ماہانہ محفوظ شدہ تحاریر : جنوری 2021

کتاب کا مالی، منصور بخاری

  ضیاء الحق کا مارشل لا تھا۔ سخت پابندیاں تھیں۔ جلسہ جلوس، تقریر تحریر، اورتنظیم سیاست سب ضیا کے بوٹوں تلے۔ سارے سیاسی کارکن جیلوں میں۔ کوڑے سرِ عام مارے جارہے تھے۔اخبارات پہ بدترین سنسر شپ جاری تھا۔ ہر روز اخبار پہلے حاکم کو دکھایا جاتا، منظوری ہوتی تو ہی ...

مزید پڑھیں »

چیخوف کا سوانحی خاکہ

29 جنوری 1860 غربت زدہ گھرانے میں چیخوف کی پیدائش ۔۔۔ دادا کھیت مزدور ، باپ اشیائے خوردونوش فروش ۔ ماں مہربان ، باپ سخت گیر ۔ چیخوف کی 1879میں ماسکو منتقلی ۔۔ 1884 میں میڈیکل ڈاکٹر کی ڈگری ۔۔۔۔ اور پھر قلمی شغل ، افسانہ ، ڈرامے ، صحافت ...

مزید پڑھیں »

بُوہڑ

  ڈاکٹر شاھ محمد مری نانویں ڈاکٹر کاکا ! بَہوں پھیریں تَرسلے وِچوں وَلدا مُونجھے تھی ویندے ھئیں جِیویں جو کوئی سَانجھے ڈُکھ ھِن جِیویں جو کوئی سُکدے رُکھ ھُن وَل وی دنیا سَاڈے کِیتے کِھیڈ تَماشا تاں نئیں اَساں اِینکوں اپݨا جََاݨ کیں بہوں مُحبتاں نال وسایا اے بَندے ...

مزید پڑھیں »

بندوق اور بانسری برداروں کا سبطِ حسن

  کوئٹہ سے 100 کلومیٹر دور مسلم باغ میں ایک نائی ہے۔ اسے سبطِ حسن 16 فروری 1986ء کو خط میں لکھ رہا تھا کہ:’جہاں تک مذہبی عقائد کا سوال ہے تو آپ ان بحثوں میں نہ پڑا کریں۔ ملک کا اصل مسئلہ اقتصادی اور سیاسی ہے اور جو طبقے ...

مزید پڑھیں »

آنے والا کل

  ”ایک بھی آواز نہیں ………… بچے کو کیا ہوا؟“ زرد شراب کا پیالہ ہاتھ میں لیے سرخ ناک والے کُنگ نے یہ کہتے ہوئے اگلے گھر کی طرف سر کو جھٹکا دیا۔ نیلی کھا ل و ا لے آ ہ و و نے اپنا پیالہ نیچے رکھا اور د ...

مزید پڑھیں »

"تانبے کی عورت” سے کچھ اشعار ……………

ہتھوڑے کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن جچے کیوں نہیں اور تانبے کی عورت تپی، تمتائی، مگر مسکرائی، جمی ہی رہی کیوں پگھل نہ سکی پاؤں جلتے رہے، وہ کڑی دھوپ میں بھی کھڑی ہی رہی اس کے آنے تلک لوٹ جانے تلک نہیں اس کو سچ مچ کسی بات ...

مزید پڑھیں »

گھوم چر خڑا گھوم

  جابجا رسیوں سے مضبوطی سے گانٹھ دی گئی۔ بدرنگی چپلوں میں گرد میں اٹے، کٹے پھٹے پیر سائیکل کے پیڈل پر دائرے میں گھوم رہے تھے۔ پہیوں سے اٹھتی دھول میں بگولے سے بنتے تھے۔ رمجو کو سائیکل آگے دھکیلنے کے لیے اپنے پیروں پر پورے تن کا زور ...

مزید پڑھیں »

کامریڈ ملک محمدعلی بھارا (مرحوم)

  ملتان اور گردونواح میں جس نسل کے اذہان پر 1960ء اور 1970ء کی دہائیوں میں عصری شعور نے دستک دی ان میں سے شاید ہی کوئی ہو جو کامریڈ ملک محمدعلی بھارا کے نام اور جدوجہد سے واقف نہ ہو۔ ایک سچے اُجلے زمین زادے اور ترقی پسند شعور ...

مزید پڑھیں »

مست تئوکلی

  کبھی سمّو کی خواب آلود آنکھوں سے گری تھی جو تجلی تیرے سینے پر اگر وہ طور پر گرتی تو جل کر راکھ ہوجاتا وہ کیسا حسن آفاقی تھا جس تمثیل کی خاطر نجانے کیسے کیسے حسنِ فطرت کے فسوں انگریز نقشے کھینچتا تھا تُو تری رمز آشنا آنکھوں ...

مزید پڑھیں »