دوستی ختم نہیں ہو سکتی

 

دوستی حُبّ خدا ہوتی ہے
دوستی دستِ دعا ہوتی ہے
دوستی صرف وفا ہوتی ہے
دوستی سب سے جُدا ہوتی ہے
دوستی کر کے بُھلانا مشکل
دوستی کر کے نبھانا مشکل
دوستی سارے زمانے سے کہاں
دوستی ہاتھ ملانے سے کہاں
دوستی صرف جَتانے سے کہاں
یہ تو روحوں کا مِلن ہوتی ہے
یہ تو خوشبوئے چمن ہوتی ہے
اپنی ہی دُھن میں مگن ہوتی ہے
یہ تو بس ایک لگن ہوتی ہے
دوستی ملکوں کی جاگیر نہیں
سرحدوں میں جو بَٹے رہتے ہیں
ساتھ رہ کر بھی کَٹے رہتے ہیں
دوستی دوستو، کیا ہوتی ہے ؟
دوستی حق کی عطا ہوتی ہے
دوستی خوشبو، ہوا ہوتی ہے
دوستی حد سے سِوا ہوتی ہے
دوستی، دوست اگر رکھتے ہیں
دور رہ کر بھی خبر رکھتے ہیں
دوست جینے کا ہُنر رکھتے ہیں
دوستی چاند ستاروں کی طرح
دوستی دل کے سہاروں کی طرح
دوستی درد کے ماروں کی طرح
دوستی جھیل کناروں کی طرح
جو جُدا ہو کے بسر کرتے ہیں
عمر بھر ساتھ سفر کرتے ہیں
دوستی سُود و زیاں سے بڑھ کر
دوستی فہم و گماں سے بڑھ کر
دوستی ہے دل و جاں سے بڑھ کر
دوستی سارے جہاں سے بڑھ کر
دور رہ کر بھی کوئی پاس لگے
دوستی جینے کا احساس لگے
دوستی ختم نہیں ہو سکتی!
دوستی ختم بھی کیسے ہوگی ؟
دوستی دل کی رضامندی ہے
دوستی وَصفِ خداوندی ہے
وہ خداوند مِرا ربّ جہاں !
جس نے عالم کو سجا رکھا ہے
وہ خداوند اکیلا ہے مگر !
اُس نے بھی "دوست” بنا رکّھا ہے
دوستی ختم نہیں ہو سکتی!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*