جوآں نہ یاں جنگانی بدیں بولی

 

مفکر کوہ سیلمان حضرت مست آج سے دو صدی قبل یہ کہ چکےہیں کہ جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہے یہ صرف انسانوں کے قتل عام کرنے اور اپنےدوستوں اور ساتھیوں کو کھو دینے کا نام ہے ۔ یہ انا اور ضد کے بیچ انسان کو پیسنے والا ایک طریقہ کار ہے جو ہمیشہ بربادی اور تاریکی لے آتی ہے۔ یہ انسان کو پاہچ بنا دیتی ہے ، یہ معصوم بچوں کو یتیم اور ناتواں بنا دیتا ہے ، یہ آپس کی دشمنی کو طول دے کر بھائی کو بھائی کے خلاف کھڑا کر دیتاہے ۔ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ، ہتھیار انسانیت کےلیے زوال کا باعث بنتا ہے ۔ کم از کم بلوچوں کو مست کے اس فقرے کو عملی جامعہ پہنانا چاہیے، کیونکہ بلوچ کو جنگ سے نفرت رہی ، اس نے جو بھی جنگ لڑی یا تو اس پر تھوپی گئی یا پھر اس نے اپنی حفاظت کےلیے جنگ لڑی ۔
مکار گورے نے ایسے قانون تعارف کروائے جن کا الٹیمیٹ اور فائنل فیصلہ جنگ پر ہی اختتام پذیر ہوتاہے ۔ مثلاَ ذمینی تقسیم کا قوانین ، اور ان پر خانہ جنگی رائج کرنا ۔ لیکن ہم بھی انتہائی سادہ نکلے اس کالے قانون کو بدلنے کی بجائے ہم نے من وعن اس قانون کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اس قانون کے تحت ایک دوسرے کو مارنے کا سلسلہ جاری رکھا، جس سے کئی خاندان اجرگئے۔ خاندان میں جھگڑے اور پھر وہی جھگڑے قبیلوں تک پھیل کر کشت وخون کرنے کا باعث بنے
ہمارے قبائلی روایات اور فیصلے کو نیورٹرلائز کرنے کےلیے عدالتی نظام تعارف کروایا گیا جو کہ صرف امیر اور متوسط طبقے کو ہی انصاف فراہم کر سکتاہے ، عدالتی فیصلے نہ صرف بہت زیادہ وقت لیتے ہیں بلکہ ان پر پیسہ بھی بے دریغ استعمال ہوتاہے پھر بھی فریقین ان فیصلوں سے خوش دکھائی نہیں دیتے ۔
اسی طرح پولیس ایکٹ، جس میں پولیس کو اختیارات دی گئی ، ان اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے پولیس آئے روز عام شہریوں کا بے دریغ استحصال کرتاہے ، جعلی پولیس مقابلوں میں نہتے لوگوں کو مارا جاتا ہے اور سیاسی مداخلت کی وجہ سے غریب عوام کو کبھی ان وردی والوں سے انصاف کی توقع نہیں رہتی ۔
یہ سب وہ کالے قانون ہیں جو انگریز نے متعارف کروا کر یہاں کے لوگوں کو اپنا غلام بنائے رکھا۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ ستر سال گزرنے کے باوجود ہم ایک بھی لیجسلیشن نہ کر سکے ۔ نہ ہیلتھ نہ تعلیم اورنہ لا انفورسمنٹ میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی ممکن ہو سکا۔ سو آنکھیں بند ، کانوں سے بہرے ہم عوام بے بسی کی تصویر بن چکے ہیں ۔
ذرا!حالیہ مانجھیانی و میرخانی مسائل کی طرف دیکھ کر اس جنگ کا انالائسز کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، بظاہر یہ جنگ ایک چراہ گاہ کے مسئلہ پر کھڑا ہوا ، مانجھیانی قبیلے کے دونوجوان اس جنگ میں جان کی بازی ہار چکے ہیں اور متعدد زخمی ہوئے۔ دراصل ایک بڑا ظلم ہمارے لوگ یہ کرتے ہیں کہ خاندانی مسائل کو ہم قبائل کی جنگ قرار دے کر اس کو طول دیتے ہیں اور غلط فریق کے ساتھ پورے قبیلے کو جوڑ دیتے ہیں ۔ حالانکہ ہونا تو یہ چائیے تھا کہ جو غلط فریق ہے خواہ وہ مانجھیانی سے تعلق رکھتا ہے یا میرخانی سے اس کو غلط کہہ کر قبائل اپنے دست اس پر سے اٹھالیتے ۔ لیکن ہم الٹ کرتے ہیں یعنی جب ایک شخص کی انا کو ہم قبائلی رنگ دیتے ہیں تو مسائل مزید کمپلیکس کا شکار ہو کر کبھی نہ حل ہونے والی جنگ کی شکل اختیار کرتے ہیں ۔ حالیہ تنازعہ میں بھی ایسا ہوا ، جو فریق غلط تھا اس کو لعنت ملامت کرنےکی بجائے پورا قبیلہ ان کے ساتھ کھڑا ہو کر جنگ کو قبائلی شکل دے رہاہے جو کہ سراسر غلط ہے
خیر مانجھیانی قبیلے نے اپنے نعش اٹھائے سڑک پر احتجاج کیا اور گھنٹوں تک تونسہ شاہراہ بند رکھا۔ انتظامیہ کے سامنے جو ڈیمانڈ رکھے گئے وہ درج ذیل ہیں
1۔ میرخانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے بہارخان اور ان کے حامیوں کو فلفورا گرفتار کیا جائے۔
2۔ ایس ایچ اؤ اور پی اےکو معطل کر دیاجائے
3۔ مانجھیانی قبیلے کا فیصلہ انصاف کی بنیاد پر جلد از جلد کیا جائے
4۔ ایف سی بلوچستان یا رینجر جا کر ملزمان کو گرفتار کرنے کے ساتھ ان کے اسلحہ کوضبط کرے
کامیاب مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا ، جس میں یہ کہا گیا کہ رینجر جا کر گرفتاریاں کرے گا۔ا س یقین دھانی پر قبیلے کے معتبرین نے احتجاج ختم کیا اور اپنے علاقوں کی طرف لوٹ گئے ۔
اب ذرا اس مسئلے کو گہرائی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور مسئلے کے روٹ کاز کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
یہ بات تو واضح ہے کہ جس چراہ گاہ کےلیے دو نوجوانوں کی جانیں گئیں اس چراہ گاہ کی حثیث ان نوجوانوں کے جانوں سے زیادہ ہرگز نہ تھی ، لیکن یہ مسئلہ ذاتی انا اور ضد کا بن گیا جو کہ نہ صرف نوجوانون کی زندگی نگل گیا بلکہ اس کے ساتھ جڑے ان کے خاندان کا چراغ بھی گل کر گیا ۔ اس مسئلے میں اور ٹرائیبل ایریا کے زیادہ تر معاملات میں بی ایم پی کا رول ڈسکس کرنا اشد ضروری ہے ۔ اور اس مسئلے کو سمجھنے کےلیے بی ایم پی کے رول کو ڈسکس کیے بغیر ہم ہر گز اس مسئلہ کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔
بی ایم پی یعنی باڈر ملڑی پولیس ٹرائبل ایر یا میں پولیس کا نظام ہے جس کو اس قدر سیاسی کیا جا چکا ہے کہ عام آدمی ان سے کسی قسم کا توقع نہیں رکھ سکتا۔ سردار سمیت متوسط طبقہ کے لوگ بی ایم پی کو اپنے مفاد کےلیے استعمال کرتے ہیں، لوگ انصاف پر ہوتے ہوئے بھی کبھی ان سے انصاف کی توقع نہیں رکھ سکتے ۔ جائیداد کے مسائل پر جب بھی بی ایم پی کو بلایا جاتاہے تو جس فریق کے پاس پیسے اور سورس ہوتا ہے وہ خواہ انصاف پر ہو نہ ہو اس کی پیچھے یہ کھڑی ہوجاتی ہیں۔ جس کے بعد دوسرے فریق کے پاس واحد حل ہتھیار اٹھا کر جنگ کا آپشن بچ جاتاہے کیونکہ عدالتوں کا مہنگا انصاف ٹرائبل ایریا کا غریب ہر گز پورا نہیں کرسکتا۔ بلوچی کچہری کا فیصلہ بھی اب یک طرفہ اور جانبدار ہوچکا ہے وہ بھی مقامی آبادی کو انصاف دلانے میں ناکام ہوچکاہے۔ انہی قبائلی تنازعات کی وجہ سے ٹرائبل ایریا کی بڑی آبادی مائگریشن کرنے پر مجبور ہوگیا ہے جن میں زیادہ تر لوگ ایجوکیٹڈ اور سنجیدہ ہیں ، جو باہر مقامی شہروں میں نوکریاں کر رہے ان سنجیدہ اور میچور لوگوں کے نکلنے سے ان علاقوں میں ایک گیپ پیدا ہوا جسے پھر چور اور ان ایچوکیڈڈ اور تنازعات پھیلانے والے لوگوں نے پر کیا۔ اور تنازعات سنگین صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں ۔
مانجھیانی قبیلے کے حالیہ تنازعے کے بعد باڈرملڑی پولیس ملزم کے گرفتاری میں مکمل ناکام رہا یہ اس بات کاثبوت ہےکہ ان سے انصاف کی توقع نہیں ۔ مقامی آبادی کو انصاف دلانے اور جھگڑوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کےلیے درج ذیل فوری اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے
1۔ مقامی لوگوں اور خصوصا نوجوان نسل کو آگے بڑھ کر ان مسائل کو سرے سے سمجھنے ان کو حل کرنے کےلیے موثر پالیسی سامنے لانے کی اشد ضرورت ہے ۔
2۔ باڈر ملٹری پولیس کو غیر سیاسی کرنا اور اس کے اوپر احتساب کا نظام رائج کرنا چاہیے۔
3۔ نوجوانوں نے سیاسی عمل اور سیاسی تنطیموں کے ذریعے عوامی فلاح کے کاموں کو سامنے لانے کی کوشش کرنی چاہیے
4۔ سردار اور قبائلی معتبرین کو جانب داری چھوڑ کو اپنے فیصلے قومی مفاد کے مطابق کرلینے چاہیے
5۔ مقامی آبادی کو آپس کے جھگڑوں کو جڑ سے ختم کرکے قومی کاز کےلیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
6۔ مقامی ٹیچر ز کو اپنے علاقوں میں واپس لوٹ کر بچوں کو تعلیم کی طرف لانے اور موثر تعلیم دلانی چاہیے

7۔ گورنمنٹ کو اسکول فنکشنل کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کےلیے مخصوص انصاف پر مبنی نظام متعارف کروانا چاہئیے۔
8۔ نوجوانوں کو ٹیکنیکل ایجوکیشن دے کر ان کو پروفیشنل فیلڈ میں لانا چاہیے
9۔ زمینی تنازعات کا فی الفور حل نکالنا چاہیئ
10۔ عوام میں شعور ی تربیت کا کمپین چلانا
اگر نوجوان ، سرادر و معتبرین اور گورنمنٹ سنجیدگی سے ان سب مسائل پر بیٹھ کر سوچیں اور مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کریں تو یقین کریں ہمارے اور نوجوان اس بے بنیاد وبے فائدہ جنگ کےلیے ہر گز قربان نہ ہوں گے اور ہم اپنے نوجوانوں کو ایک بہتر مستقبل دینے میں کامیاب ہوپائیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*