دس دسمبر 1948ء: جب انسانوں نے اپنے حقوق کا اعلان کیا

 

‎“یہ زندگی خواہ فاقوں سے لبریز ہے….. مگر آزاد ہے…..اپنے آقا خود آپ ہو….اگر اپنا سر بھی کاٹنا چاہو تو کوئی روکنے والا نہیں…..میں اب یہاں لیٹا آسمان کی طرف دیکھ رہا ہوں…. ستارے میری طرف دیکھ دیکھ کر آنکھیں جھپک رہے ہیں…. معلوم ہوتا ہے وہ مجھ سے کہہ رہے ہیں، کچھ فکر نہ کرو، جاؤ دنیا کی سیاحت کرو مگر دیکھو کسی کی غلامی قبول نہ کرنا…..دل کس قدر مسرور ہے” ( گورکی- مترجم منٹو)
‎دس دسمبر کو انسانی حقوق کا عالمی دن مناتے ہوئے نہ جانے کیوں جی چاہا کہ میکسم گورکی کے یہ الفاظ منٹو کی زبانی قارئین کی نذر کیے جائیں۔ یہ ایک دیوانے کا ایک ایسی کائنات تصور کرنے کا خواب ہی تو ہے جہاں انسان اس آزادی کے ساتھ زندگی کا سفر طے کرے جس کے ساتھ وہ جنم لیتا ہے، کسی بھی شناخت یا پہچان کے لاحقے کے بنا محض ایک انسان!
‎رنگ، نسل، صنف، زبان، مرتبے اور مذہب سے مبرا ایک انسان اور اس کے حقوق! یہ وہ حقوق ہیں جن کا اطلاق اس دنیائے رنگ و بو میں پہلی سانس سے لے کر آخری سانس تک ہر انسان پہ بنا کسی تخصیص و تفریق کے ہوتا ہے۔

‎اقوام متحدہ نے دس دسمبر انیس سو اڑتالیس کو تیس بنیادی انسانی حقوق کی شناخت کرتے ہوئے دنیا بھر کے انسانوں کو آگہی کی اس روشنی سے نوازا تھا۔ اور ایک دلچسپ بات یہ کہ انسانی حقوق کے اعلامیے کا مسودہ مرتب کرنے والی کمیٹی کی سربراہ ایک خاتوں یعنی الینوا روزویلٹ تھی۔ (یاد رہے کہ تب اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی تعداد صرف 63 تھی۔ آج 193 ممالک عالمی برادری کے رکن ہیں۔ گویا صرف 72 برس میں 130 اقوام نے آزادی کی منزل حاصل کی ہے۔)

‎1- سب انسان آزاد پیدا ہوتے ہیں۔ تمام انسان حقوق اور مرتبے میں برابر ہیں۔

‎2-کسی بھی انسان سے جنسی، مذہبی، معاشی، سیاسی، معاشرتی، نسلی بنیاد پہ تعصب نہیں برتا جائے گا۔
‎3-زندگی کو آزادی سے جینے کا حق سب انسانوں کو ہے۔
‎4- کسی بھی قسم کی غلامی قابل قبول نہیں ہو گی۔
‎5-کسی شخص پہ تشدد یا کسی قسم کے غیر انسانی سلوک کی اجازت نہیں ہو گی۔
‎6-  ہر شخص کو قانون تک یکساں رسائی ہو گی۔
‎7-قانون سب کے لئے ایک جیسا ہو گا۔
‎8- قانون سب کو یکساں انصاف فراہم کرے گا۔

‎9-حبس بے جا اور جلاوطنی غیر قانونی سمجھی جائے گی۔
‎10-ہر کسی کو قانون سے مدد مانگنے کا حق ہو گا۔
‎11- ہر انسان جرم ثابت ہونے سے پہلے بے قصور سمجھا جائے گا۔

‎12- شخصی آزادی اور خلوت میں دخل اندازی نہیں کی جائے گی۔
‎13-اندرون ملک نقل وحرکت اور رہائش کی آزادی ہو گی۔
‎14- دوسرے ممالک میں پناہ لینے کی آزادی ہو گی۔
‎15- قومیت اپنانے کی آزادی ہو گی۔
‎16- رشتہ ازدواج میں بندھنے اور خاندان قائم کرنے کی آزادی ہو گی۔
‎17- ملکیت پہ اعتراض نہیں کیا جائے گا۔
‎18- سوچ اور مذہب پہ کوئی پابندی نہیں ہو گی۔
‎19-سوچ کے اظہار کی آزادی ہو گی۔
‎20-  ہر انسان کو پر امن اجتماع میں شرکت اور تنظیم سازی کی آزادی ہو گی۔
‎21- جمہوری نظام میں حصہ لینے کے لئے ہر کوئی آزاد ہو گا۔
‎22- ہر شخص کی حفاظت اور دیکھ بھال ریاست کے ذمہ ہو گی۔
‎23- ہر کسی کو کام کرنے کا حق حاصل ہو گا۔
‎24- کام کے بعد فراغت کا حق بھی تسلیم کیا جائے گا۔
‎25- صحت، روزگار، اور رہائش جیسی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
‎26- تعلیم حاصل کرنے کا حق سب کے لئے ہو گا۔
‎27-  ثقافت اور فنون عالیہ میں حصہ لینے کی آزادی سب کے لئے ہو گی۔
‎28-  ہر کسی کو ایسی اجتماعی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی آزادی ہو گی جو شخصی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں مددگار ہوں۔
‎29- ہر کسی کو ریاستی اور عالمی سطح پر اپنی آزادیوں کے تحفظ کی ضمانت ہو گی۔
‎30- کوئی بھی انسان یا ریاست ان انسانی حقوق کا خاتمہ نہیں کر سکتی۔
‎ہم یہ چارٹر پڑھتے پڑھتے حیرت کے سمندر میں غرق ہوئے جاتے ہیں اور خود سے ہم کلامی کرتے ہوئے پوچھا کرتے ہیں، کیا اقوام متحدہ نے جو اصول و ضوابط بہتر (72) برس پہلے وضع کیے، وہ محض قلم کی روشنائی اور کاغذ کا زیاں نکلے؟
‎دنیا بھر میں نظر دوڑا لیجیے، وہ کونسا خطہ ہے جہاں انسان ایک دوسرے انسان کے ہاتھوں مضروب نہیں ہوا؟
‎کیا آج کوئی ایسی زمین کی خبر رکھتا ہے جہاں کسی انسان کا استحصال کسی دوسرے کے ہاتھوں نہ ہو رہا ہو؟
‎رنگ اور نسل کی بنیاد پہ حق تلفی تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، لیکن کیا پچاس فیصد آبادی کو زندگی کے بنیادی دھارے میں شامل ہونے کی اجازت دی گئی؟ کیا عورت کو صلاحیت و عقل و دانش کی بنیاد پہ مرد جیسا انسان سمجھا گیا؟ صدیوں سے موجود صنفی امتیاز کو مٹانے کی کتنی کوشش کی گئی؟
‎حقیقت یہ ہے کہ دولت کی ریل پیل سے تخلیق کردہ جدید دنیا ہو یا جہالت و غربت کے تانے بانے میں جکڑی قومیں، مساوات، محبت، عزت اور انصاف کا وجود عنقا ہی معلوم ہوتا ہے۔
‎طاقت کی بنیاد پہ ترتیب دیے ہوۓ پدرسری نظام نے کسی ہشت پا کی مانند ہر معاشرے کو جکڑ رکھا ہے۔ نتیجتاً دنیا ابھی تک یہی تعین نہیں کر پائی کہ انسانی حقوق کے چارٹر میں عورت ایک انسان کا مرتبہ رکھتی ہے اور ان سب حقوق پہ رسائی کے لئے اسے کسی کے دست شفقت یا اقرار نامے کی ضرورت نہیں۔
‎دنیا سے کیا گلہ کریں، ہم تو عرق ندامت میں خود ہی غرق ہوئے جاتے ہیں جب ہم صنفی مساوات کی بنیاد پہ بنی فہرست میں اپنے ملک کو 153 میں سے 151 نمبر پہ دیکھتے ہیں۔ کیا کہنے ہیں ہمارے کہ دنیا بھر میں محض یمن اور عراق کو پچھاڑنے میں کامیاب ٹھہرے ہیں۔ ہم سے الگ ہو جانے والا بنگلہ دیش تک اس دوڑ میں ہم سے آگے نکل چکا ہے۔ آج ہی کے روز نامہ ڈان میں شائع ہونے والی اس رپورٹ پر ایک نظر ڈال لیجئے
https://www.dawn.com/news/1522778
‎کیا کیجیے اس سفر میں ہمارا رخ ازمنہ قدیم کی طرف نظر آتا ہے۔ اکیسویں صدی میں گیارہ کروڑ انسانوں کو معاشرے میں فعال بنا کے معاشی گراف اونچا کرنے کی بجائے چاردیواری میں مقید مخلوق کی ملکیت کا احساس ہماری مصنوعی انا کو مہمیز کرتا ہے۔
‎صدیوں سے رگوں میں اتارے گئے اس زہر ہلاہل کا تریاق اور کچھ نہیں سوائے اس کے کہ عالمی یوم انسانی حقوق پہ عورت کو انسان سمجھنے کی ابتدا کیجیے۔ شاید آنے والے برسوں میں ہم انسانی حقوق کی نچلی سیڑھی سے ایک زینہ اوپر اٹھ سکیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*