بارش ، خواب اور سمندر

میں نے خواب میں دیکھا، سمندر میرے کمرے میں داخل ہو گیا ہے اور میں مچھلیوں کے بیچ انہی کی طرح تیر رہی ہوں۔ کیا میں واقعی مچھلی بن گئی ہوں؟ ۔مگر مچھلیاں تو مجھ سے منہ موڑ کر اپنی راہ پر چلی جا رہی ہیں، انہیں میرے ہونے کا کوئی احساس نہیں۔ میں سمندر میں ہوں اور تنہا ہوں۔ باقی گھر والے کہاں ہیں۔ یہ خیال آتے ہی میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے جلدی سے چاروں طرف نظر ڈالی۔ میں تو اپنے بستر پر ، اپنے کمرے میں ہوں۔ پھر میں باہر آگئی کمرے سے دوسرے کمروں میں جھانکا تو سب وہاں موجود تھے۔ رات بارش ہوتی رہی ہے۔ لان بارش سے دھل کر زیادہ شاداب نظر آرہا ہے۔ آسمان پر گہرے بادل ہیں۔ پانی گرنے کی آواز جلترنگ بجا رہی ہے۔ مجھے ہمیشہ پانی کی آواز اچھی لگتی ہے۔ خواہ وہ بارش کی ہو یا سمندر کی لہروں کی۔ میں نے گھر اسی لیے سمندر سے قریب بنایا ہے۔ میرے شوہر اس کے حق میں نہیں تھے۔ ان کا خیال ہے کہ سمندر کی ہوا گھر کی چیزوں کو زنگ آلود کرنے کے ساتھ ہماری ہڈیوں کو بھی نقصان پہنچائے گی۔انہوں نے کہا تھا کہ” سمندری ہوا صحت کیلئے بالکل اچھی نہیں ہوتی “۔مگر میں تو پانی کے قریب رہنا چاہتی ہوں جب چاہوں اس کی لہروں میں اتر جاﺅں، ان سے باتیں کروں۔ لہروں کی بے کرانی کو اپنے اندر سمیٹ کر مطمئن ہو جاﺅں۔ ان لہروں سے میرا کوئی پرانا رشتہ ہے۔ ماں کی ممتا جیسا تھپکیاں دیتا ہوا، ان کی آواز میرے لیے لوری ہے ۔ میرے اشتیاق کو دیکھتے ہوئے گھر بنا لیا گیا، سجا بھی لیا گیا۔ دوسری منزل کی کھڑکیاں ایسے رکھی گئیں کہ سمندر سامنے نظر آتا ہے۔ مجھے اکثر یوں لگتا کہ میں گھر میں نہیں ایکوریم میں ہوں۔ اب خواب میں سمندر کے پانی کو ایکوریم میں دیکھ کرکیوں پریشان ہو گئیں۔ میں نے باہر جھانکا۔ یہ کیا سمندر واقعی آگے بڑھتا ہوا میرے قریب آگیا تھا۔ سڑکیں کہیں نہیں تھیں، بس پانی ہی پانی تھا۔ بارش اور بادل کے دھندلکوں میں کچھ اور نظر نہیں آرہا تھا، صرف پانی تھا۔ آسمان سے گرتا ہوا، زمین پر بہتا ہوا، تیزی سے آگے بڑھتا ہوا، سڑک اور تمام حدوں کو پار کرتا ، گھر کی دہلیز تک آپہنچا تھا۔ دروازہ چونکہ اونچائی پر تھا اس لیے وہاں سے داخل تو نہیں ہوا مگر لان پانی میں ڈوبا ہوا تھا اور شاید باہر کے پانی نے اس کا راستہ روک دیا تھا۔ دیکھتے دیکھتے لان میں پانی لہریں لینے لگا ، میں نے گھبرا کر شوہر کو آواز دی۔ بارش کا ایک جھونکا آیا۔ ورانڈے میں پوری بوچھاڑ چھوڑ گیا، اپنے کمرے سے نکلتے ہوئے میرے شوہر نے دیکھا ۔ ٹیرس میں پانی کا سیلاب تھا جو کسی وقت بھی گھر میں داخل ہو سکتا تھا۔ ہم نے جلدی سے وائپر ، جھاڑو جو کچھ بھی ملا اٹھا کر پانی کو باہر دھکیلنا شروع کیا۔ برستے اور گرتے پانی نے لان کو دریا میں تبدیل کر دیا تھا اور اب پانی دہلیز کو پار کر نے کی حدوں میں داخل ہو گیا تھا۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا، موسلا دھار بارش کے رکنے کے آثار نہیں تھے۔ ہم بری طرح پانی میں گھر چکے تھے۔
اس وقت مجھے ملازمہ کی آواز آئی۔
بیگم صاحبہ ۔ پانی آپ کی کتابوں کے کمرے میں بھر گیا ہے۔
میں نے دیکھا میری لائبریری جہاں عمر بھر کی جمع کی ہوئی کتابیں رکھی تھیں، اس میں پانی بھرتا چلا جا رہا تھا۔
یہ کمرہ نسبتاً نشیبی جگہ پر تہ خانہ تو نہیں مگر تہ خانے جیسا تھا۔ گیراج سے ملحق ۔ اس کمرے کو میں نے باقاعدہ ایکوریم جیسا بنوایا تھا۔ یہاں بیٹھ کر لکھتے ، پڑھتے وقت میںچقیں ہٹا دیتی تھی۔لان کے پیڑ اور سمندر کی آواز مجھے اس ماحول میں لے جاتی جہاں میں رہنا چاہتی تھی۔ مگر ہم نے اسی ماحول کو اپنا دشمن بنا لیا تھا۔ اس کے حسن سے لطف اندوز ہونے کے بجائے اپنی آسائشوں کو ترجیح دی۔ یہ بھول گئے کہ اس ماحول کو ہماری قربت نے ستایا ہے۔ ہم نے سمندر میں دراندازی کی، ہم نے ساحلوں کو سبزے سے خالی کر دیا، ہم جہاں پر بستے وہاں کنکریٹ کا جنگل اگا دیا اور ان میں وہ پیڑ بھی لگائے جو ماحول کو راس نہیں۔ یقینا سمندر کی آواز میں شکوہ ہو گا ، اس کی لہروں میں غصہ ہو گا جو ہم نے سنا نہیں، دیکھا نہیں۔ ہم تو خودغرضی سے شیشے کے مکان سے اس کا نظارہ کرتے رہے ہیں۔ اطراف میں آسائش مہیا کرنے والے بازاراور تفریح گاہیں ، خود روجھاڑیوں کی طرح اگتی رہیں۔ پھیلتی رہیں، آکاس بیل کی طرح سبزے کو چاٹتی رہی۔ ہم درختوں کی جگہ آرائشی پودے، کھڑکی پر رکھ کر مصنوعی سجاوٹوں سے خوش ہوتے رہے ہیں۔
میں تو پڑھنے لکھنے والی تھی، میں نے ذہن کے دریچے کیوں بند کر دیے۔ کاش میں اپنی کتابوں کو بچانے کی تدبیر ہی سوچ لیتی ۔میں نے تو آنے والی نسلوں کے لیے بھی نہیں سوچا۔ اب جب دریا ئے فنادہلیز تک آگیا ہے تو خاک ہو جانا ہمارا مقدر بن گیا ۔ منیر نیازی کا شعر اچانک ذہن میں آگیا
ایک دریائے فنا ہے اس کی ہستی اے منیر
خاک اڑتی ہے وہاں پر جس جگہ بہتا ہے وہ
وہ کون ہے جس ہستی کے لیے منیر نے لکھا ہے؟ شاید ہم میں سے ہر ایک ہے۔ ہم اپنی بقا ءاور فنا کی تدبیر ساتھ لیے فنا کی جانب بڑھ گئے ہیں۔
میں نے آسمان کی طرف دیکھا، دل سے دعا نکلی۔ کاش ! یہ بارش تھم جائے لیکن اس کے رکنے کے کوئی آثار نہیں تھے۔ پانی کتابوں کی الماری میں داخل ہو گیا تھا۔ شاید میں کچھ کتابیں بچانے میں کامیاب ہو جاﺅں۔ میں نے شوہر کو مدد کے لیے آواز دی۔
وہ لاﺅنج میں داخل ہونے والے پانی کو روکنے کی کوشش میں تھے۔
”میں نے ہزار بار کہا تھا کہ ہمارا گھر سمندر سے دور ہونا چاہئے مگر تم نے ایک نہ سنی، اب بھگتو اس تباہی کو“
آگے بپھرا ہوا سمندر تھا اور پیچھے خفا شوہر۔۔۔وہ سخت غصے میں تھے ۔
میں نے مڑ کر سمندر کو دیکھا، کاش میں مچھلی ہوتی، میں نے رشک سے مچھلیوں کو آزادی سے پانی میں تیرتے دیکھا اور ایک لمحے میں خود پانی میں اتر گئی کتابوں کو پکڑنے کے لیے۔”پاگل ہوئی ہو“ کی آواز کے ساتھ میرے شوہر نے مجھے کاندھے سے پکڑ کے کھینچ لیا۔
”آﺅ دیکھتے ہیں! ہم کیا کر سکتے ہیں؟“

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*