کبیرداس اور بھگتی تحریک

شمالی ہندوستان کی طرف بہار اور بنگال تک بڑی تعداد میں جولاہوں کی بستیان آباد تھیں، جن کا کام کپڑا بننا اوررنگنا تھا ۔ یہ غریب محنتی لوگ تھے جن کی کوئی سماجی حیثیت نہیں تھی بلکہ انہیں نیچ سمجھاجاتا تھا۔بارہویں صدی میں ترک سامراج نے سر اٹھایااور پرتھوی راج کو شکست ہوئی تو جیسے ہندوستان ہل سا گیا۔ 1119 میں قطب الدین ایبک نے بنارس فتح کیا جو ہندودھرم اور جاتیوں کے لئے بیحد مقدس سمجھاجاتا تھا، ابھی بنارس کا زخم ٹھنڈاہی نہیں ہوا تھاکہ محمد بختیار نے بہار شہر کو جلاکر راکھ کا ڈھیر بنا دیا ۔یہی وہ دور تھا جس میںبدھ بھکشوﺅں کا قتل عام کیا گیا، ان کی مقدس کتابیں جلائی گئیں، لائبریریاں نذرِ آتش کی گئیں۔ بچے کھچے بدھ بھکشو تبت اور نیپال کی طرف کوچ کر گئے، بدھ مذہب جو ایک صدی سے بھی زیادہ اس خوشحال سرسبز اور من پسند خطے پر قائم رہا، اب دم توڑ رہا تھا۔ اس کے زوال پذیر ہونے کی وجہ ان کا امن پسند ہونا تھا۔
شمالی اور مشرقی پنجاب کے لوگوں کی بڑی تعدادمسلمان ہوئی، مگراُس کے باوجود طبقاتی فرق قائم رہا ، نیچ اور کم سماجی حیثیت سمجھی جانے والی جاتیاں اور لوگ مسلمان ہو جانے کے باوجودماضی کی طرح طبقاتی اذیت میں رہنے پر مجبور تھے، ان کو برابری کی حیثیت پھر بھی حاصل نہ ہوسکی۔ اس احساس اورتذلیل سے فرار ہی دراصل تصوف اور بھگتی تحریک کا وجود بنا۔ بہت سے لوگوں نے دنیاتیاگ لی اور پہاڑوں اورجنگلوںکا رخ کیا تو کبیر جیسے سادﺅں نے شاعری اور بھجن کی صورت میں آتمن، روح، خودی کے تصور کو بنیاد بنا کرزندگی کی ابتدا کی اور اونچ نیچ کے خلاف کھڑے ہوگئے۔ اونچ نیچ خدا کی دَین ہے، بادشاہ زمین پہ خدا کا نائب ہے اس حاکمانہ تصور کے خلاف مزاہمت پر اتر آئے۔
کبیر داس نے لوگوں سے ان ہی کی زبان میں بات چیت شروع کردی۔ ان ہی کے دکھوںکو لے کربھجن اور گیت گانا شروع کئے۔
کہے کبیر جا جگ کو سمجھا یاسو بار
ما پکڑے پوچھ بھیڑ کی اور اترنا چاہے پار
(انسان کی پھچان بھیڑکی پونچھ)۔
کبیر انسان کو اس سے آگے دیکھناچاہتا ہے، پار جانے کے لئے اپنے دل اور دماغ کو قابو میں رکھناہوگا، تم ہی ہو جو سب میں ہو اور سب تم میںہے ۔ کبیر ہمیشہ اس طرح سوچتا تھا. وہ انسان کو تذلیل کی حالت سے باہر نکالنا چاہتا ہے۔
کبیر 15 صدی کو اس جولاہی گھرپیدا ہوا جو عباسی سامراج کے قائم ہونے کے بعدمسلمان ہوئے، لیکن ان کی زیادہ تر تعلیمات گرو رامانند کے ہا ں ہوئی جس کی وجہ سے ان کے افکار تصوف اور بھگت کی طرف مائل ہوئے۔ لیکن بعد میں ان کی زندگی پر حافظ، عطار، سعدی کا بھی اثر رہا ۔کبیر زندگی کے آخری دن اتر پردیش انڈیا کے شہر مگہر چلے گئے تھے اس شہر کے لئے مشہور کیا گیاکہ جو مگہر میں مرے گا وہ اگلے جنم میں کسی جانور کی صورت لے کر پیدا ہوگا۔ کبیر نے اس جہالت پر اور لوگوں کے بنائے ہوئے مفروضوں کے خلاف فیصلہ کیا کہ وہ مرنے مگہر جائے گا۔ ان کی وہاں وفات ہوئی ۔
آج انڈیا میں ان کے نام پر ادب ،آرٹ ، فلسفہ، تصوف ، بھگتی تحریک ، موسیقی اور ڈانس کے ادارے ہیں جہاں ہزاروں لوگ اُن کی راہ پر چلے جارہے ہیں۔

 

ماہنامہ سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*