے۔ جبکہ تھر سندھ سے کچے لوہے کی پیوریفیکیشن کی شرح 58 سے 64 فیصد تک ہے۔ بلوچستان کی خالصیت کی شرح 52 فیصد ہے۔ یہ سب کچھ ہونے کے باجود ملکی وسائل استعمال نہیں کیے گئے۔ اگر یہ سب استعمال کیے جاتے تو اربوں ڈالر کے زرمبادلہ بچائے جاسکتے تھے۔ ان تمام حقیقتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بیان کیا جاسکتا ہے کہ آخر سٹیل مل کے برباد ہونے میں کون ’حضرات‘ملوث تھے اورہیں!
آج اس ملز کی پیداوار کو بند کرنے کے بعد لوہے کی ملکی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ہر سال غیر ملکی کمپنیوں سے 75سے 80 لاکھ ٹن فولاد درآمد کیا جارہا ہے۔ یعنی چار ارب ڈالر سالانہ اس کی درآمد پر خرچ کئے جاتے ہیں۔ اگر حکمران اپنی انفرادی حوس کو ایک طرف رکھ کر ملکی مفاد میں سوچتے تو یہ چار ارب ڈالر سالانہ زرمبادلہ بچاسکتے تھے۔ مگرپھر بھی حکمرانوں کی آنکھیں بند رہیں۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو اس ادارے کو بیچنے سے ریاست ِپاکستان خود کنگال ہوجائے گی۔ اسی لئے اس ادارے کو چلانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*