*

یہ حُسن کم نہیں ہے جہاں کے کفیل کا
کاسہ بھرا ہوا ہے یہاں ہر بخیل کا

زندہ رہیں سدا مرے یارانِ باوفا
احسان کیوں اٹھاؤں کسی بھی ذلیل کا

ہم بھی سمٹ کے رہ گئے ہجراں کی قید میں
کچھ قد بھی اور بڑھ گیا شب کی فصیل کا

اس کے بیاں کو چاہیے اک اُخروی حیات
ہر سانحہ عظیم ہے عمرِ قلیل کا

محشر میں جب خدا یہ کہے گا کہ کچھ کہو
میں اک کلام چھیڑوں گا بحرِ طویل کا

جوہر مرا کیے ہے پریشاں مجھے یہاں
یہ دشتِ خاکداں نہیں میری قبیل کا

مجھ کو گرائے گا یہ زمانہ، ارے نہیں
میں فرش پر ستون ہوں عرشِ جلیل کا

آتش ذرا سی مانگیے سوزِ کلیم سے
جذبہ تلاش کیجیے قلبِ خلیل کا

اسفر کہی سُنی پہ کروں اعتماد کیوں
قائل ہوں اعتقاد میں عقلی دلیل کا

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*