ماہانہ محفوظ شدہ تحاریر : دسمبر 2020

ہفت روزہ عوامی جمہوریت

17جون1972کے عوامی جمہوریت میں پاکستان سوشلسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی( منعقدہ 11جون) کی ایک قرار داد پر پورا جہازی صفحہ وقف کیا گیا ۔ یہ قرار داد بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے حق میں تھی ۔ اُس زمانے میں جس معاملے پر کشت وخون والا مباحثہ چل رہا تھا، ...

مزید پڑھیں »

1903 کی روسی پارٹی کانگریس

تاریخی طور پر یہ بات درست ہے کہ روسی کمیونسٹ(سوشل ڈیموکریٹک )پارٹی کی پہلی کانگریس 1898میں ہوچکی تھی۔ اور اُس میں پارٹی کے قیام کا اعلان بھی ہوچکا تھا ۔لیکن حقیقی معنوں کی پارٹی ابھی تک وجود میں نہیں آئی تھی۔ اس لیے کہ اب تک نہ تو پارٹی کا ...

مزید پڑھیں »

غزل

  ہجرِمْدام، بحرِہمیشہ سے پْھوٹ کر اِس دشتِ نامراد سے لپٹا ہے ٹْوٹ کر جانے اْداسیوں کو سمیٹے کدھر گئی بادِشمال، غم کے پرِستاں کو لْوٹ کر میں لاوْجودیت میں گِری ہوں بطورِ حرف اپنے کوی کے مہرباں ہاتھوں سے چْھوٹ کر اے تا ابد غریقِ سفر روشنی کی رَو ...

مزید پڑھیں »

کبیرداس اور بھگتی تحریک

شمالی ہندوستان کی طرف بہار اور بنگال تک بڑی تعداد میں جولاہوں کی بستیان آباد تھیں، جن کا کام کپڑا بننا اوررنگنا تھا ۔ یہ غریب محنتی لوگ تھے جن کی کوئی سماجی حیثیت نہیں تھی بلکہ انہیں نیچ سمجھاجاتا تھا۔بارہویں صدی میں ترک سامراج نے سر اٹھایااور پرتھوی راج ...

مزید پڑھیں »

*

  یار و! بس اتناکرم کرنا پسِ مرگ نہ مجھ پہ ستم کرنا مجھے کوئی سندنہ عطا کرنا دیند اری کی مت کہنا جو شِ خطا بت میں دراصل یہ عورت مومن تھی مت اُٹھنا ثابت کرنے کوملک وملت سے وفاداری مت کوشش کرنااپنالیں حکام کم ازکم نعش مری یا ...

مزید پڑھیں »

خَلِش

آنکھیں تو پاگل ہیں در بدر بھٹکتی رہتی ہیں لا حاصل کی تمنا میں لمبی سرد راتوں میں نہیں ہے کوئی چنگاری پھر بھی امید کی کھڑکی تو روز و شب ہی کُھلتی ہے ڈاک کا انتظار رہتا ہے کوئی نامہ، دو لفظ ہی شاید بس اِک جُمؤد ہے دِل ...

مزید پڑھیں »

تم بالکل ہم جیسے نکلے

  ( ہنوستانی رائٹسٹ پالیسیوں کے خلاف یہ زوردار نظم اس بہادر دانشور نے ہندوستان میں لکھی تھی اور وہیں سنائی تھی ) اب تک کہاں چھپے تھے بھائی وہ مْورکھتا، وہ گھامڑ پن جس میں ہم نے صدی گنوائی آخر پہنچی دوار تمہارے ارے بدھائی، بہت بدھائی پریت دھرم ...

مزید پڑھیں »

اس شہر میں

  اس شہر میں، میں اجنبی یوں تو نہ تھی میرے خدا اس کی زمیں ،اس کے فلک ، اس کی ہوا کو کیا ہوا؟ پہچان میں آتا نہیں، پہچان بھی پاتا نہیں مجھ کو کوئی بدلا ہوا سارا آسماں بے روشنی اتنی مگر کچھ بھی نظر آتا نہیں گھر ...

مزید پڑھیں »

ہمر کاب

  اس گھڑی کو سلام!۔ تجھ سے جو جوڑتی ہے ہمیں!۔ شعر کی اس کڑی کو سلام!۔ اشک پیتے ہوئے ، گنگناتے ہوئے زخم کھاتے ہوئے مسکراتے ہوئے کچھ سنبھتے ہوئے لڑکھڑا تے ہوئے پیش پا قافلے!۔ ہم ترے ہمر کاب  

مزید پڑھیں »

اُمید ۔۔۔ (نادِژدا کروپسکایا)

  کروپسکایا کا مستقبل کا جیون ساتھی دور دراز سمارا ؔکے علاقے میں رہتا تھا۔ اس سنجیدہ انقلابی نے تیئیس سال کی عمر میں (1893 میں)سمارا چھوڑا، اور سینٹ پیٹرز برگ چلا آیا۔اور، یہی وہ عمر اور یہی وہ سفر تھا جس میں اُس نے ایک نئی حیات جینی تھی،دنیا ...

مزید پڑھیں »